محنت کشوں میں اسلامی انقلابی جدوجہد منظم کرنے کا لائحہ عمل: چند تجاویز
محنت کشوں کو انقلابی بنیادوں پر منظم اور متحرک کرنے کی ضرورت
1950ء کی دہائی کے وسط سے ہم نے محنت کشوں کے ایک حصہ میں اسلامی انقلابی جدوجہد منظم کرنے کی کوشش شروع کی تھی اور کئی سرکاری سرمایہ دارانہ اداروں (پی آئی اے، پورٹ ٹرسٹ، ریلویز وغیرہ) ہمیں خاصی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
اس محاذ پر 1970ء کی دہائی میں اشتراکی سرمایہ داروں نے ہمیں پیچھے دھکیل دیا اور اس وقت کے بعد ہماری یہ جدوجہد غیر فعال ہو گئی۔ اشتراکی سرمایہ دار بھی حکومت اور نجی سرمایہ کاروں کے ہاتھ بک گئے اور اب منظم مزدور یونین بالکل بے اثر ہو گئی ہیں۔
آج ہمیں محنت کشوں کی اسلامی تنظیم سازی اور تحرک کو فروغ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ ملک کے مزدوروں کی بہت بڑی اکثریت محنت کشوں پر مشتمل ہے۔ ہماری لیبر فورس کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اسلامی انقلابی عمل بنیادی طور پر ایک معاشرتی عمل ہے۔ عوام کی روزمرہ کی زندگی میں تصرف کیے بغیر ہم انقلابی اسلامی جدوجہد کو فروغ نہیں دے سکتے۔ عوام اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں روزی کمانے کے لیے بہت وقت صرف کرتے ہیں۔ ان اوقات میں عوام کے اندر ان کی اسلامی شناخت کو ابھارے بغیر ان کے قلوب تک رسائی حاصل کرنا نہایت دشوار ہے بالخصوص ان حالات میں جب عوام کی تعلیمی استعداد محدود ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ محنت کش ہی سرمایہ دارانہ استحصال کے اصل شاہد ہیں۔ ان میں سرمایہ دارانہ روحانیت اور انفرادیت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے اور اشتراکی سرمایہ دار یہی کوشش کرتے ہیں کہ محنت کش سرمایہ دارانہ روحانیت اور ذہنیت اپنا لیں اور ان کی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ حقوق کا حصول اور سرمایہ دارانہ عدل کا قیام ہوتا ہے۔ یہ کمیونسٹوں اور سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ داروں کا مشترکہ موقف ہے۔
ہم سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کو ظلم عظیم تصور کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ظلم کے خاتمہ کا ذریعہ سرمایہ دارانہ نظم ملکیت اور ریاست کا انہدام ہے۔ ہمیں محنت کشوں میں یہ جذبہ پیدا کرنا ہے کہ ان کی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ عدل کا قیام نہیں سرمایہ دارانہ ملکیت اور ریاست کا انہدام ہونا چاہیے۔
محنت کشوں کے تین گروہ
محنت کش ہم ہر اس فرد کو کہتے ہیں جس کی آمدنی کا انحصار سود اور سٹہ کی مارکیٹوں کی کارفرمائی سے براہ راست نہ ہو۔ ان معنوں میں پاکستانی عوام کی ایک عظیم اکثریت محنت کشوں پر مشتمل ہے جو کئی حصوں میں منقسم ہے۔ حالیہ لیبر فورس سپلائی کے مطابق ملک کی محنت کشوں کا 86 فیصد غیر رسمی (انفارمل) شعبہ میں اور تیرہ فیصد باضابطہ (فارمل) شعبہ میں ہے۔
