امین اشعر بھائی السلام علیکم
1۔ جب یہ کمپوز ہو جائے تو مجھے پروف ریڈنگ کے لیے بھیج دیں۔
2۔ پروف ریڈ مواد البرہان کو اور علی بھائی کو اسلامی انقلاب کے لیے بھیج دیں۔
3۔ یہ مضمون نعیم الرحمن اور رضی کو بھیج دیجیے اور شاہ نواز فاروقی کو بھی۔
4۔ میری رائے ہے کہ اگر یہ مضمون ہمارے حلقہ کے رفقا بھی پڑھ لیں اور اس پر بحث ہو جائے تو بہتر ہے۔ احقر جاوید
تحریک انصاف کی مزاحمت سے اسلامی انقلابی کیا سیکھ سکتے ہیں؟
تحریک انصاف کی مزاحمت بظاہر ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ لیکن یہ جدوجہد جن مراحل سے گزر رہی ہے اس کا مطالعہ اسلامی انقلابیوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ تحریک انصاف کی جدوجہد کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر پاکستانی عوام متحرک کیے گئے اور عوام کا سیاسی تحرک اسلامی انقلاب کو برپا کرنے کے لیے (پاکستان کے معروضی حالات میں) ضروری ہے۔
چنانچہ اس مضمون میں تحریک انصاف کی جدوجہد کا ایک اسلامی نقد مرتب کرنے کی کوشش کروں گا۔ پہلے اس جدوجہد کے مقاصد و اہداف کی نشان دہی کی جائے گی۔ پھر جدوجہد کی حکمت عملی اور اس حکمت عملی میں مضمر خوبیوں اور خامیوں کا تذکرہ کیا جائے گا اور آخر میں اس جدوجہد سے اسلامی انقلابی جو سبق حاصل کر سکتے ہیں ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔
تحریک انصاف کی جدوجہد کے اثرات
تحریک انصاف ایک خالصتاً دہریہ جماعت ہے لیکن مسلم لیگ کی طرح اور پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے برخلاف یہ ایک اسلام دشمن جماعت نہیں۔ یہ جماعت عوامی اسلامی عصبیت کو قوم پرستانہ سرمایہ دارانہ مقاصد بالخصوص حصولِ آزادی اور ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
سرمایہ دارانہ تحکم سے تحریک انصاف کی وابستگی غیر مشروط ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر یا اس سے مراجعت کا کوئی تصور اس کے پاس موجود نہیں۔ اس کا نظریاتی بیانیہ سوشل ڈیموکریٹ ہے لیکن اپنے دورِ اقتدار میں اس نے جو پالیسی سازی کی وہ سوشل ڈیموکریٹ کا اظہار نہیں تھی بلکہ بلاشبہ نیولبرل تھی۔ اس نے کوئی صنعت یا کاروبار نہیں قومیایا (نیشنلائز)، مزدور تنظیموں کے ملکیتی، مسابقتی حقوق میں اضافہ نہیں کیا۔ ”ریاست مدینہ“ کے تناظر میں اسلامی معاشرت کی ایک سوشل ڈیموکریٹ نظریاتی تشریح مرتب کی۔ غیر ملکی ترسیل زر پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔
عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے وابستگی کو مستحکم رکھنا تحریک انصاف کے اہداف میں ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ 2019 میں اس نے آئی ایم ایف سے ای ای ایف معاہدہ کر کے سامراجی نظاماتی بالادستی کو قبول کر لیا۔ سامراجی ممالک سے تعاون اور اشتراک عمل پر زور دیتی رہی۔ تارکین وطن رہائشیوں اور سامراجی سرمایہ کاروں سے امداد مانگتی رہی اور مانگتی رہتی ہے۔ تحریک انصاف کی وضع کردہ خارجہ پالیسی دوسری پاکستانی دہریہ جماعتوں کی خارجہ پالیسیوں سے مختلف نہیں۔
