کتب خانہLibrary

← انقلاب اصلاح اور فریضہ اقامت دین

انقلاب اصلاح اور فریضہ اقامت دین.docxڈاؤن لوڈ

انقلاب اصلاح اور فریضہ اقامت دین

١۔تصور اقامت دین

٢۔اصلاح اور انقلاب

٣۔انقلابی عمل اور انقلابی واقعہ

تصور اقامت دین: اقامت سے مراد کسی چیز کا پورا پورا حق ادا کرنے کا ہوتا ہے ۔امام راغب اصفہانیؒ فرماتے ہیں کسی چیز کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حقوق پورے کردیئے جائیں ۔علمی اور عملی حثیتوں سے شاہ ولی اللہؒ نے اقیمواالدین کا ترجمہ "قائم کنندہ دین"(دین کو قائم کرنا )لیا ہے مولانا اصلاحی کا ترجمہ"قائم رکھو اس دین کو "۔پیر کرم شاہ الاظہری کا ترجمہ "قائم رکھو اس دین کو "

امام ابن جریرطبریؒ "اس دین میں اختلاف نہ کرو جسے تمہیں قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے "۔امام قرطبیؒ فرماتے ہیں "اس دین کو قائم اور محفوظ رکھو اور اس میں اختلاف نہ کرو"۔علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں "اقامت دین سے مراد اس کے ارکان احکام کو درست طریقہ پر قائم رکھنا ۔اس کی حفاظت کرنا اور ہمیشہ کے لئے اس کی پابندی کرنا"۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے"دین میں تفرقہ مت ڈالو"۔مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں مراد اس دین سے اصولِ دین ہیں جو مشترک ہیں تمام طرائق میں مشتمل توحید،رسالت ،بعث وغیرہ۔مفتی محمد شفیع ؒفرماتے ہیں "اقامت دین فرض اور اس میں تفریق حرام ہے "چونکہ اقامت دین فرض ہے اور اس لئے اس میں افتراق کی شدید ممانعت نصوص صحیحہ میں ملتی ہے ۔فروعی معاملات میں اختلاف ممنوع نہیں ۔ایسا اختلاف صحابہ کرام میں عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے چلا آرہاہے اور تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ ایسا اختلاف باعث رحمت ہے ۔

مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں "اقامت کے معنی قائم کرنے کے بھی ہیں اور قائم رکھنے کے بھی ،قائم رکھنے کی ضرورت آتی ہی اس قت ہے جب ایک چیز قائم ہوچکی ہو ورنہ پہلے اس کو قائم کرنا ہوگا (اور) یہ کوشش مسلسل جاری رکھنے پڑے گی تووہ قائم رہے ۔

تحفظ دین اور غلبہ دین ،اقامت دین کے ہم آہنگ پہلو: اسلاف کے فرمودات سے واضح ہوتا ہے کہ

٭اقامت دین فرض عین ہے

٭اس کی فرضیت کے بارے میں اختلاف ممنوع ہے

٭اقامت دین کے لئے دین کو قائم رکھنا اور دین کو قائم کرنا دونوں ضروری ہیں

٭دین کے قائم رکھنے اور دین کو قائم کرنے کی جدوجہدوں میں فروعی اختلاف باعث رحمت ہیں۔

دین نظام (structure)بھی ہے اور طرز حیات (life world)بھی اس کے احکام معاشرہ پر بھی نافذ ہوتے ہیں اور ریاست پر بھی سرمایہ دارانہ سامراج کے غلبہ کے بعد برصغیر میں احکام شرع معاشرہ پر بھی معطل کئے جانے لگے اور ریاست کی سطح پر بھی ۔معاشرتی سطح پر سامراجی تعطل احکام شریعت کا مقابلہ تحفظ دین کی تحاریک نے کیا اور وہ بڑی حد تک اسلامی تمدنی اور علمیاتی ورثہ کو سامراجی یلغار سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہیں ۔اس کے برعکس تحاریک غلبہ دین (جہاد ١٨٥٧ سید بادشاہ اور صادق پوری سیدوں کی تحاریک ،تحریک ریشمی رومال ،تحریک احرار)پسپا ہوگئیں اور اس کے نتیجہ میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی سیکولر دستوری ریاست قائم کرلی جہاں احکامات شرع تقریبا بالکلیہ معطل ہیں لیکن تحریکات غلبہ دین معدوم نہ ہوئیں ۔انہوں نے اس لئے سرمایہ دارانہ دستور ی تناظر میں غلبہ دین کی راہیں تلاش کرنے کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے ۔