غیر رسمی شعبہ کے محنت کش دو حصوں میں منقسم ہیں۔ ایک حصہ ان محنت کشوں پر مشتمل ہے جو اپنی روزی خود کماتے ہیں۔ ان میں چھوٹے دوکان دار، آڑھتی (اگر وہ مہاجن نہ ہوں)، ریڑھی والے، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور، کاشت کاروں کے ملازم اور مزارع شامل ہیں۔ (کاشت کاروں میں وہ افراد شامل نہیں جنہیں وڈیرے کہا جاتا ہے)۔
غیر رسمی شعبہ کا دوسراحصہ گھریلو ملازمین پر مشتمل ہے۔ اور یہ شہروں کے امیر اور متوسط علاقوں کے ارد گرد رہائش پذیر ہیں۔ جیسے جیسے دولت اور آمدنی کی نامساویانہ تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ویسے گھریلو مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
باضابطہ شعبہ کے بھی کئی حصے ہیں۔ ایک شعبہ بڑے کاروبار اور سرکاری اداروں کا ہے جو ملازمتی معاہدوں کی بنیاد پر لوگوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔ ملازمتی معاہدوں کی بنیاد پر فراہم کی گئی ملازمتیں بتدریج کم ہو رہی ہیں۔ ان اداروں کے ملازمین یونینوں میں منظم ہو سکتے ہیں لیکن یونینوں میں ان کی شمولیت اب بہت کم رہ گئی ہے اور یونینوں پر دہریہ سیاسی جماعتوں اور مطلب پرست قیادتوں کا قبضہ ہے۔ اسی گروہ کا دوسرا حصہ بڑے اداروں میں بھرتی کیے جانے والے دہاڑی کے مزدوروں پر مشتمل ہے جن کے سرمایہ دارانہ حقوق تقریباً بالکل معطل ہیں۔ ان کو بھرتی کرانے والے گوکہ عموماً سرمایہ دار نہیں ہوتے لیکن سرمایہ داروں کے گماشتے ہوتے ہیں۔ جنہیں محنت کشوں میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
بے روزگار افراد جن کی تعداد اب کروڑوں میں ہے زیادہ تر اسی باضابطہ شعبہ میں ملازمت حاصل کرنے کی خواہاں رہتی ہے۔ نج کاری کے عمل کے نتیجہ میں باضابطہ شعبہ مستقل بے روزگاروں کے شعبہ میں اضافہ کر رہا ہے۔
باضابطہ شعبہ میں ایسے تاجر اور آجر بھی شامل ہیں جو ٹیکس تو دیتے ہیں لیکن سود اور سٹہ کے مارکیٹوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ آئی ٹی کی صنعت میں 2010ء کے بعد سے ایسے کاروباریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان کو بھی سرمایہ دار تصور نہیں کیا جا سکتا گو کہ ان پر سرمایہ دارانہ شعبوں میں شامل ہونے کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ ملٹی نیشنلز سے اشتراک کے ذریعہ بھی سودی اور سٹہ مارکیٹوں سے تعلقات استوار کرنے کے ذریعہ بھی لیکن اس دباؤ کا مقابلہ کرنے میں بھی ہمارا جماعتی نظم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسلامی انقلابی حکمت عملی
محنت کشوں میں اسلامی روحانیت اور ذہنیت کا فروغ
حلال کاروبار کے مواقع کا فروغ
سرمایہ دارانہ نظم ملکیت اور ریاست کا انہدام
اسلامی انقلابی حکمت عملی کا طریقہ کار
محنت کشوں میں یہ احساس دلانے کے لیے کہ معاش کا مقصد معاد کا حصول ہے اور اس کی محنت کشی کی اسلامیت کا اظہار ہے، ضروری ہے کہ محنت کشوں کی قیادت مذہبی ہو۔ فطری طور پر ہمارے مذہبی قائد ائمہ مساجد اور صوفی بزرگ ہیں۔ ہماری تاریخ میں یہی عوامی قیادت کا سرچشمہ ہمیشہ رہے ہیں لیکن فی زمانہ یہ بزرگ اپنی نظاماتی قیادت فراہم کرنے کی ذمہ داری کا احساس نہیں کرتے۔ ان کا دائرہ اثر محدود نہیں لیکن ان کا معاشرتی اور سیاسی دائرہ کار محدود سے محدود تر ہوتا جا رہا ہے۔