تحریک انصاف کوئی انقلابی جماعت نہیں۔ یہ لاطینی امریکا کی انقلابی لہر کی ان جماعتوں سے بالکل مختلف ہے جو یوراگوئے، ارجنٹینا، وینزویلا، بولیویا وغیرہ میں برسراقتدار ہوتی رہی ہیں۔ یہ اندرونی ریاستی قوتوں سے مشاورت اور مصالحت پر آمادہ ہے۔ اس نے اپنے دور اقتدار میں کوئی قدم ایسا نہیں اٹھایا جس کے نتیجہ میں استبدادی ریاستی تفوق محدود ہو۔
حکمت عملی کی کامیابی اور ناکامیاں
تحریک انصاف کی اہم ترین کامیابی یہ ہے کہ اس نے پاکستانی عوام کے لیے ایک نیا مرجع تقلید پیدا کر دیا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت جناح صاحب سے تو کم ہے لیکن بھٹو اور بے نظیر سے زیادہ ہی ہے۔ عمران خاں کی یہ وابستگی کرشماتی ہے۔ جناح صاحب کے برخلاف عمران خاں کا کردار اور اس کی صفات مثالی نہیں۔ جناح صاحب ایک پکے اور سچے مسلم قوم پرست تھے۔ ان کی 30 سالہ سیاسی زندگی میں کبھی کسی کٹر سے کٹر مخالف نے ان کی دیانت اور راست گوئی پر اعتراض کرنے کی جرأت نہیں کی۔ عمران خان کی ذاتی کمزوریاں سب پر عیاں ہیں اور اس کی کرداری کمزوریاں ہی اس کی کرپشن مخالف تحریک کا ایک اہم سبب ہے۔ وہ کرپٹ ہو یا نہ ہو اس بات میں شک نہیں کہ نظاماتی اور اپنے فیصلوں کی کرپشن کو برداشت کرتا رہا ہے۔
عمران خاں ایک بہادر اور دلیر شخص ہے جو حوصلہ مندی سے مصائب جھیلنے کی سکت رکھتا ہے (نواز شریف اور بے نظیر کی طرح وہ ملک سے فرار ہونے پر آمادہ نہیں) لیکن بھٹو کی طرح وہ ایک megalomaniac یعنی خود پرست ہے۔ وہ کسی نظریہ سے جذباتی وابستگی نہیں رکھتا۔ بھٹو کوئی اشتراکی نہیں تھا۔ عمران خاں کوئی سوشل ڈیموکریٹ نہیں ہے۔ سوشل ڈیموکریسی اور مسلم ماڈرن ازم کو عمران خاں اپنے ذاتی اقتدار کے فروغ کا ذریعہ بنانے کا خواہش مند ہے (جیسا کہ بھٹو اشتراکیت کو بنانا چاہتا تھا)۔
خود پرستی کا اظہار پاکستانی عوام اپنے نجات دہندہ کی پرستش میں کرتے ہیں۔ پاکستان کا ایک عام باشندہ اپنے آپ کو کمزور، لاچار اور بے بس سمجھتا ہے اور اپنے محدود دائرہ خود غرضیت میں اس بے چارگی کا اظہار کرتا رہتا ہے لیکن اس لاچارگی اور بے بسی سے نجات کا خواہش مند ہونے کے باوجود اپنے لیے ناممکن تصور کرتا ہے اور ایک ایسے فوق البشر کی تلاش میں رہتا ہے جو نظاماتی لاچارگی اور بے بسی کو مسمار کر کے شخصی غلبہ حاصل کر لے۔
پاکستان کے عام باشندے کی نظریاتی وابستگی واجبی اور شخصی ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں مذہب سے وابستگی رکھتا ہے لیکن نظم اجتماعی (پبلک آرڈر) میں نظریاتی اظہار کو ناممکن تصور کرتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ وہ فوق البشر سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ اس کی بے بسی اور لاچارگی کو ختم کر دے گا کیونکہ یہ لاچارگی اور بے بسی نظاماتی ہے اور نظاماتی تسخیر کا کوئی تصور عام پاکستانی عوام کی نظر میں معقول نہیں۔ وہ فوق البشر کی غیر مشروط پرستش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے ”منزل نہیں رہنما چاہیے“۔ رہنما کا ہر فعل عوام کی نظر میں جائز ہے بشرطیکہ یہ عمل رہنما کی قوت/خدائی کا اظہار ہو۔
