کتب خانہLibrary

← تبلیغی جماعت

تبلیغی جماعت.docxڈاؤن لوڈ

تبلیغی جماعت پر ریاستی استبدار

آج بھارت ،بنگلہ دیش اور پاکستان میں تبلیغی جماعت ریاستی استبدادکا شکار ہے ۔بھارت میں اس کو غیر قانونی قرار دینے کی تجاویز کی سنگھ پریوار وکالت کررہی ہے ۔پاکستان اور بنگلہ دیش میں اس کی سرگرمیوں کی کڑی ریاستی ناکہ بندی کی جارہی ہے ۔پاکستان میں تحریک انصاف کی دہریہ خواتین نے اس کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ۔

اس سرمایہ دارانہ سامراجی مہم کو کیسے پسپا کیا جاسکتا ہے ؟سامراجی دہریےتبلیغی جماعت پر دوالزام لگاتے ہیں ۔ایک یہ کہ وہ اجتماعی عبادات کو جاری رکھے ہوئے ہیں اوردوسرے یہ کہ وہ COVID کی وباء کے پھیلاؤ کا باعث فحاشی اور خواتین کی بے راہ روی کو ٹھہراتی ہے ۔

برصغیر کےمسلمانوں کی عظیم اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ COVID وباء کا پھیلاؤ عذاب الٰہی کا مظہر ہے ہم پرویسے ہی عذاب نازل ہوا ہے جیسے عاد وثمود اور قوم لوط پر ان کی گمراہیوں کی سبب نازل ہوتا رہاہے

ہم مدت سے کہتے ہیں آئے ہیں کہ پاکستانی ریاستی نظام کو دہریہ خطوط پر مرتب کرکے یہاں کہ سامراج پٹھو حکمرانوں نے قوم کو عذاب الٰہی کا مستحق بنادیا ہے ۔یہاں شرع نافذنہیں ۔پاکستان کا پہلا وزیر قانون ایک کٹرہندو تھا جس کو جناح صاحب نے مقرر کیا۔یہاں سود اور سٹہ کا کاروبار پہلے روز سے جاری ہے ۔فحاشی اور عریانی کا سیلاب آیا ہوا ہے جس کی ہر دہریہ حکومت اور پارٹی پشت پناہی کررہی ہے ۔سامراج کی بھیک پر انحصار کیا جارہاہے ۔علوم اسلامی کی بنیاد پر حکومتی پالیسی تدوین کا کوئی امکان نہیں ۔

ایسے میں عذاب الٰہی آنا ناگزیر ہے ۔جب تک سامراج نواز دہریہ منحوس حکومتیں برسراقتدار آتی رہیں گی ہم اپنے آپ کو عذاب الٰہی کا مستحق ثابت کرتے رہیں گے کیونکہ یہ دہریہ حکومت سود اور سٹےکا کاروبار جاری رکھیں گی ،عیاشی اور فحاشی کو فروغ دیتی رہیں گی،شریعت کی تنفیذ کو ناممکن بناتی رہیں گی سامراج کی کا سہ لیسی پر اصرار کرتی رہیں گی ۔

آج ان دہریہ حکومتوں نے essential servicesپر پابندیاں اٹھالیں ہیں۔ کیا نماز باجماعت essential services نہیں،کیا محافل ذکر اور اجتماعی توبہ essential services نہیں،کیا تبلیغ essential services نہیں ،نماز ،ذکر ،تبلیغ دہریہ حکمرانوں کے لئےessential servicesاس لئے نہیں کیونکہ وہ سامراج کو services دیتے ہیں اللہ رب العزت کے مطیع نہیں ۔

ہم اسلامی انقلابی ہیں ۔ہم یہ بات خوب جانتے ہیں کہ اجتماعی توبہ تو درکنار یہ دہریہ حکمران برصغیر کو جہنم بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے۔ COVID وباء کے پھیلاؤ سے فائدہ اٹھا کر وہ ان ممالک میں اسلامی اجتماعیت اور مذہبیت کو مجروح کرنے کی مذموم جدوجہد کررہے ہیں ۔

آج ان دہریہ حکمرانوں نے تبلیغی جماعت پر ہاتھ ڈالا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت پورے برصغیر میں اسلامی مذہبیت اور معاشرت کو فروغ دینے اور منظم کرنے والی ایک اہم قوت ہے ۔یہ راسخ العقیدہ اسلامیوں کی ایک اہم ترین عوامی تحریک ہے جس کے بلاشبہ ایک کروڑ سے زیادہ متاثرین برصغیر میں پھیلے ہوئے ہیں اور اپنی شب روز کی محنت سے دینی شعار کا تحفظ اور دینی عصبیت کو فروغ پہنچا رہے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اب عظیم اسلامی تحریک سامراج کے ھدف پر کیوں نہ ہوگی۔

