تحریک لبیک کی آزمائشیں اور 2023کے انتخابات
1984 سے لے کر2016تک اسلام دشمن جماعت ایم کیو ایم نے کراچی میں قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ 1980کی دہائی میں اسلام دشمن جماعت پی پی پی نے اندرون سندھ تحریک بحالی جمہوریت کے ضمن میں حکومت کے خلاف باقاعدہ مسلح جنگ لڑی لیکن ارباب اقتدار نے ان وحشیانہ پرتشدد کارروائیوں کو نہ ملکی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا نہ یہ کہا کہ ان کے ذریعہ ریاستی حاکمیت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ان دونوں اسلام دشمن جماعتوں پر پابندی لگانا تو درکنار (اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا) اس وقت سے آج تک یہ دونوں اسلام دشمن جماعتیں اقتدار میں شریک رہی ہیں۔
اس کے برعکس محبانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو روز کے غیر منظم اظہار جذبات کو ریاستی اشرافیہ نے ملکی سالمیت اور ریاستی تحکیم کے لیے خطرہ قرار دے کر تحریک لبیک پر پابندی لگا دی اور اسلام دشمن رہنماؤں مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو نے اس اقدام کے لیے حکومت کو دادِ تحسین پیش کی۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک خالصتاً دہریہ ریاست ہے جن کے حکمران سامراج کے باجگزار ہیں جہاں اسلامی جذبات کے سیاسی اظہار کو بتدریج غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے اور وہ نظریاتی بیانیہ (مسلم قوم پرستی) ترک کیا جا رہا ہے جو قیام پاکستان کا وجہ وجود ہے۔ ریاستی تحکیم کو خطرہ اظہارِ اسلام سے نہیں اسی ریاستی بیانیے کے تضادات سے ہے۔
آج پاکستانی ریاست اسلام پر حملہ آور ہے۔ اس کے باوجود کہ دروغ گو، مکار، سامراج کا آلہ کار عمران خان اور اس کے پالتو علمائے سو اس بات کی پردہ پوشی کے لیے سامراجی قوتوں سے تحفظ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نمائشی بھیک مانگ رہے ہیں۔ لیکن حقیقتاً عمران خان اور اس کے وزیر مشیر دہریہ ہیں۔ ان کے ریاستی فیصلے اس بات کا کھلا اظہار ہیں۔ وہ سود اور سٹہ کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی کی راہ میں مزاحم نہیں۔ ان کی خارجہ پالیسی کا اول ترین مقصد سامراج کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ وہ سامراج کی تابع داری میں دینی تعلیمی نظام میں نقب زنی کر رہے ہیں۔
یہ حکمران اپنے ان عمال خبیثہ کی آخرت میں جواب دہی سے قطعاً غافل ہیں۔ ان کی نظر میں حقیقت صرف اس دنیا تک محدود ہے اور اخروی زندگی ایک ایسا فسانہ ہے جس کا دنیاوی معاملات کے برتنے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان معنوں میں عملاً یہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، قولاً کچھ بھی کہتے ہوں۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے عملاً طلب گار نہیں اور اصولاً مستحق بھی نہیں۔
ان کی بے غیرتی، دروغ گوئی اور مکاری کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے جبراً تحریک لبیک کے موقف کو میڈیا پر نشر نہ ہونے دیا اور اس طرح ملکی سالمیت کو شدید خطرہ میں ڈال دیا کیونکہ تحریک لبیک جس موقف کا اظہار کر رہی ہے وہ عوام کے ایک بہت بڑے طبقہ کے دل کی آواز ہے۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
تحریک لبیک کو غیر قانونی قرار دیا گیا تو ملک کے طول و عرض میں ہزاروں تشدد پسند برسرپیکار ہو جائیں گے جن کو کروڑوں مخلصین دین کی پشت پناہی حاصل ہو گی۔ یہ دستوری نظام کے لیے شدید ترین سالمیتی خطرہ ثابت ہو گا اور اس سے فوج اور عوام کے روابط منقطع ہو جانے کا خطرہ ہے جو پاکستان کے لیے سم قاتل ثابت ہو گا کیونکہ بھارت ایسے موقع کی تلاش میں ہے۔
2023کے انتخابات کی اہمیت