ہمیں اس ہی روایتی عوامی اسلامی قیادت کے اردگرد محنت کشوں کو مجتمع اور متحرک کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ محنت کشوں کے محلوں اور بڑے اداروں (کارخانوں اور دفاتر) کی مساجد کو محنت کش ادارہ سازی کا مرکز اور محور بنانا چاہیے۔ ان جگہوں پر اور دیہاتوں میں پیری مریدی کے نظام کو قائم اور فروغ دے کر محنت کشوں کی مذہبی عصبیت کو ان کی سیاسی اور معاشرتی جدوجہد سے منسلک کرنا ممکن ہے۔ مساجد کے ائمہ اور پیر حضرات کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ ان کی ذمہ داریوں میں محنت کشوں کے استحصال سے مقابلہ کرنا بھی مشکل ہے۔ صرف وہی اس مقابلہ کو اس طرح منظم کر سکتے ہیں کہ محنت کشوں کی صفوں میں سرمایہ دارانہ حقوق کی طلب فروغ نہ پائے بلکہ محنت کشوں کی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ ملکیت اور ریاست کا انہدام ہو۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت اور روحانیت فروغ نہ پائے بلکہ محنت کشوں کی جدوجہد مذہبی سیاسی جدوجہد کا حصہ بن جائے۔
حلال رزق کو فروغ دینے کے لیے دو اقدام ہیں۔ ایک تو دہریہ حکومت کی دستاویزیت (ڈاکومنٹیشن)کو ناکام بنانا اور محنت کشوں کو یہ احساس دلانا کہ ان کی ٹیکس میں دی ہوئی رقومات لامحالہ سود اور سٹہ کی مارکیٹوں میں ضم کر دی جاتی ہیں اور ان رقومات پر دہریہ سرکار مکمل تسلط حاصل کر لیتی ہے۔ ان کے استعمال پر کوئی اسلامی گرفت سرمایہ دارانہ نظام میں ممکن نہیں۔ بلاواسطہ محصولات کا نظام کبھی کسی بھی اسلامی ریاست میں کارفرما نہ رہا۔ یہ قطعاً غیر اسلامی ہے۔
حلال رزق کو فروغ دینے کا دوسرا طریقہ ایک مضبوط بلکہ ہمہ گیر تمویلی نظام کا فروغ ہے جو کسی اسلامی جماعت کے تحت کیا جا سکتا ہے اور جس کے ذریعہ مخلصین دین کی بچتیں (امانتیں) جماعت کے تاجروں، صنعت کاروں اور کاشت کاروں کے کاروباروں میں لگائی جا سکتی ہیں۔ اس نوعیت کی اسکیمیں جنوبی لبنان اور ملائشیا میں کامیابی سے چلائی جا رہی ہیں اور تفصیل اس اجمال کی جناب یونس قادری کی کتاب ”اسلامی بینک کاری کا متبادل“ میں درج ہے۔
حلال کاروبار کے فروغ اور تحفظ سے سرمایہ دارانہ ملکیت کو ملک کے معاشی نظام سے بتدریج بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ ملکیت کی اصل قوت سود اور سٹہ کے مارکیٹ ہیں جن کے ماتحت تمام کارپوریشنیں کام کرتی ہیں۔ زر کے بازار سے سودی لین دین اور سٹہ کے بازار سے حصص اور تمسکات کے بیوپار کے ذریعہ معیشت پر سود اور سٹہ مارکیٹوں کے تحکم کو کمزور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کیے جا سکتے ہیں۔
نج کاری کی مہم کی ملک گیر اور بھرپور مخالفت۔اس ضمن میں قلیل المدت لیکن وقتاً فوقتاً جاری رہنے والے سرکاری شعبہ کے کارخانوں وغیرہ میں ہڑتالوں اور دھرنوں کی منصوبہ بندی۔ اس مزاحمتی مہم کو ریلوے اور بندرگاہ پر مرتکز کیا جائے۔