یہ کھٹکتی ہے دل کافر میں کانٹے کی طرح

تبلیغی جماعت کو سامراجی دست برد سے محفوظ رکھنا تمام اسلامی جماعتوں کا فرض ہے ۔اس ناز ک موقع پر تمام اسلامی قوتوں کو تبلیغی جماعت کے ساتھ شانہ بشانہ ملا کرکھڑے ہوجانا چاہئے اور اس بات کا ببانگ دہل اعلان کرنا چاہئے کہ COVID کے پھیلاؤ کے ضمن میں تبلیغی جماعت کا مؤقف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اور بالکل درست ہے ۔یقیناً وباء کے پھیلاؤ عذاب الٰہی کا مظہر اور برصغیر میں معاصی کے سیلاب کا نتیجہ ہے ۔یقیناًنماز باجماعت ،محافل ذکر اور تبلیغ وہ essential services ہیں جن کو انجام دیئے بغیر اجتماعی توبہ کا تصوربھی نہیں کیاجاسکتا ۔

آج سامراج نواز دہریہ حکمران تبلیغی جماعت کی ادارتی ناکہ بندی کی تیاری کررہے ہیں اورتبلیغی تنظیم اور عمل monitoring and surveillance کا اہتمام کیاجارہاہے ۔monitoring and surveillance کی یہ منصوبہ بندی طویل المدت نوعیت کی ہے اور سامراج کو امید ہے کہ اس نظام کا تنفیذی عمل ہنگامی حالات تک محدود نہ رہے بلکہ دائمی ہو۔ تبلیغی عمل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دہریہ ریاستی انتظامی جکڑبندیوں میں محدود کرلینا چاہئے ۔

اس نوعیت کی سرمایہ دارانہ ریاستی جبر کی تنفیذ کا رویہ administrative law اورstatutesہوتے ہیں جن کی تخلیق دہریہ حکومت کی نوکر شاہی کرتی ہے (مقننہ نہیں (اور یہ عموماً ماورائے دستور ہوتے ہیں اور یہ سرمایہ دارانہ human right کی مشروط معطلی پر منتج ہوتے ہیں ۔

اس نوعیت کی استبداد سے نبردآزماہونے کے لئے گہرے سیاسی شعور اور سرمایہ دارانہ ریاستی عمل کی نوعیت سے واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔افسوس اس بات کا ہے کہ آج برصغیر کے اسلامی گروہوں کی سیاسی قوت بھی محدود ہے اور ان کا سیاسی شعور بھی محدود ہے ۔ہم برصغیر میں جاری ریاستی ساختی کارفرمائی کے عمل سے کمہ حقہ واقف نہیں لہذا اس عمل کے تضادات سے فائدہ اٹھانے سے عموماً قاصر رہتے ہیں ۔ہرصورت جوکچھ سیاسی قوت اور فہم ہمیں میسر ہے اس کو اس موقع پر تبلیغی جماعت پر ریاستی استبدادختم کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے ۔

ہماری حالیہ سیاسی پسماندگی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہماری عوامی جماعتیں ،تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی سیاسی عمل کو شجر ممنوعہ سمجھتی ہیں اور ان کی نظر میں تحفظ دین کی جدوجہد کا غلبہ دین کی جدوجہد سے فی زمانہ کوئی تعلق نہیں اور اپنی اس غلط فہمی کی ہمیشہ ایک بہت بھاری قیمت اداکرنی پڑی ہے ۔کم از کم تبلیغی جماعت کے لئے اس غلط فہمی کو دور کرلینا ضروری ہے ۔تبلیغی زعما ءکو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ دہریہ ریاست administrative law and statutesکے ذریعہ ان کے خلاف ایک طویل المدت جنگ کی منصوبہ بندی کرنی ہے جس کا مقصد تبلیغی تنظیم اور عمل کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دہریہ ریاستی گرفت میں لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردینا ہے ،تبلیغی زعما ء سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ اسلامی سیاسی جماعتوں کے بارے میں اپنے شبہات کو رفع کریں ۔

سمجھتے ہو کیوں پہرہ داروں کو رہزن

تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی ،جمعیت علماء اسلام ،جماعت اسلامی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا فطری حلیف اور معاون سمجھیں اور 2023-24 کے انتخابات سے قبل ایک ایسا ملک گیر اسلامی اتحاد قائم کیاجائے جو تمام مخلصین دین کے دل کی آواز ہو اور جس کی تابناک انتخابی کامیابی کی بنیاد پر ہم سامراجی دہریہ ریاستی استبدادکو پارہ پارہ کرنے کی جدوجہد برپا کردیں ۔ جاوید اکبر انصاری