جاوید اکبر انصاری
تیری گفتار میں کمخواب کی لطافت ہے
تیرے کردار میں فولاد کی صلابت ہے
صورت موجہء خوشبو ہے گفتگو تیری
مثال برق ہے بیتاب جستجو تیری
راحت غیر کی خاطر تو ستم کوش رہا
اپنے ہر درد پر لیکن سدا خاموش رہا
تیرے افکار ہیں آزاد خاک ناسوتی
تیرے اہداف کا عالم ہے فقط لاہوتی
شراب ناب سے لبریز ہے پیمانہ تیرا
ورا ہے اختر نجوم سے کاشانہ تیرا
کچھ ایسا دہر میں یکتا ہے آستانہ تیرا
کمال ہوش کو پالیتا ہے مستانہ تیرا
(اسد شہزاد)