بھٹو کی طرح عمران خان نے بھی اپنی قوت کے اظہار کے لیے عوامی تعامل کا سہارا نہیں لیا بلکہ روایتی سیاسی اشرافیہ، سرمایہ کاروں اور ڈیپ سٹیٹ کے مقتدرین پر انحصار کیا۔ یہ گروہ عمران خان کی پرستش نہیں کرتے۔ وہ اس کی عوامی ربوبیت کو اپنے روایتی سیاسی اورمعاشی تسلط کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس روایتی اشرافیہ کی جماعتی قیادت کا رویہ تحریک انصاف کو ایک عوامی مزاحمتی تحریک نہیں بننے دیتی۔
تحریک انصاف کی روایتی قیادت ڈیپ سٹیٹ اور سامراج سے تصادم سے خائف اور مصالحت پر آمادہ ہے۔ لہٰذا ہر مزاحمتی عمل نامکمل اور ناکام رہتا ہے اور تحریک کے انتشار اور پسپائی پر منتج ہوتا ہے۔ اپنی فطری جرات مندی کے باوجود عمران خاں نے کم از کم ابھی تک اس روایتی اشرافیہ پر حاوی ہونے یا اس سے نجات حاصل کرنے کی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا اور جلد یا بدیر یہ کم حوصلگی عمران خاں کو حاصل شدہ عوامی پرستش میں کمی کا باعث بنے گی۔
تحریک انصاف کی پالیسی ساز روایتی اشرافیہ تو ڈیپ سٹیٹ سے مصالحت پر آمادہ ہے اور عمران خاں کو مصالحت پر راضی کر رہی ہے۔ لیکن کیا ڈیپ سٹیٹ مصالحت کی ضرورت محسوس کر رہی ہے؟ اس میں شک نہیں کہ اگر مصالحت ہوئی تو ڈیپ سٹیٹ کے طے شدہ terms پر ہو گی۔لیکن اگر اس مصالحت میں عمران خاں برسر اقتدار آیا اور اس س کم وہ راضی نہیں کیا جا سکتا، تو کیا اس قسم کی مصالحت دیر پا ثابت ہو گی؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اپنی عوامی پرستش کو برقرار رکھنے کے لیے عمران خاں کے لیے یہ ناگزیر ہو جائے گا کہ وہ ڈیپ سٹیٹ کے نظاماتی تفوق کو محدود کرتا رہے۔
ڈیپ سٹیٹ کو عوامی تائید کی ضرورت کیوں ہے۔ پاکستان ایک دہریہ جمہوری ریاست ہے اور ریاستی دہریت اور جمہوریت فروغ دینے میں ڈیپ سٹیٹ کے سامراجی آقاؤں کی ترجیحات بھی شامل ہیں۔ لیکن ڈیپ سٹیٹ نہ سامراجی جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لیے عوامی تحرک کے فروغ کو برداشت کرنے پر آماد ہ نظر نہیں آتی۔ پاپولسٹ جماعتیں سامراج نواز ہو سکتی ہیں جیسا کہ مودی کے بھارت اور نیتن یاہو کے اسرائیل سے ثابت ہے لیکن پاپولسٹ ریاستوں کو برداشت کرنے کے لیے سامراج کو جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے فی الحال اس کی کوئی ضرورت پاکستان کے ضمن میں امریکا کو نظر نہیں آتی۔ پاکستانی ریاست جناح صاحب کے وقت سے لے کر آج تک ہمیشہ ایک تابع دار نیو کالونی بنے رہنے پر کمربستہ رہی ہے۔
