کیا مغرب میں اخلاق حسنہ پائے جاتے ہیں؟
مخلصین دین کی صفوں میں یہ رائے عام ہے کہ مغربی ممالک کے عوام کا اخلاقی برتاؤ قابل تحسین ہے۔ وہاں قانون کی پاس داری عام ہے۔ لوگ حوصلہ مند اور مہم جو ہیں۔ خیرات کا کاروبار (philanthropy)فروغ پا رہا ہے۔ جانوروں تک سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حالی جیسے متقی بزرگ تک نے کہا ؎
شریعت کے ہم نے جو پیمان توڑے
وہ لے جا کے سب اہل مغرب نے جوڑے
ظاہر ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے اور مغربی اخلاقیات کو سمجھنے کے لیے جس ذہنی فکری تناظر کی احاطہ بندی کی ضرورت ہے اس سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب حجت اللہ البالغہ کے مبحث چہارم میں اس فکری تناظر کے خدوخال واضح فرمائے ہیں۔
اس مضمون میں اس مبحث کی بنیاد پر مغربی اخلاقیات کی ایک عام فہم تفہیم مرتب کرنے کی کوشش کروں گا(ان شاء اللہ)۔
انسانی وجود بہیمی اور ملکوتی صفات کا مرکب ہے۔ عالی صفتیں انسانی فطرت کا اظہار ہیں(وہ فطرت جو اسے بہائم سے جدا کرتی ہے) لیکن یہ اعلیٰ صفات اس وقت اخلاق حسنہ شمار کی جائیں گی جب وہ نفس ناطقہ کی تربیت سے انسان کی ملکوتی فطرت کے اظہار کا ذریعہ بن جائیں۔
مغرب کا تصورِ نفسِ ناطقہ بالکل لغو و مہمل ہے جیسے کہ کانٹ نے کہا مغربی فکر میں نفس ناطقہ ( self discriminatory) سے مراد وہ قوت ادراک ہے جو نفس امارہ کے ہر فیصلہ کو اس پیمانہ پر جانچتی ہے کہ کیا اس فیصلہ کا اطلاق آفاقی ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر ہم زنا کرنا یا سود لینا چاہیں تو زنا کر سکتے یا سود لے سکتے ہیں بشرطیکہ یہ کسی دوسرے کو زنا کرنے اور سود لینے سے نہ روکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی نفس امارہ کسی نفس ناطقہ کا تابع نہیں۔ محض اجتماعی نفوس امارہ کا تابع ہے۔ نفس ناطقہ کا سرے سے کوئی وجود ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔
خرد کا نام جنوں رکھ لیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
حقیقت یہ ہے کہ عیسائیت کی نیم سچائیوں کو ترک کرنے کے بعد مغرب کے پاس خیر اور حق کا کوئی تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس لیے ہم مغربی فکر اور تہذیب کو جاہلیت خالصہ کہتے ہیں۔
سعادت حقیقی یہ ہے کہ قوت بہیمیہ نفس ناطقہ کے تابع ہو اور خواہش عقل سلیم کے تابع ہو۔ مغرب کا تصور عقلیت (rationality)حقیقی عقلیت کی ضد ہے کیونکہ ہیوم کے وقت سے اب تک وہ عقل کو نفس امارہ کے تابع گرداننے پر مجبور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس نفس ناطقہ کا کوئی تصور موجود ہی نہیں۔
مغرب کا ناقص تصور خیر بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس کے اعلیٰ اخلاق (اخلاق رذیلہ) اس ہی مقصد کے حصول کا بالواسطہ یا بلاواسطہ ذریعہ ہیں اور جیسا کہ امام ولی اللہ نے فرمایا ”کمال ناقص کمال مطلوب کی ضد ہے“ کیونکہ سب مادی چیزیں زندگی کے ختم ہونے پر تمام ہوتی ہیں۔ یعنی سرمایہ درحقیقت کچھ نہیں محض حرص و ہوس کی آفاقیت (Universalable form)ہے۔
