کتب خانہLibrary

← اظہار رائے کی آزادی

اظہار رائے کی آزادی.docxڈاؤن لوڈ

آزادئ اظہارِ رائے- ایک سرامایہ دارانہ ہتھیار۔۔۔۔۔ جاویداکبر انصاری

فرانسیسی صدر میکرون آج آزادئ رائے کے تقدس کی دہائی دے رہا ہے۔ آج آزادئ رائے کے تصور اس کے تاریخی مقدمہ کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظاماتی جبرکا جواز (legitimacy) بڑی حد تک اس ہی آزادئ اظہارِ رائے سے برآمد ہوتی ہے۔ میں اس مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ ہم اسلامی انقلابی حقِ آزادئ اظہارِ رائے کے کیوں مخالف ہیں۔

تصورِ آزادی

آزادی بحیثیت ایک سماجی تصور سترھویں صدی یورپ کی پیداوار ہے۔ اس سماجی تصور کا مطلب ہے نفس امارہ کی غلامی یعنی نفس پر حرص و ہوس، شہوت اور غضب کا غلبہ۔ بقول امانویل کاٹ ایک آزاد فرد خود انحصاری (autonomous) اور خود تخلیقی (self-determined) ہوتا ہے۔ وہ ہدایت صرف اپنے نفس امارہ کے احکامات کی قبول کرتا ہے اور کسی غیرانسانی سرچشمہ ہدایت کو قبول نہیں کرتا۔ وہ لاالہ الا انسان کے کلمہ خبیثہ پر ایمان لے آتا ہے۔ یہی جاہلیت خالصہ ہے۔

اور یہی سرمایہ داری کی روحانیت ہے۔ سرمایہ حرص و ہوس کی تجسیم (concrete form) ہے۔ سرمایہ وہ مادی ذریعہ ہے جس سے نفس امارہ کے احکام کی غیر مشروط تعمیل کی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ روحانیت ایک مخصوص انفرادیت پیدا کرتی ہے۔ اس انفرادیت کو سٹیزن شپ کہتے ہیں۔

سٹیزن ایک ریپبلک بناتا ہے۔ اس میں وہ قانون سازی کے ذریعہ سرمایہ (نفس امارہ کے احکامات) کی حکمرانی کو دستور کے ذریعہ وضع کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کے قیام، استحکام اور کارفرمائی کو ممکن بنانے کے لیے دستور سٹیزن کو جو قانونی ذرائع فراہم کرتا ہے وہ حقوق انسانی ہیں۔

تصورِ حقوق انسانی

حقوق انسانی (ہیومن رائٹس) کا تصور بھی سترھویں صدی میں یورپ میں پیدا ہوا۔ اس تصور کے دو کلیدی مفکر ہیں۔ ژاں ژاک روسو اور جان لاک۔ حقوق انسانی کا تصور سرمایہ دارانہ ملکیت (capitalist property) کے تصور سے پیوست ہے جس کی سب سے واضح تشریح لاک کے ہاں ملتی ہے۔

سرمایہ دارانہ ملکیت کے تصور کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کا مالک ہے اور اس جسم کا واحد معقول (rational) مقصد پیداواری عمل (productive labour) کو جاری رکھنا ہے۔ بقول لاک ملکیت (property) کی تین حیتیں(forms) ہیں جان، مال اور رائے (life (labour), estate and opinion )۔ تینوں کے استعمال کا واحد جائز (legimate )اور معقول (rational)مقصد بڑھوتری سرمایہ کا ذریعہ بننا ہے۔

یہی ہیومنٹی کی تعریف ہے۔ ہیومن بینگ وہ ہے جو اپنی جان، مال اور رائے کو بڑھوتری سرمایہ کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ اس کو سرمایہ دارانہ ریاست انسانی حقوق (human rights)بخشتی ہے۔ جو انسان ایسا نہیں کرتا وہ ہیومن بینگ نہیں اور اس کو انسانی حقوق سے محروم کرنا سرمایہ دارانہ ریاست کا فرض ہے۔ اس ہی دلیل کی بنیاد پر لاک نے اسّی ملین امریکی قدیم باشندوں کے قتل عام اور ایک پورے براعظم کی لوٹ مار کا جواز پیش کیا اور جارج واشنگٹن نے کہا ”سرخ ہندی انسان نہیں بھیڑیے ہیں“۔

تصورِ حق اظہارِ رائے

حقوق انسانی تین ہیں: حق مال، حق تحفظ جان، حق اظہارِ رائے تینوں نوعیت کے حقوق کی فراہمی کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کی حاکمیت (Republic)کو قائم رکھنا ہے اور تمام سرمایہ دارانہ ریاستیں -لبرل، اشتراکی اور استبدادی- ان حقوق کو تسلیم کرتی ہیں۔

تاریخی طور پر حق اظہارِ رائے وہ ہتھیار ہے جو فرانس، برطانیہ اور امریکا میں پہلی مرتبہ مذہبی ریاستی نظام کو منہدم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے سب سے بڑے وکیل فرانسیسی encyclopaedists تھے اور امریکی دستور سازوں ہیملٹن، میڈیسن اور جیفرسن نے بھی اس کی پرزور تائید کی۔ دونوں گروہوں کا مقصد ایک دہریہ (سیکولر) ریاستی نظام کا جواز فراہم کرنا تھا۔ ایک ایسا ریاستی نظام جہاں دستور کتاب اللہ (انجیل مقدس) کی جگہ لے لے اور جہاں کے اجتماعی فیصلہ سازی کے عمل (public sphare)میں مذہبی مداخلت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے بلکہ تمام اجتماعی معاملات احکامت نفوس امارہ کے تناظر کی تعمیل کے طور پر مرتب کیے جائیں۔