نتائج کے اس نفاذ کے رد ِعمل کے طورپر تحاریک تحفظ دین ،غلبہ دین کی جدوجہد کو لاحاصل اور تحاریک غلبہ دین ،تحفظ دین کی جدوجہد کو غیر ضروری سمجھنے لگیں اور دونوں نے اقامت کا ایک محدود تصور اپنا کر یہ بات فراموش کردی ہے کہ اقامت دین کا مطلب دین کو قائم رکھنا بھی اوردین کو قائم کرنا بھی ۔لہذا

تزویراتی افتراق تحاریک تحفظ اور غلبہ دین کے لئے نزول رحمت کا باعث نہ بن سکا اور سرمایہ دارانہ گرفت پاکستانی معاشرت اور ریاست (نظم اور طرز زندگی ) پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ۔

اقامت دین ،اصلاح اور انقلاب: دورحاضر میں اقامت دین کے لئے انہدام سرمایہ دارانہ نظم (ریاست ) اور طرز حیات(معاشرت) ضروری ہے ۔سرمایہ داری ہی دورحاضر کا غالب دین (نظام زندگی اور طرز حیات)ہے اور انہدام سرمایہ داری کے لئے تحفظ دین اور غلبہ دین دونوں نوعیت کی جدوجہدوں کا جاری رہنا اور ایک دوسرے سے منطبق ہونا ضروری ہے ۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی عمل کے انہدام کے لئے انقلابی عمل ضروری ہے ۔انقلاب اس عمل کو کہتے ہیں جس کے نتیجہ میں قوت نافذہ ایک گروہ (سرمایہ دارانہ اشرافیہ) کے ہاتھوں سے نکل کر دوسرے گروہ (مخلصین دین )کے ہاتھوں میں مرتکز ہوجاتی ہے ۔ظاہرہے کہ یہ انقلاب ، اقامت دین کے ہم معنی نہیں، محض دور تغلب سرمایہ داری میں اقامت دین کا کسی میں ایک ذریعہ ہے ۔

اسلامی انقلابیوں کی رائے میں اس دور میں انقلابی عمل (قوت کا اہل سرمایہ سے مخلصین دین کی طرف انتقال )کا جاری رہنا فریضہ اقامت دین ادا کرنے کے لئے ضروری ہے ۔ان کی کوشش ہونی چاہئے کہ تحفظ دین کی تحریکات اس نظریہ کو قبول کریں اور اپنی تزویراتی حکمت عملی میں انقلاب عمل سے اپنی جدوجہد کو منطبق کرنے پر امادہ ہوجائیں ۔

گاہے گاہے اصلاحی تحاریک مزاحمتی روش اختیار کرتی ہیں ۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب ریاستی مقتدرہ شعار اسلامی کو مجروح کرنے کی کوشش کرتی (مثلا مدارس کی ناکہ بندی ،ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے) ہیں، چونکہ مصلحین کی جماعتوں کو مخلصین دین کی بڑی تعداد کی عموما حمایت حاصل ہوتی ہے لہذا ان کی جدوجہد عوامی مزاحمت کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور دہریہ جماعتیں اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ریاستی اقتدار سے محروم سرمایہ دارانہ اشرافیہ (مسلم لیگ)مصلحین کی مزاحمت کے ذریعے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کو شش کرتی ہے اور ریاستی مقتدرہ (تحریک انصاف)ایسے سمجھوتے کرنے کی کوشش کرتی ہے جس سے مصلحین کے کچھ مطالبات علامتی طور پر قبول کرکے اپنا اقتدار مستحکم کرے ۔چونکہ مصلحین کی جماعتوں کے پاس نظاماتی تغیر کا کوئی شعور نہیں ہوتا لہذا دہریہ جماعتیں مصلحین کی عوامی مزاحمت کو اپنے اغراض کے حصول کے استعمال میں کامیاب ہوجاتی ہیں ، مزاحمتیں منتشر ہوجاتی ہیں ۔سرمایہ دارانہ اقتدار مستحکم ہوجاتا ہے مصلحین اپنی علامتی فتح اور حقیقی شکست کو قبول کرلیتے ہیں ۔غلبہ دین کی جدوجہد آگے نہیں بڑھتی

توہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا

گرچہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا

اگر انقلابی ،مصلحین کی مزاحمتی تحاریک کے صف اول کے دستہ کے طورپر کام کریں تو اس خطرہ کو ٹالا جاسکتا ہے وہ مزاحمت کے دوران مصلحین نظاماتی تغیر کی ضرورت کا احساس دلاکر مزاحمتی مطالباتی ایجنڈہ میں مستقل توسیع کی جدوجہد کرسکتے ہیں (جیسا کہ تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں ہوا) اور مصلحین کے دہریہ معاونین (مسلم لیگ،تحریک انصاف)کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔

اس سے بڑھ کر ان مہمات کو مظاہرہ کے شرکا (جن کی بہت بڑی اکثریت مخلصین دین پر مشتمل ہوتی ہے) کو مستقل بنیادوں پر منظم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔جدید تحقیق سے ثابت ہے کہ کامیاب نظاماتی مزاحمت کے لئے ملک کی آبادی کے تقریبا دوفیصد آبادی کو مستقل بنیادوں پر متحرک رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان میں یہ تعداد تقریبا ٤٢ لاکھ بنتی ہے ۔یاد رہے کہ٢٠١٨کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو تقریبا٥٥ لاکھ ووٹ ملے تھے ۔

انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد ایک طویل المدت جدوجہد ہے ۔حکومت کی تبدیلی سے سرمایہ دارانہ اقتدار لازما کمزور نہیں پڑتا ۔مصر،تیونس ،بولیویا ،سوڈان،ایکواڈور وغیرہ کی حالیہ مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے ۔

نظاماتی تغیر کا اصل سبب ریاستی تحکم کا انتقال ہے ۔اسلامی انقلابی عمل کے ذریعہ ریاستی قوت نافذہ بتدریج اور گاہ ِگاہ ِسرمایہ دارانہ مقتدر ین کے قبضہ سے نکل کر مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی رہتی ہے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ مخلصین دین (وہ٥٥ لاکھ افراد جنہوں نے ہمیں ووٹ دیئے اور وہ ہمارے معاونین ہیں)آئمہ مساجد اور اسلامی جماعتوں کی قیادت میں منظم کئے جاتے رہیں تاکہ ان کے مسلسل تحرک کی زمینی بنیادیں فراہم کی جاسکیں ۔

مصلحین کی مزاحمتی جدوجہد اس انقلابی عمل کو شروع کرنے اور جاری رکھنے کے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں ۔انقلابیوں کو ان مہمات میں بھرپور طریقہ سے شرکت کرنی چاہئے اس سلسلہ میں "غیرجانبداری "سرمایہ دارانہ نظام کی تقویت کا سبب ہوسکتی ہے اس سے اسلامی صفہوں میں انتشار اور افتراق پھیلتا ہے ۔یہ کیسے گوارا کیاجاسکتا ہے کہ علما دین اور ان کے ساتھی دشمن کے سامنے صف آرا ہوں اور ہم انقلابی جوکہ ان کے خادم ہیں ۔دور بیٹھے تماشہ دیکھتے رہیں۔

منفعت ایک ہے اس قوم کی ،نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی ,دین بھی ,ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی ,اللہ بھی ,قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی, ہوتے جو مسلمان بھی ایک

جاوید اکبر انصاری