سعادت حقیقی بلا عبادات کے حاصل نہیں ہو سکتی اور مغرب انسان کی خود اختیاریت (autonomy)اور خود تخلیقیت(self creation) پر ایمان لے آیا ہے جو بالکل غیر فطری اور غیر حقیقی تصورات ہیں۔ ان عقائد فاسدہ کو قبول کرنے کے بعد عبادت کا عمل معاشرتی اور ریاستی سطح (public life)پر معطل ہو جاتا ہے اور تارک عبادات کے اعلیٰ اخلاق اخلاق رذیلہ ہی ہو سکتے ہیں۔ اخلاق حسنہ نہیں ہو سکتے۔ انسانیت کی پرستش اخلاق حسنہ کے فروغ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ عبادات انسان کو ملاء اعلیٰ سے مشابہ بنا دیتی ہے جو اخلاق حسنہ کے حصول کا وسیلہ ہے اور ظاہر ہے کہ مغرب کے دہریہ ملاء اعلیٰ کے وجود ہی سے انکاری ہیں اور مغرب میں ملاء اعلیٰ سے ربط پیدا کرنے کا ذوق بالکل ختم ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا اخلاق حسنہ ان کے لیے بالکل اجنبی ہو گئے ہیں۔
یہ تو نہیں ہے کہ مغرب میں ایسے لوگ موجود نہیں جن میں سعادت حقیقی کے حصول کی صلاحیت بالکل پائی نہیں جاتی لیکن سرمایہ کی معاشرتی اور ریاستی حکمرانی اور جاہلی عقلیت (rationality) کا نظاماتی تسلط ان کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ صلاحیت سب سے زیادہ قدامت پسند کیتھولکی اور بالخصوص ان کی خواتین میں پائی جاتی ہے اور یہی لوگ جوق در جوق مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔
ملاء اعلیٰ سے ربط پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی پہلی شرط طہارت ہے۔ مغرب کے لیے طہارت کا تصور بالکل اجنبی ہے۔ عیسائیت تک کے پاس طہارت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ عام آدامی ہمہ وقت غلیظ اور پلید اور حالت جنابت میں رہتا ہے۔ اس کا ستر کھلا رہتا ہے۔ وہ سور کھاتا ہے، شراب پیتا ہے، حرام خوری اس کا روزمرہ کا عمل ہے۔ اس کی مستقل قائم رہنے والی جسمانی پلیدگی اس کی گھناؤنی اور خبیث روحانیت کا سرچشمہ ہے جس کا اظہار اس کے جمالیات (رقص، موسیقی، مصوری، کھیل) میں پیہم فروغ پاتا رہتا ہے۔ اس انفرادیت کو ہیو من(human being) کہتے ہیں۔
مغربی آدمی کے تمام اعمال اس کی بدنی پلیدی سے ملوث ہوتے ہیں۔ ہوس جب انسان میں جم جاتا ہے اور اسے چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے تو اس میں شیطانی وساوس قبول کرنے اور ملعون اور خبیث حیوانات کی عادت قبول کرنے کی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرت خباثت سے بھر جاتی ہے۔ آج فرانس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اپنی بیٹی سے زنا کرنا آخر کیوں ممنوع ہے۔ جرمنی میں کتیوں سے انسانی جفتی کے عمل کو جائز قرار دینے کے لیے قانون سازی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ امریکا میں صلیب مقدس کو آلہ زنا بنایا جا رہا ہے اور جمہوریت کی آڑ میں ہر مغربی ریاست میں تحکم قانون سرمایہ نے الٰہی شریعت کو معطل کر دیا ہے۔
ملاء اعلیٰ سے وابستگی کی دوسری شرط عاجزی ہے۔ خدا کے سامنے اپنی بے بسی کا اقرار نہ کر کے مغربی انسان خود کو خدا سمجھ بیٹھا ہے اور تسخیر کائنات کے خبیث عمل کے ذریعہ کائنات کو تباہ کرنے کی جستجو کر رہا ہے۔ اس کے عمل میں عاجزی کا شائبہ تک نہیں۔ اس کا دعویٰ ہے ”انا ربکم الاعلیٰ“۔ ملاء اعلیٰ اس پر لعنت کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔
ملاء اعلیٰ سے وابستگی کے حصول کے لیے تیسری صفت سماعت ہے یعنی نفس ناطقہ کا نفس امارہ کےاحکامات کی بجاآوری سے باز رہنا۔ مغرب نفس ناطقہ کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ ڈارون کے نظریہ ارتقا سے آج تک انسانی بہیمیت پر فخر کرتا ہے اور اس بہیمیت کی پرستش کا نام اس نے آزادی رکھا ہے اور آزادی حرص اور حوس کی آفاقی حکمرانی کا دوسرا نام ہے۔