عمران خان کا سامراج سے وابستگی پیچیدہ رہی ہے ۔ وہ سامراج کا حلیف ہے۔ اس لیے اپنے دورِ اقتدار میں اسرائیل تک سے پاکستان کے تعلقات کو نارملائز کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ امریکا اور سعودی عرب کا باج گزار رہا ہے اور آج بھی یورپی اور امریکی مقننہ کے ممبروں کی حمایت اس کو حاصل ہوتی رہتی ہے۔ لیکن یوکرائن جنگ کے ابتدائی دور میں اس نے روس کا دورہ بھی کیا اور اپنی حکومت کی برطرفی کو برملا امریکی سازش کا نتیجہ بھی کہا۔ وہ اپنی خودمختاری پر سامراجی (امریکی یا چینی) گرفت کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور اس بات کا احساس ہے سامراجی تابع داری اس کی عوامی پرستش کو مجروح کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ وہ ناصر اور تیتو اور نہرو کا پیرو ہے کوئی ہٹلر یا مسولینی یا شاویز نہیں۔
تحریک انصاف کے تجربہ سے اسلامی انقلابی کیا سیکھ سکتے ہیں؟
ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ اسلامی انقلابی اس شخص کو کہتے ہیں جو مولانا مودودیؒ کے وضع کردہ ان تین اجتہادات پر اعتبار رکھتا ہے:
1۔ اسلام ایک خود کفیل نظام حیات ہے۔
2۔ مغرب کا وضع کردہ نظام حیات یعنی سرمایہ داری جاہلیت خالصہ ہے۔
3۔ جاہلیت خالصہ کے خلاف جدوجہد میں ریاستی تحلیل مقدم حیثیت رکھتا ہے۔
اسلامی انقلابی وہ ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ریاستی عمل کے ذریعے جدوجہد کرنے کا فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ ہم یہ فریضہ پاکستانی سرمایہ دارانہ نظام کے تناظر میں ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمارا تخاطب لازماً پاکستانی عوام سے ہے۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی پیش رفت سے واضح ہوگیا کہ پاکستانی عوام کی جذباتی اور دماغی کیفیت غلبہ دین یعنی اسلام کے نظم اجتماعی کے قیام اور فروغ کے لیے موزوں نہیں۔ وہ فوق البشر کی پرستش کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ
سروری زیبا فقط اسی ذاتِ بے ہمتا کوہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتانِ آذری
پاکستانی عوام میں ایسے افراد کی تعداد محدود ہے جو اپنی ذاتی زندگی میں شرع مطہرہ کے پابند ہیں۔ انہیں ہم مخلصین دین کہتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں مخلصین دین مجموعی آبادی کے دو کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔ یہ دو کروڑ مخلصین دین بھی نظم اجتماعی میں اپنی اسلامی شناخت کے اظہار سے گریزاں رہتے ہیں اور عوام کی طرح اپنی نظاماتی بے بسی اور لاچارگی کو دائمی اور فطری تصور کرتے ہیں۔ علمائے کرام، صوفیائے عظام، مبلغین اور معلمین کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں مخلصین دین کی تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ مسجدیں بھری ہوئی ہیں۔ مدارس پھل پھول رہے ہیں۔ خانقاہوں اور مزارات پر ہجوم ہے۔ مسلکی جماعتوں کا کام بڑھ رہا ہے۔ شعائر دین کے تحفظ میں تحریک لبیک پیش پیش ہے اور فدایانِ ناموس رسالت کی کوئی کمی نہیں۔
