کتب خانہLibrary

← کی عوامی مزاحمتی تحریکیں اور اسلامی انقلابی جدوجہد

کی عوامی مزاحمتی تحریکیں اور اسلامی انقلابی جدوجہد.docxڈاؤن لوڈ

۲۰۱۹کی عوامی مزاحمتی تحریکیں اور اسلامی انقلابی جدوجہد

۲۰۱۹اور اس سے کچھ پہلے سے کئی سرمایہ دارانہ ممالک ۔فرانس ،ہانگ کانگ ،چلی ،عراق ،سوڈان ،لبنان Caledoniaمیں عوامی مزاحمتیں جاری ہیں ۔یہ تحاریک کم از کم وقتی طورپر سرمایہ دارانہ نظام تحکم کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں ۔دورحاضر میں غلبہ دین کی جدوجہد کا نہایت اہم حدف سرمایہ دارانہ نظامتی انہدام ہے لہذا اسلامی انقلابیوں کے لئے ان مزاحمتی تحاریک کا مطالع نہایت ضروری ہے ۔

اس مضمون میں اختصار کے ساتھ ان تحاریک کی نمایاں خصوصیات بیان کرکے ان اسباق کی نشاندہی کروں گا جوان کے مطالع سے ہمیں حاصل ہوسکتے ہیں ۔

ان مزاحمتی تحریکوں کی خصوصیات: یہ تحاریک بھی مخصوص سرمایہ دارانہ ظلم کے ا ظہار کا رد عم کے طورپر ظاہرہوتی ہیں۔سرمایہ دارانہ ظلم یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ تحکم کے محکوم ہرفرد citizenکو اپنی تمام نفسانی خواہشات کے پورے کرنے کے مساوی مواقع اور حقوق نہ فراہم کئے جائیں ۔سرمایہ دارنہ معاشروں (civil society) میں اپنے "مظلومین" کی بہت بڑی اکثریت ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔

یہ "مظلومین "تمام حالات میں سرمایہ دارانہ ظلم برداشت کرتے رہتے ہیں لیکن ان میں ایسے جتھے ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو عوام کو ظلم کے خلاف مزاحمت پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔دھیرے دھیرے سرمایہ دارانہ حقوق اور وسائل سے محرومی کا احساس بڑھتا چلاجاتاہے اور یکایک "مظلومین "سرمایہ دارانہ نظامتی جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

لاوا پھٹنے کا وقت کب آتا ہے اس کی پیشن گوئی آج تک کوئی نہیں کرسکا۔یہ بات روس کے ۱۹۱۷ کے بوکشیوک سے لیکر آج کے فرانس کے Giles Janus انقلااب کے بارے مین صادق آتی ہے ۔مزاحمت حکومت کے کسی ظاہراً غیر اہم اقدام –فرانس میں تیل اور گیس پر ٹیکس میں معمولی اضافہ ،ہانگ کانگ میں معمولی قانونی ترمیم کے خلاف چھوٹے پیمانے پر برپا ہوتی ہے اور عموماً مبینہ انقلابی گروہ ٹریڈیونین اور کیمونسٹ پارٹی اس کا ساتھ میں رہتیں ،

ان "انقلابیوں" کی توقعات کے برخلاف مزاحمتی تحاریک جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی جاتی ہیں اور "مظلومین " کے مطالبات وسیع سے وسیع ہوتے چلے جاتے ہیں ۔مثلاً فرانس کی تحریک جو محض توانائی کے ٹیکسوں کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئی آج میکرون کی برطرفی،دولت کے ٹیک(wealth tax) کے اجراء عوامی استصواب رائے (referendum) پینشنوں میں اضافہ وغیرہ کا مطالبہ کررہی ہے ۔اس ہی طرح ہانگ کانگ کی تحریک ایک قانون کی تنسیخ سے بڑھ کر آج ہانگ کانگ کی چین سے مکمل آزادی کی طالب ہے ۔