عمران خان اور اس کے سامراج نواز حواری مثلاً تحریک لال مسجد کا قاتل شیخ رشید، دستوری نظام کی بیخ کنی چاہتے ہیں تاکہ وہ استبدادی جمہوریت کے سایہ میں اپنی کرپشن جاری رکھ سکیں۔ مصر کی طرح عمران خان بھی اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے administrative laws اور ordinances کو استعمال کر رہا ہے اور بالخصوص اسلامی جماعتوں کو ان حقوقی تحفظات سے محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو اسلامی سیاسی اور جذباتی بحث کے اظہار کے لیے یہ نظام فراہم کرتا ہے۔ 2023کے انتخابات یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ اس مزموم کوشش کو ناکام بنایا جائے۔
عمران خان کی حکومت سالمیت پاکستان کے لیے شدید خطرہ ہے اور اس خطرہ کو سب کو محسوس کرنا چاہیے۔ بالخصوص فوج کو استبدادی جمہوری نظام پاکستان کے اساسی نظریاتی بیانیہ (مسلم قوم پرستی) سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ ایوب خان، یحییٰ خان اور مشرف کی آمریتوں سے ثابت ہے کیونکہ استبدادی جمہوری اقدامات کی تنفیذ حکمرانوں کو عوام سے کاٹ دیتی ہے (کم از کم پاکستانی تناظر میں ایسا ہی ہوتا ہے) اور عوام بیرونی سامراجی غلبہ (بھارتی، چینی، امریکی) کو برداشت کرنے پر آمادہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔
2023 کے انتخابات میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو بدترین شکست دینا ہمارے لیے ناگزیر ہے کیونکہ یہ دونوں جماعتیں ہمیں دستوری نظام کے ذریعہ اسلامی جذباتیت کے اظہار کے جو سیاسی حقوق حاصل ہیں ان سے محروم کرنا چاہتی ہیں۔
ہماری انتخابی حکمت عملی
ان حالات میں ہماری2023کی انتخابی حکمت عملی مندرجہ ذیل خطوط پر مرتب ہونی چاہیے
۱۔ وسیع ترین اسلامی اتحاد کا قیام جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور تحریک لبیک کا اشتراک عمل (اگر تحریک لبیک کالعدم قرار نہ دی گئی ہو) مرکزی اہمیت اختیار کرے۔
۲۔ اگر تحریک لبیک پر پابندی عائد کی گئی ہو تو اس بات کی کوشش کی جائے کہ تحریک لبیک کے کارکن کسی نہ کسی جماعت میں شامل ہوں اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسلامی اتحاد کے امیدوار نامزد کیے جائیں۔ یاد رہے کہ2018کے انتخابات میں تحریک لبیک کو ۲۲ لاکھ ووٹ ملے تھے اور ہمارا یہ ووٹ بینک کسی دہریہ جماعت کو ہڑپ نہیں کرنے دینا چاہیے۔
۳۔ ہماری انتخابی مہم اسلامی جذباتیت کے اظہار کا ذریعہ ہو جس میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مرکزی تھیم ہو۔
۴۔ انتخابی مہم کا کلیدی مطالبہ فرانس، ناروے اور ڈنمارک سے پاکستان کے تمام ثقافتی اور تجارتی تعلقات کا انقطاع ہو۔ ہم اپنی سامراج دشمنی کا کھل کر اظہار کریں اور مطالبہ کریں کہ خارجہ پالیسی عوامی اسلامی جذباتیت کی تشریح ہو۔ ہمیں سامراجی بالادستی کسی صورت میں قبول نہیں۔
۵۔ مسلم لیگ سے انتخابی مفاہمت کیونکہ وہ ان دستوری حقوق کو معطل کرنے کے حق میں نہیں جو اسلامی جذباتیت کے سیاسی اظہار کو جائز قرار دیتی ہیں اور ان کو اسلامی سیاسی تشخص کے فروغ کو برداشت کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
۶۔ انتخابی مہم کے دوران محلہ اور بازار کی سطح پر بین المسالک مساجد اداروں کا قیام اور ان کے ذریعہ انتخابی کارکنوں کی ایسی ترتیب و تنظیم اور تحرک جو دیر پا ثابت ہو اور انتخابات کے بعد بھی فعال کردار ادا کرتی رہیں۔
۷۔انتخابی مہم کے دوران اس بات کی شدید کوشش اور جدوجہد کہ غیر سیاسی اسلامی جماعتیں اور ادارے اسلامی سیاسی اتحاد کی پشت پناہی پر آمادہ ہو جائیں اور ان میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ملک میں اسلامی انفرادیت کے بچاؤ اور فروغ کے لیے سیاسی جدوجہد ضروری ہے۔
جاوید اکبر انصاری