لیکن مخلصین دین کی نظاماتی بے بسی ، لاچارگی اور بے توقیری میں کوئی کمی واضح نہیں ہو رہی اور پاکستانی نظم اجتماعی کی دہریت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ پاکستانی ریاست پر سامراج کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور مخلصین دین تماش بین کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقامت دین کی ادائیگی کے لیے صرف اصلاحی اور تبلیغی جدوجہد کافی نہیں۔ جب نظام اقتدار دہریوں کے ہاتھوں میں رہے تبلیغ اور تعلیم اور اصلاح کی معاشرتی محنت ہمیشہ محدود رہتی ہے۔ مکہ میں ہجرت سے قبل لگ بھگ تین ہزار کی آبادی میں سے صرف سو کے قریب لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ جب ریاست کی طاقت میسر ہوئی تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے اور اصلاح اور تبلیغ کا کام بارآور ثابت ہونے لگا۔
لہٰذا پاکستان میں انقلاب کے اس مرحلہ میں ہمارا اصل کام مخلصین دین کو متحد اور منظم کرنا ہے۔ ہمیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی مساجد کی بنیاد پر ایک ریاست درون ریاست قائم کرنے کی کوشش کرنا ہے تاکہ محلہ و بازار کی سطح پر نظاماتی اقتدار ائمہ مساجد کی قیادت میں مخلصین دین کے ہاتھوں میں آ جائے اور مسجد میں اقتدار کا یہ نیٹ ورک معاشرے کو غیر دہریانہ، غیر جمہوری خطوط پر مرتب کرنے کی استعداد بتدریج حاصل کرنا ہے۔ ہماری احتجاجی اور انتخابی جدوجہد کا مقصد اسی مقامی اسلامی ادارتی استعدادی صف بندی کو منظم کرنا ہو۔ ہماری سامراجی مخالفت محض زبانی کلامی نہ ہو بلکہ اس کی معاشرتی نظاماتی تحلیل پر منتج ہو۔ ہم سامراجی اسکولوں، سامراجی بینکوں، سامراجی این جی اوز کو اپنے محلوں، بازاروں، دیہاتوں اور شہروں سے باہر نکال دیں اور سامراجی ریاستی معاہدوں کی تنفیذ کو ناممکن بنانے کی کوشش کریں۔
یہ کام ایک انقلابی اسلامی جماعت ہی انجام دے سکتی ہے۔ اصولاً جماعت اسلامی ایک اسلامی انقلابی جماعت ہے ۔ تنظیم اسلامی اور تحریک اسلامی اصولاً انقلابی جماعتیں نہیں کیونکہ وہ ریاستی عمل کوغیر معینہ مدت تک ملتوی کر چکی ہیں کیونکہ وہ مولانا مودودی کی تین بنیادی اجتہادات (اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، مغرب جاہلیت خالصہ ہے اور اقامت دین کے فرض کی ادائیگی میں سیاسی عمل کی تحلیل) کو اصولاً قبول کرتی ہے اور جماعت اسلامی کا ایک عام کارکن اپنے اسلامی انقلابی تشخص کو قبول کرتا ہے۔
لیکن جماعت اسلامی عملاً کوئی اسلامی انقلابی جماعت نہیں۔ وہ ایک سوشل ڈیموکریٹ جماعت بنتی جا رہی ہے اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لے ایسی رفاہ عامہ کی تحریکیں چلا رہی ہے جس کا کوئی تعلق فریضہ اقامت دین کی ادائیگی سے نہیں۔ اس کی بدترین مثال ”حق دو کراچی کو“ اور ”بنو قابل“ کی تحریکیں ہیں۔ الخدمت کا وہ کام ہے جو اقوام متحدہ کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے۔ وہ ڈیپ سٹیٹ کے اتنے زیر اثر ہے کہ وہ اپنے مظاہروں کے فیصلہ سے متعلق حکومت سے سمجھوتا ہوا تھا۔ اس کی صریح وعدہ خلافی کے باوجود کوئی عمل ظآہر کرنے کی جرات نہیں رکھتی۔ اس کے احتجاج، تحریک انصاف کے احتجاجوں کی طرح قطعاً ناکام ثابت ہو رہے ہیں اور اس قسم کے احتجاج سرمایہ دارانہ جمہوری تحکم کو مضبوط کر رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر محترم نعیم الرحمان فرماتے ہیں ”ابھی جماعت اسلامی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ نظاماتی انہدام کے لیے جدوجہد کرے“۔ ان کو اس کا احساس نہیں کہ وہ جماعت کو جس سمت میں لے جا رہے ہیں اس کے نتیجہ میں جماعت کی انقلابی صلاحیت بالکل فنا ہو تی جا رہی ہے اور جماعت ایک سرمایہ دارانہ رفاہی پریشر گروپ بنتی جا رہی ہے۔ یہ جماعت اسلامی کی نظریاتی خود کشی کے مترادف ہے۔