یہ تحریکیں دیرپا ہوتی ہیں۔فرانس اور ہانگ کانگ دونوں جگہ دوسال سے ذیادہ کا عرصہ جاری ہیں اور اپنی کامیابی کے عدم امکان کو سہارنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔مزاحمتی کارکن بہت بڑے پیمانے پر قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔عراق میں تقریباً ۴۰۰مظاہرین کو قتل کیاجاچکا ہے ۔فرانس کی پولیس بہیمانہ تشدد پر اتر آئی ہے Caledonia میں ہزاروں کارکن مقید ہیں اور پوری قیادت عمر قید کی سزابرداشت کررہی ہے ۔

لیکن مزاحمتی عمل جاری ہے ۔ان تحاریک میں شامل ایک ایسی اکثریت کی ہے جو ماضی میں مزاحمتی عمل سے لاتعلق رہتی تھی ۔اس میں چھوٹے دکاندار ،طالب علم اور پچھلے درجے کے ماہرین(ڈاکٹر،انجینئر ،وکیل) شامل ہیں اور قیادت انہی افراد کے ہاتھ میں ہے اور گوکہ منظم مزدوروں ،ہاریوں اور مستضعفین کی شرکت مزاحمت میں برائے نام ہے لیکن تحریک کی عوامی مقبولیت تمام حلقوں میں بڑھتی جارہی ہے ۔

یہ تحریکیں دستوری تناظر ہی میں برپا کی جاتی ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے یہ دستوری جکڑ بندیوں کو پھلانگ جاتی ہیں اور ریاستی جبران کو ہتھیار اٹھانے میں عسکری مزاحمت پھیل رہی ہے اور Caledoniaکی زیر زمین مزاحمتی قیادت بھی عسکری جدوجہد کی تیاری کررہی ہے ۔

نظریاتی اعتبار سے یہ تحریکیں لبرل ہیں گوکہ ا میں انار کزم(فرانس ) اور قوم پرستی (Caledonia،سوڈان) کے رحجانات بھی شامل ہیں ۔یہ ایک ایسے سرمایہ دارانہ انقلاب کی جدوجہد ہیں جس میں سرمایہ دارانہ حقوق اور وسائل کی تقسیم ذیادہ منصفانہ ہو اور سٹیزن کو اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ذیادہ مساوی مواقع فراہم کئے جائیں ۔ان کے حتمی مطالبات جمہوری نظام میں نمائندگی (representation) کےعمل کو وسعت دیکر سرمایہ دارانہ حقوق کی عمومی فراہمی کے علاوہ اور کچھ نہیں لہذا اس نوعیت کی جدوجہد کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظام اپنی وقتی کمزوریوں پر قابو پاکر تربیتی تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کئی جگہ (ہانگ کانگ ،لبنان ،سوڈان) میں ان تحاریک کی پشت پناہ سامراجی قوتیں ہوتی ہیں

اسلامی انقلابی جدوجہد : ہم اسلامی انقلابی ہیں ہم سرمایہ داری کو جاہلیت خالصہ گردانتے ہیں اور اس کے مکمل انہدام کی جدوجہد اس وقت سے کررہے ہیں جب برصغیر میں سرمایہ دارانہ تحکم قائم ہوا ۔انقلابی جدوجہد کئی مراحل سے گزر چکی ہے اور چونکہ انہدام سرمایہ داری کا عمل طویل المدت ہے لہذا نت نئے مراحل سے گرزرتی رہے گی ۔ہم حقیت پسند ہیں تصوراتی (idealist)نہیں ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ انقلابی وقتی یعنی اسلامی ریاست کا قیام بتدریج معاشرتی اور تحکیمی تغیرات کے نتیجہ میں برپا ہوتا جاتا ہے ۔ان معاشرتی تحکیمی تغیرات پر بڑی حد تک اسلامی انقلابیوں کی کوئی گرفت نہیں ہوتی ۔اسلامی انقلابی عمل ان تغیرات سے فائدہ تو اٹھا سکتاہے ان کو مہمیز تو دے سکتا ہے لیکن ان کو ظہور نہیں دے سکتا ۔