مزدور تنظیمیں سرکاری اداروں کے تمام قرضہ جات اور سودی ادائیگیوں کی منسوخی کی مہم چلائیں جس کی لوکل، صوبائی اور وفاقی سطح پر پارلیمانی اعانت مرتب کی جائے۔
تمام کارپوریشنوں (سرکاری اور نجی) کی اعلیٰ انتظامیہ میں اکثریتی محنت کش نمایندگی قائم کرنے کی مہم۔
ای پی سیز میں محنت کش تنظیم سازی کی قانونی پابندیوں کے خلاف مزاحمت۔
یہ اقدام فی الحال نہایت دشوار ہیں کیونکہ محنت کش تنظیمیں زوال پذیر بھی ہیں اور ان پر اشتراکیوں، دہریہ سیاسی جماعتوں اور مطلب پرستوں کا قبضہ ہے اوراین ایل ایف مدت سے انقلابی جدوجہد سے دست کش ہو گئی ہے۔ کسی اسلامی جماعت کی توجہ محنت کشوں میں دعوت کو منظم کرنے پر تیار نہیں۔ لہٰذا پہلی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ ہم اس کام کی اہمیت کا اقرار عملاً جماعتی سطح پر کریں۔
پہلا قدم جو اس قسم کی پیش رفت کو منظم کرنے کے لیے اٹھانا چاہیے وہ محنت کشوں کے کوائف کا تحقیقی جائزہ ہے۔ یہ کام کراچی اور لاہور کے ادارہ معارف اسلامیہ اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سپرد کیا جا سکتا ہے جو محنت کشوں کے مختلف گروہوں (مزدوروں، کلرکوں، آفس کے کارکنوں، چھوٹے دوکان داروں، ریڑھی والوں، پروفیشنلز، ڈاکٹروں، وکیلوں وغیرہ) کے سماجی، تعلیمی، رہائشی، کارکردگی اور مالی استطاعت کے بارے میں تفصیلی جائزہ مرتب کر سکتے ہیں۔
اس سروے کی بنیاد پر محنت کشوں میں اسلامی تنظیم اور تحرک کا سہ سالہ منصوبہ مرتب کیا جائے (مثلاً 2021ء تا 2024ء)۔ یہ حکمت عملی مندرجہ امور کا تعین کرے:
1۔ جنوری 2024ء تک کون سے اہداف قابل حصول ہیں۔
2۔ کن محلوں، بازاروں، کارخانوں، دفاتر وغیرہ میں محنت کشوں کی اسلامی ادارتی صف بندی کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
3۔ اس صف بندی کو منظم اور متحرک کرنے کے لیے کون سے اقدام کیے جانے چاہئیں۔
4۔ ان علما، ائمہ اور صوفی بزرگوں کی نشان دہی جو محنت کشوں کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کیے جا سکتے ہیں۔
5۔ ان یونینوں کی نشان دہی جن کے ذریعہ اسلامی جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے۔
6۔ ان اقدام کی نشان دہی جن کے ذریعہ محنت کشوں کی جدوجہد کو ہماری 2023ء کی انتخابی مہمات سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔
7۔ اس تربیتی اور تعلیمی نظام کا تعین جو منتخب علما اور صوفیا کو محنت کشوں کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کرے۔
8۔ اس تعلیمی نظام کی نشان دہی جو محنت کشوں کو سرمایہ دارانہ نظاماتی حقائق سے آگاہ کر سکے۔
اس جائزہ پر بحث اور تنقید کے بعد اس کو باضابطہ آڈٹ کیا جائے اور اس کی تنفیذ کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے جو تین ماہ میں پیش رفت کا جائزہ مرتب کرے جس کی بنیاد پر حکمت عملی میں ترمیم اور تنسیخ کا عمل جاری رہے۔
جاوید اکبر انصاری