ضرورت اس بات کی نہیں کہ جماعت سیاسی جدوجہد کو ترک کر کے روایتی اصلاحی جماعت بن جائے جیساکہ بہت سے مخلصین دین سابق جماعتی علما کی رائے ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت اپنی اسلامی انقلابی شناخت کو اجاگر کرے۔ سوشل ڈیموکریٹ اقدامات کو ترک کرے، دستوری جکڑبندیوں کی تحلیل کی جستجو کرے، مخلصین دین کو علمائے کرام اور صوفیائے عظام کی قیادت میں متحد اور منظم کرنے کی کوشش کرے۔
تحقیق سے ثابت ہے کہ جب تک مجموعی آبادی کے تقریباً تین فیصد باشندے متحد اور منظم نہیں کیے جاتے اس وقت تک طویل المدت تحریکات نہیں برپا کی جا سکتیں اور جو احتجاج اور انتخابی طویل المدت تحریکات کی شکل اختیار نہیں کر پاتی وہ انقلاب کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہو سکتے۔ اس قسم کا عوامی دیر پا تحرک پاکستان کی تاریخ میں کبھی برپا نہیں کیا جا سکا اور یہی وجہ ہے کہ 1968ء اور 1977ء میں مزاحمتی جدوجہد کے نتیجہ میں ریاستی اشرافیہ میں تبدل عمل میں آیا تو رائج شدہ نظم اجتماعی اور اس نظم اجتماعی کی سامراجی پیوستگی قائم رہی۔
پاکستان میں ملک کی بالغ آبادی کا تین فی صد کی تعداد تقریباً تیس لاکھ بنتی ہے۔ اسلامی انقلابی جدوجہد کو موثر انداز میں جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ تیس لاکھ افراد کی اسلامی انقلابی خطوط پر ادارتی صف بندی کر کے اس طرح منظم اور متحد کرے کہ وہ ریاستی اقتدار پر فی العمل قابض ہوتے چلے جائیں۔ اقتدار یا غلبہ عملی ہو محض علامتی نہ ہو۔ ان معنوں میں کہ معاشرتی سطح پر دہریہ ریاستی تحکم کی تنفیذ بتدریج کمزور ہوتی چلی جائے۔ یہ معاشرہ کو غیرجمہوری خطوط پر ازسرنو مرتب کرنے کا عمل ہے اور اس کو جاری رکھے بغیر دستوری نظاماتی تناظر نہ احتجاج انقلابی پیش رفت پر منتج ہو سکتے ہیں نہ انتخابی جدوجہد۔
اگر جماعت اسلامی اپنی اصولی انقلابی شناخت کا اپنے عمل میں اظہار کرتی ہے تو اسے جلد یا بدیر اس کام کا بیڑا اٹھانا ہو گا۔ اس نے ایسا نہ کیا تو پاکستان میں مولانا مودودیؒ کے تین کلیدی اجتہادات (اسلام ایک مکمل خود کفیل نظام زندگی ہے؛ مغرب جاہلیت خالصہ ہے؛ دور حاضر میں اقامت دین کا فریضہ ادا کرنے کے لے سیاسی عمل کی تقویم لازمی ہے) بے معنی ہو جائیں گے۔ ورنہ اس پر ریاست قبضہ کر لے گی اور وہ سیکولر سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی میں ضم ہو کر ایک سوشل ڈیموکریٹ پریشر گروپ بنتی چلی جائے گی۔
دیکھو کہیں اجڑے نہ ہمارا یہ نشیمن
اس کو لہو سے اپنے شہیدوں نے ہے سینچا
اس کو بچانا جان مصیبت میں ڈال کے
جماعت کو رکھنا میرے یارو سنبھال کے
جاوید اکبر انصاری