ملاء اعلیٰ سے توسط حاصل کرنے کی چوتھی صفت عدالت یعنی احکام خداوندی کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ مغرب خدائی احکام کا منکر ہے۔ اس نے سرمایہ دارانہ شریعت (rule of law of capital) اپنے لیے خود ایجاد کر لی ہے جس کا پیمانہ عدل بڑھوترئ سرمایہ میں اضافہ ہے اور جو پیغمبروں کی لائی ہوئی شرع کو نہیں مانتی۔ ہیومن بینگ بڑھوترئ سرمایہ مزدوری کرتے رہتے ہیں۔ باقی تمام افراد (یعنی خدا کی پرستش کرنے والے) ہیومن بینگ نہیں۔ ان کو قتل کرنا، ان کی آبرو ریزی کرنا، ان کے اموال کو مستقل لوٹتے رہنا ہیومنٹی کا فرض ہے اور ہیومنٹی یہ فرض ریڈ انڈینوں، عراقیوں، ویت نامیوں، شامیوں، افغانیوں اور وسطی افریقیوں کو قتل کرتے ہوئے صدیوں سے انجام دے رہی ہے۔ ہیومن رائٹس کے فلسفہ کے تحت آزادی اظہار رائے کے ذریعہ ہیومن بینگ کو اجازت ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسولوں کو گالیاں دے، فحشیات کو ایک عالمگیر صنعت بنا دے، زنا بالرضا، اغلام بازی اور جانوروں سے جفتی کو قانونی جواز فراہم کرے۔ یہ مغربی اعلیٰ اخلاقیات کا معاشرتی اظہار ہے۔
مغربی دلیری اور حوصلہ مندی کا اظہار سامراجیت سے ہوتا ہے۔ اٹھارھویں صدی سے آج تک مغرب پوری دنیا کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہے۔ اس نے تمام اقوام عالم پر اپنی علمیت (جاہلیت خالصہ) اور اپنا اقتداری نظام جبراً بزور شمشیر مسلط کر دیا ہے۔ پوری دنیا کو سامراج نے جمہوری ریاستی شکنجوں میں کس رکھا ہے اور سامراج کے احکام کی حکم عدولی کی ہمت صرف مجاہدین اسلام ہی کو ہوئی ہے۔
نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے
گھٹ کے مرجاؤں یہ مرضی میرے صیاد کی ہے
مغرب کی فراست کا اظہار سرمایہ داری کے عالمگیر تسلط میں ہوتا ہے۔ اس تسلط نے حرث و ہوس کی پرستش کو آفاقی بنا دیا ہے۔ سود اور سٹہ ہر کاروبار پر مسلط ہے۔ ہر شخص سرمایہ دارانہ زر کے استعمال کے ذریعہ حرام خوری پر مجبور ہے۔ قومی ریاستیں تک حرام خور مارکیٹوں (سود او رسٹہ کے مارکیٹوں) کی آلہ کار بن گئی ہیں۔
انسانی اعلیٰ اخلاق کو سامراجی سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر سے جدا کیے بغیر ان اعلیٰ اخلاقیات کو اخلاق حسنہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جو مخلصین دین مغرب کے اعلیٰ اخلاق کی مدح کرتے ہیں وہ اس نظاماتی جبر سے غافل ہیں جو ان اعلیٰ اخلاق کے اظہار کو لازماً اخلاق رذیلہ میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔
ہم پر سامراجی سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ قائم ہے۔ جب تک یہ غلبہ مجروح نہیں کیا جا ئے گا اس وقت تک اخلاق عالیہ کی اخلاق حسنہ میں تبدیل ہونے کی استطاعت محدود ہی رہے گی۔ وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل ظلم عظیم ہے جس کو فروغ دینے کے لیے انسانوں میں اوصافِ رذیلہ کی پرورش کرنا پڑتی ہے۔
مغرب کی دلبری بھیڑیوں کی دلبر ی ہے، مغرب کی فراست وحشی درندوں کی فراست ہے۔ مغرب جنگل کے قانون (law of capital) کا تابعدار ہے۔ اس کا تعقل جاہلیت خالصہ ہے جس نے انسانیت اور کائنات کو المناک تباہی کے داہنے پر لا کھڑا کیا ہے۔
عمل ان کے جتنے ہیں سب وحشیانہ
ہر ایک لوٹ اور مار میں ہے یگانہ
فسادوں میں کٹتا ہے ان کا زمانہ
نہیں کوئی تہذیب کاشادیانہ
یہ ہیں قتل وغارت میں ہیں چالاک اتنے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جتنے