دوسرے لفظوں میں آزادی اظہار رائے کا حق مذہبی سیاسی احکامات کی تردید کا جواز فراہم کرتا ہے اور اس عمل کا ثبوت فرانسیسی انقلاب کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس انقلاب کے اوائل میں عیسائیت کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ کلیسا کی تمام املاک پر قبضہ کر لیا گیا۔ ہزاروں عیسائی راہبوں کو قتل کر دیا گیا اور ہزاروں راہباؤں(nuns) کی بے حرمتی کر کے ان کو در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہی عمل سوویت روس میں آرتھوڈاکس (orthodox) کلیسا کو کچلنے کے لیے دہرایا گیا اور آج مشرقی ترکستان میں چینی کمیونسٹ مسلمانوں کی نسل کشی آزادی اظہار رائے کو فروغ دینے کے لیے ہی کر رہے ہیں۔

آزادی اظہار رائے کی فراہمی کا واحد مقصد یہ ہے کہ معاشرت کو اطاعت الٰہی سے محروم کر دیا جائے۔ وہ ایک خبیث اور ذلیل طرز زندگی تعمیر کرتا ہے۔ یہ خبیث اور ذلیل طرز زندگی شیطانی روحانیت کا پرتو ہوتی ہے۔ اس پوری معاشرت پر شہوت اور غضب چھا جاتے ہیں۔ سرکاری سرپرستی میں عیاشی، فحاشی، دروغ گوئی، مکاری، حرام خوری خوب پھلتی پھولتی ہیں۔

ریاستی نظام کو مذہبی ہدایت سے محروم کرنے میں میڈیا اور تفریحی صنعت کو بڑھوتری سرمایہ کا اہم ترین مرکز بنا دیا جاتا ہے۔ جاہلی علمیت (سائنس اور سوشل سائنسز) کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حقیقت کچھ نہیں محض تجربہ اور رائے مختلف حقیقتیں تعمیر کرتے بھی رہتے ہیں اور جھٹلاتے بھی رہتے ہیں۔ بقول پاپر حقیقت صرف وہ ہے جو جھٹلائی جا سکے۔

آج اسی آزادی رائے کی فراہمی کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ معاشرت میں اغلام بازی ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ہم جنس پرستی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ بیش تر سرمایہ دارانہ ممالک میں ہم جنس شادیوں کو دستوری قانونی تحفظ حاصل ہے۔ باراک اوباما اپنے پورے دورِ صدارت میں ہم جنس پرستی کی تبلیغ پوری دنیا میں کرتا پھرتا رہا۔ ۵۱۰۲ میں پوپ فرانسس نے ایک ہم جنس پرست سے کہا ”خدا نے تمہیں ایسا ہی بنایا ہے میں تجھے ہم جنس پرستی سے روکنے والا کون ہوتا ہوں“۔

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم

گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیم

حق آزادی رائے کی اسلامی مخالفت

ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ اس دور میں ہمارے ہی ہاتھ میں چوبِ کلیم ہے۔ چاہے اس کام میں صدیاں لگ جائیں لیکن ہم سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم آزادی کو بحیثیت ایک سیاسی عقیدہ کے ردّ کرتے ہیں۔ ہماری قدیم سیاسی فکر میں یہ تصور خدا سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ ہم حقوق انسانی کو حرص و ہوس کے نظاماتی غلبہ کا ذریعہ گردانتے ہیں۔ ہم شیطان کی پرستش نہیں کرتے۔ ہم ہر قسم کی دہریت(سیکولرازم) کے ازلی اور ابدی مخالف ہیں۔ ہم ریاستی نظام سے دہریت کو کلیتہً خارج کرنے کے خواہاں ہیں اور اجتماعی امور (public sphare)میں مذہبی حاکمیت کے غلبہ (exclusive dominance) کو قائم کرنے کی جستجو کر رہے ہیں۔

ہماری ریاست میں آزادی اظہار رائے کی کوئی گنجائش نہ ہو گی کیونکہ آزادی رائے کا حق رائے کو سرمایہ دارانہ ملکیت کا جزو تصور کرتی ہے اور اس کے استعمال کا تاریخی مقصد سرمایہ کی بڑھوتری ہی رہا ہے۔ اس حق کی فراہمی کے نتیجہ میں ریاستی /سیاسی سطح پر اطاعت خداوندی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ دستور کتاب اللہ کو معطل کردیتا ہے۔ الٰہی ہدایت کا دائرہ کار انفرادی زندگی تک سکڑ جاتا ہے۔ اقتدار دہریوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتا ہے اور ان کے نمایندے قانون ساز بن بیٹھتے ہیں۔

معاشرہ غلیظ اور ناپاک ہو جاتا ہے۔ شہوت اور غضب کے ابلیسی رجحانات معاشرتی نظام اور انفرادی طرز زندگی پر حاوی آ جاتے ہیں اور سرمایہ دارانہ سامراج کا غلبہ انفرادی زندگی میں بھی اطاعت الٰہی کو مشکل سے مشکل تر بناتا جاتا ہے۔

گو فکر خداداد سے روشن ہے زمانہ

آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

ہماری ریاست حقوق العباد کی ضمانت دے گی۔ حقوق انسانی (human rights) کو معطل کر دے گی۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کو مسخر کر دے گی۔ جو خدا کا عابد نہیں وہ خدا کا باغی ہے۔ ہم ان باغیوں کے خلاف رزم گاہ حیات کے ہر مورچہ پر چومکھی لڑائی جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

یہ جنگ رہے گی جاری

آتی ہے ہماری باری

یہ مضمون ”مغرب جاہلیت خالصہ ہے“ کے اجتہاد بالخصوص ”اسلام اور جاہلیت“ کی ایک ابتدائی تشریح ہے۔