کتب خانہLibrary

← اسلامی ریاستی جدوجہد کی لازمیت

اسلامی ریاستی جدوجہد کی لازمیت31012022.docxڈاؤن لوڈ

اسلامی ریاستی جدوجہد کی لازمیت

مخلصین دین کی اکثریت اسلامی ریاستی جدوجہد سے پہلو تہی کرتی ہے۔ مخلصین دین اور بیش تر علمائے کرام ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم ریاستی کشملش میں اسلام کو ایک فریق بنا کر اصلاحی پیش رفت میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ سامراج ،"انتہاپسند" ان لوگوں کو کہتا ہے جو ریاستی ترتیب نو کی جدوجہد کر رہے ہیں اور مخلصین دین اور علمائے کرام کی اکثریت اپنے معاشرتی عمل سے سامراج کی بیان کردہ اس تعریف کی تصدیق کرتے ہیں۔ بلاشبہ ہم اسلامی خطوط پر ریاستی ترتیب نو کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد کو تحفظ اور غلبہ دین کے لیے لازمی تصور کرتے ہیں۔

یہاں ہم نے بھی وہ جرم کیا جو نبیوں نے ایجاد کیا

, ہاں ہم اقرار ی مجرم ہیں

اس مضمون میں میں اسلامی بنیادوں پر ریاستی مداخلت کی توجیہ بیان کروں گا تاکہ علما اور مخلصین دین کی غلط فہمیاں رفع ہوں اور وہ اسلامی ریاستی جدوجہد کے پشت پناہ بن جائیں۔

مخلصین دین کے اعتراضات

مخلصین دین کے مطابق ریاستی ترتیب نو کی ضرورت نہیں کیوں کہ دور حاضر کی لبرل اور قوم پرست ریاستیں وافر مقدار میں دین پر انفرادی زندگی میں عمل کرنے اور اشاعت و تبلیغ دین کی سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔ یہ بات صرف پاکستان کے لیے نہیں امریکا کے لیے بھی درست سمجھی جاتی ہے۔

ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ اہل دین اپنی انفرادی اور اجتماعی اصلاحی اور تبلیغی سرگرمیاں دہریہ قانون اور دستور کی بالادستی کو قبول کرتےہوئے ہی مرتب کریں جیسے جیسے انفرادی اصلاح ہو گی اور تبلیغ اور تعلیم کا دائرہ وسیع ہو گا ویسے ویسے اسلامی معاشرت فروغ پائے گی۔ علما اور مخلصین دین کی اکثریت کی رائے میں دہریہ قانون اور دستور ایک ایسا غیر جانب دار اور غیر اقداری (value neutral)نظاماتی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جہاں اسلامی انفرادیت اور اسلامی معاشرت کے پھلنے پھولنے کے امکانات وافر ہیں۔ پھر پاکستان تو ایک اسلامی جمہوریہ ہے دستور میں قرار داد دمقاصد شامل ہے۔ یہاں ریاستی تغیر کی جدوجہد کی کیا ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ علمائے کرام یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ تاریخ اسلامی میں جمہور علما نے ریاستی مداخلت سے گریز کیا اور تمام تر توجہ دعوت اور تبلیغ پر مرکوز رکھی۔ اس کے نتیجہ میں یعنی ریاست سے عدم نبرد آزمائی کے نتیجہ میں اسلامی معاشرت اور انفرادیت فروغ پائی اور وقیع فکری کام ہو سکا۔ ریاست سے تصادم کی صورت میں ایسا نہ ہو سکتا تھا۔

ہمارا موقف

ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہ سرمایہ داری کے تغلب کا دور ہے۔ سرمایہ داری ایک نظاماتی کلیت(systematic totality) ہے اس نے تاریخ میں ایک مخصوص انفرادیت، معاشرت اور ریاست قائم کی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں انفرادیت، معاشرت اور ریاستی عمل کو مربوط کرنے والی قوت تحکم قانون سرمایہ ہے۔ اس نظاماتی کلیت میں معاشرہ اور ریاست علیحدہ اکائیاں نہیں بلکہ تحکم قانون سرمای اور تنظیم سرمایہ دارانہ ملکیت کے ذریعہ ایک دوسرے میں پیوست ہوتی چلی جاتی ہیں۔

اس پیوستگی کے نتیجہ میں مذہبی انفرادیت اور معاشرت لازماً سرمایہ دارانہ نظم اقتدار میں ضم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یورپ ، امریکا اور بھارت فراہم کرتے ہیں جہاں عیسائیت اور ہندومت کو کلیتاً سرمایہ دارانہ اقتداری نظام میں ضم کر لیا گیا ہے۔ مذہبی افراد اپنے اقدار کا اظہار ذاتی زندگی تک محدود کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ زر اور سود اور سٹہ کے بازاروں (financial markets)کا اقتصادی تحکم قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ سرمایہ دارانہ تعقل (rationality)کی عمومیت اسلامی علمیت کے دائرہ تنفیذ کو سکیڑتی رہتی ہے۔ سرمایہ دارانہ انتظامیہ (administration)کی آہنی گرفت معاشرتی عمل کو جکڑ لیتی ہے۔