مغرب کی اخلاقی حالت کی وجہ مادی دنیا میں مستغرق رہنا ہے۔ ملاء اعلیٰ کے وجود سے انکار، انسان میں پائی جانے والی بہیمیت پر فخر کرنا اور وجود باری تعالیٰ سے نفرت ہے۔ ان عقائد فاسدہ کے نتیجہ میں وہاں جاہلی عقلیت اور تحکم قانون سرمایہ کا ریاستی اور معاشرتی غلبہ ہے۔ سرمایہ دارانہ ریشنل نظاماتی تغلب مغرب کا حجاب اعظم ہے۔
مغرب کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے مخلوق میں خالق کی صفات کا اعتقاد اپنا لیا ہے۔ شاہ صاحب اس کو شرک کہتے ہیں۔ شاہ صاحب کے مطابق شرک کو فنا کرنے کے لیے ترغیب و تبلیغ کافی نہیں بلکہ خوب مارنا اور جرمانہ کرنا بھی ضروری ہے۔
اعلیٰ اخلاق کو اخلاق حسنہ بنانے کے لیے لازم ہے کہ توحید الٰہی پر ایمان لائیں اور اس بات کا پختہ یقین کر لیں کہ واحد خالق و مالک اور کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ایمان کو مستحکم کرنے کے لیے شاہ صاحب ہمہ وقت ذکر کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر قسم کی اطاعت کو عوامی رسم بنا دیا جائے اور ان رسوم کی حفاظت کا نہایت اہتمام کیا جائے۔
ظاہر ہے کہ مغرب نے ذکراللہ کو قطعاً ترک کر دیا ہے اور مغربی معاشرتی اور ریاستی رسوم و رواج اطاعتِ الٰہی سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے بلکہ خدا سے کھلم کھلا بغاوت کا اظہارمستقل جاری رہتا ہے۔
اخلاق حسنہ کا فروغ اور اسلامی انقلابی جدوجہد
مغربی معاشرت میں اعلیٰ اخلاقیات کے وجود سے انکار نہیں لیکن یہ اعلیٰ اخلاق اخلاق رذیلہ میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں اخلاقِ حسنہ میں نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی اعلیٰ اخلاقیات کی مابعدالطبیعیاتی بنیادیں الحادی ہیں۔ جاہلی علمیت (سائنس) کے فروغ نے مغربی فرد کو ملحد بنا دیا ہے۔ وہ نہ خدا پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت میں جزاوسزا پر۔ ملاء اعلیٰ سے اس کا تعلق بالکل منقطع ہو گیا ہے۔ وہ لاالہ الا انسان کے کلمہ خبیثہ پر ایمان لے آیا ہے۔
آج مغرب کا غالب اخلاقی آدرش فلسفہ ہیومن رائٹس ہے جس کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ صرف وہ فرد ہیومن بینگ ہے جو اپنی الوہیت اور خود تخلیقیت پر ایمان لا کر اس الوہیت کا اظہار کرے۔
ہم اسلامی انقلابی سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کو مجروح کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہماری جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ معاشرتی اور ریاستی قوت نافذہ مغرب کے پیروؤں کے ہاتھوں سے نکل کر مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے۔ اخلاق حسنہ کے فروغ کے لیے مخلصین دین کا اقتدار قائم اور مستحکم ہونا ناگزیر ہے۔ امام ولی اللہ کو اس بات کا پورا احساس تھا اس لیے آپ نے اپنی بیش تر تحاریر میں اسلامی نظاماتی غلبہ کی ناگزیریت پر زور دیا۔
نظاماتی تسخیر اور تعمیر نو کی یہ جدوجہد فریضہ اقامت دین کا ایک ایسا جزو ہے جس پر عمل کیے بغیر تبلیغ و تلقین کی کوششیں محدود نتائج پیش کرتی رہیں گی۔ اگر ہم اخلاق حسنہ کا فروغ چاہتے ہیں تو مخلصین دین کے لیے اسلامی انقلابی اور سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی کرنا ناگزیر ہے۔
جاوید اکبر انصاری
یہ مضمون مولانا مودودیؒ کے رسالہ ”تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادی“ کا ایک حاشیہ ہے۔