انقلابی ماحول کب پیدا ہوگا اس کا نہ پہلے سے تعین کیا جاسکتا ہے نہ اسلامی انقلابی قوتیں انقلابی ماحول برپا کرسکتے ہیں (mequinuاور Aldershot) کی تحقیق کے مطابق انقلابی ماحول سے مراد یہ ہے کہ کئی ممالک کے دوفیصد عوام ( یعنی پاکستان میں تقریباً ۴۲لاکھ افراد انقلابی قوتوں کے موید اور ہم نوا بن جائیں ۔لبرل مزاحمتی تحریکوں کی اس درجہ کی حمایت طویل عرصہ تک میسر رہی ہے ۔

سرمایہ دارانہ مزاحمتی تحریکوں سے اسلامی انقلابی فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور اخوان کو ۲۱۲،۲۱۱ء میں اس کا وسیع تجربہ ہے ۔اخوان کی اس ناکامی کی وجوہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ عرب کی عوامی تحریک کے درمیان ہم اپنی اساسی انفرادیت برقرار نہ رکھ سکے ۔عوامی مزاحمت پر لبرل ،اشتراکی اور قوم پرست معاشرتی اور سیاسی رنگ غالب آگیا اور ہم اس ہی دہری (secular) ماحول میں ضم ہوگئے ۔جب ہم نے اسلامی حکومت قائم کی (اور اسلامی حکومت کا قیام اسلامی ریاست کی تعمیر کا محض ایک مرحلہ ہے) تو دہریوں نے فوج اور سامراج اور سعودی عرب کی مدد ہمارے ہزاروں کارکنوں کو شہید کردیا اور عوام خاموش رہے ۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ مصری عوام اسلامی عصبیت سے سرشار نہ تھے ۔مزاحمت سے قبل اور اس اس کے دوران ہم عوام کو یہ باور نہ کرسکے کہ ان کی روز مرہ کی تکالیت سرمایہ دارانہ عدل کی عدم موجودگی نہیں اسلامی نظام اور طرز حیات سے انحراف ہے ہمارے اور دہریوں کے معاشرتی اقتصادی اور سیاسی ایجنڈہ میں کوئی نمایاں فرق نہ تھا ۔

ہماری اس ناکامی کے سبب مصر میں اتحاد اسلامی کا فقدان رہا بہت سے مبینہ اسلامی گروہوں نے اخوان کا عسکری مقابلہ کیا ۔بہت سے دہریوں کے آلہ کار بن گئے اور مسلمانوں کا سواد عا اس کشمکش مکمل لاتعلقی کا رویہ اختیار کیا ۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم مخلصین دین کو منظم نہ کرسکے مزاحمت کے دوران اقتداری قوت مصری فوج اور نوکر شاہی کے ہاتھ سے نکل کر مخلصین دین کی عوامی صفبندی کی طرف منتقل نہ ہوئی اور جب دہریوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم بالکل بے بس ،لاچار اور نہتے تھے ۔

ان تجربات سے ہمیں حزب ذیل سبق حاصل کرنے چاہیئں ۔

۱۔ہمیں ہراس جدوجہد کا ساتھ دینا چاہئے جو کسی سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف برپا کی جائے کیونکہ یہ جدوجہد لامحالہ وقتی طور پر سرمایہ دارانہ نظاماتی جدوجہد کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے ۔

۲۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ مزاحمت کی قیادت اسلامی ہو جیسے تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں میاں طفیل اور شاہ نورانی ؒ کی قیادت اور حالیہ آزادی مارچ مین مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت

۳۔ ہمیں مزاحمت کے دوران اپنی اساسی انفرادیت کو اجاگر کرنا چاہئے اور دہریہ گروہوں کی legal tenancy کو مستقل چیلنج کرتے رہنا چاہئے ۔یہ دہریہ گروہ عموماًایک قلیل اکثریت ہوتے ہیں (پاکستان میں ) اور ان کی مقبولیت کی بنیاد ان کی مواصلاتی دسترس پر منحصر ہوتا ہے۔دہریہ مواصلاتی نظام کو تتربتر کرنا ہمارے اہداف میں شامل ہونا چاہئے ۔

۴۔مزاحمت کا ثقافتی رنگ خالص اسلامی ہو دھرنوں اور مظاہروں میں نماز باجماعت کا خصوصی انتظام ہو ۔تلاوت قرآن مجید (فائق کا بیان اور سعی کی محافل مستقل جاری رہیں۔اس کی بہترین مثال تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نومبر ۲۰۱۷ کی مزاحمت فراہم کرتی ہے جس میں پیران طریقت نے بڑے پیمانہ پر شرکت کی اور ماحول روحانی جزباتیت سے لبریز تھا ہر نماز کی امامت حضرت مولانا خادم حسین رضوی نے فرمائی اپنی معذوری کے باوجود)

۵۔اس بات کا احساس شروع ہی سے ہونا چاہئے کہ مزاحمت کسی نہ کسی مرحلہ میں دستوری جکڑ بندیوں کو لازماً چیلنج کرے گی ۔ان جکڑ بندیوں کو ڈھیلا کرنا مزاحمت کی کامیابی کا ضامن ہے ۔حکومت کی حفیہ ایجنسیاں دستور اور قانون کے ماورا ہی کارفرما رہتی ہیں (صرف پاکستان ہی میں نہیں امریکہ تک میں یہ ب بات درست ہے ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دستوری جکڑبندیوں کو ڈھیلا کرنے کو برداشت کرنے کو سرمایہ دارانہ مقتدرہ کو مجبور کیا جاسکتا ہے ۔سرمایہ دارانہ قانون کو مقدس سمجھنے کا کوئی شرعی جواز موجود نہیں

قضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اُتر سکتے ہیں قطار اندرقطار اب بھی

۶۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مزاحمت دہرنوں اور مظاہروں تک محدود نہ رہے ۔مزاحمتوں کے شرکاء کو اپنے مقامی محلہ کی سطح پر مستقل بنیادیوں پر منظم کرنے کی طویل المدت منصوبہ بندی کی جانی چاہئے (فرانس کی gilets Janusکی تحریک نے پہلے مقامی انتظامی صفبندی کا اہتمام کیا انہوں نے بہت جلد ایک چھوٹے شہر Commercy میں ایک (chalet of society)قائم کی ۔یہ اسمبلی آف () کہلائی اس کے روانہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں اور ان اجلاسوں میں تحریک کے نمائندہ مستقل نظریاتی بحثیں بھی جاری رکھتے ہیں ۔تحریک پیش رفت کا تجزیہ بھی کرتے ہیں اور ان کو ذمہ داریاں بھی تفویظ کی جاتی ہیں)

یہ ادارتی صفبندی مسجد کی بنیاد پر کی جائے اور اس کا فعالی دائرہ کا ر مزاحمت کے شرکاء کا مقامی اقتدار اور قیادت قائم کرنا اور بڑھانا ہو ہر دھرنے ،مہم ،احتجاج کے بعد آئندہ اقدام کی منصوبہ بندی ہو اور مزاحمت کا نکتہ عروج کسی ایسے ملک گیر واقع پر منتہج ہو جو سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو کسی نہ کسی حد تک مجروح کردے ۔مثلا مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے جس مزاحمت کی ابتدا ہوئی ہے اس طرح منظم کیا جائے کہ یہ مزاحمت آئندہ انتخابات خواہ وہ ۲۰۲۳ ہی میں ہوں تک جاری رہے اور اس مزاحمت کی بنیاد پر ہی ایک ایسا اسلامی اتحاد قائم ہو جو ان انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے سرمایہ دارانہ اقتدار کو متزلزل کردے ۔

جاوید اکبر انصاری