پھر کوئی بھی سرمایہ دارانہ ریاست خود مختار نہیں ہوتی۔ سب سرمایہ کی آلہ کار ہوتی ہیں۔ پاکستان کو خود مختار کہنا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ یہاں 1947ء سے وہی ریاستی نظام نافذ العمل ہے جو لارڈ منٹو اور مارلے نے 1909ء میں ہندوستان کے لیے وضع کیا تھا۔ 1947ء سے لے کر آج تک پاکستان کی ہر حکومت سامراج کی باج گزار رہی ہے اور 2022ء میں تو آئی ایم ایف کی نظاماتی بالادستی کو قانونی طور پر بھی قبول کر لیا گیا۔ پاکستانی حکمران سامراج کے ادنیٰ غلام ہیں۔

ناحق ان مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی

سرمایہ دارانہ ریاست اور سامراج کے غلبہ سے قائم شدہ ریاستوں کو اسلامی سطلنتوں کے مماثل سمجھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں۔ امام عالی مقام اور حضرت عبداللہ بن زبیر کے خروج کے نتیجہ میں چار سو سال تک تسلسل کے ساتھ اسلامی حکومت قائم رہی ہے۔ اسلامی حکومت کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہاں شرع نافذ ہوتی ہے اور تمام اجتماعی فیصلے علوم اسلامی کی ہدایت کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ خلافت راشدہ سے لے کر سقوط سلطنت عثمانیہ تک جتنی بھی اور جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی وہاں شرع نافذ رہی اور تحکم اسلامی علوم کے تابع رہا۔

اسلامی حکومت وہ فصیل ہے جو اسلامی انفرادیت اور معاشرت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کھڑی کی جاتی ہے۔ اگر یہ فصیل گر جائے تو تمام دعوتی اور اصلاحی کام غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہماری تاریخ میں یہ فصیل عموماً مستحکم رہی ہے اس وجہ سے علما اور ائمہ (رحمہم اللہ اجمعین) نے اپنی توجہ دعوت، تعلیم اور تبلیغ پر مرکوز کیے رکھی جب یہ فصیل کمزور پڑی تو خروج برپا ہوا۔

اسلامی تاریخ میں ریاستی تغیر کی یہ جدوجہد ایک درخشاں باب ہے۔ اس جدوجہد میں امام عالی مقام، حضرت عبداللہ بن زبیر، امام ابوحنیفہ اور مجدد الف ثانی رحمہم اللہ اجمعین کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ صالح سلاطین نے اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالا جس کی مثالیں امام ابن خلدون نے ”مقدمہ“ میں کئی جگہ دی ہیں۔ برصغیر میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کے خلاف مجدد الف ثانی نے جہانگیر کے خلاف، علاؤالدین خلجی نے اپنے چچا کے خلاف اور امام عالم گیر نے شاہ جہاں اور دارا شکوہ ملعون کے خلاف اسلامی خروجی اقدامات کیے۔ ان میں کسی خروج کو بھی جمہور علما نے ناجائز قرار نہ دیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علاؤ الدین کے اور شاہ عبدالرحیم (شاہ ولی اللہ کے والد) امام اورنگ زیب کے مداحوں میں شامل ہیں۔

ہم سرمایہ دارانہ ریاست کے انہدام کی جدوجہد کرتے رہیں گے کیوں کہ کوئی سرمایہ دارانہ ریاست نہ شرع نافذ کر سکتی ہے نہ علوم اسلامی کی تحکیمی اور تعقلی بالادستی کو قبول کر سکتی ہے۔ یہ مخلصین دین کو بے بس ، لاچار اور بے اختیار بنائے رکھتی ہے اور فطرتاً ایک سرمایہ دارانہ نظام اقتدار دین بیزار اور اسلام دشمن ہوتا ہے۔ اس نظام کی اصلاح ممکن نہیں کیوں کہ اس کی قوت متحرکہ سرمایہ کی نظاماتی بالادستی ہے اور یہ سامراجی تحکم کو مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

دشمن سے دشمنی تو مری جان فرض ہے

جب تک قصاص مہدی سوڈان قرض ہے

علما کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم ریاستی جدوجہد انفرادی اصلاح اور معاشرتی دعوت کے کام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی کر رہے ہیں۔