تحفظ دین کے لیے جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک میں انتخابی اتحاد ضروری ہے
سیاسی منظرنامہ
حزب اختلاف تحریک انصاف کو 2022ء میں انتخابات منعقد کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح یہ انتخابات بھی غیر منصفانہ ہوں گے اور بڑے پیمانے پر دھاندلیاں متوقع ہیں۔
اگر عمران خان اپنی انتخابی مہم میں سامراجی مداخلت کا رونا روتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کھو دے گا اور یہ جماعت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو حاصل ہو جائے گی۔ بہرطور ان انتخابات میں بھی زیادہ تر وہی لوگ منتخب ہوں گے جو پچھلے تمام انتخابات میں منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی جمہوریت کی سیاسی ساخت میں کوئی نمایاں تبدیلی پچھلے 75 برسوں میں رونما نہیں ہوئی اور ہم نے اس میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس سیاسی ڈھانچے میں عوام کا ہر گروہ اپنے سیاسی مربی کے تابع ہے۔ اور اسی سیاسی مربی کے حصولِ اقتدار سے فیض یافتہ ہونے کی امید رکھتا ہے۔ یہ سیاسی مربی الیکٹیبلز ہیں اور جمہوری عمل کے ذریعہ یہ الیکٹیبلز اپنے مخصوص گروہی موالیوں کے مفادات کو فروغ دیتے رہتے ہیں۔
اس سیاسی ڈھانچہ کی معاشرتی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ ہمارے عوام لاطینی امریکی اور مشرقی یورپی عوام وغیرہ کے برخلاف عمومی سرمایہ دارانہ ناانصافیوں کے خلاف متحرک نہیں ہوتے۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری، کشمیر کی زمین میں پسپائی، سامراجی تغلب کو برداشت کرنے دیتے ہیں اور اپنی سیاسی شمولیت سے ان مجموعی مسائل کے حل کی کوئی توقع نہیں رکھتے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں میں کوئی نمایاں فرق نہیں پایا جاتا۔ عمران خان کے بہت سے شریک کار سابق پیپلز پارٹی اور مشرف لیگ کے تھے۔ اگر 2022ء کے انتخابات میں مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی تو وہی پالیسیاں جاری رہیں گی جو تحریک انصاف نے اپنائی ہوئی تھیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کی توسیع کی جائے گی۔ کشمیر کا معاملہ سرد خانہ کے سپرد رہے گا۔ چین اور امریکا کی خوش نودی کی جستجو جاری رہے گی۔ کرپشن پھلتی پھولتی رہے گی۔
اسلامی انتخابی مہم کے مقاصد
ان حالات کے پیش نظر بیش تر مخلصین دین انتخابی عمل سے فطرتاً مایوس ہیں۔ لیکن یہ مایوسی حق بجانب نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی تناظر میں انتخابات رائج شدہ موالیاتی سیاسی ڈھانچہ میں رخنہ اندازی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ملک میں مخلصین دین کی تعداد ایک سے لے کر دو کروڑ تک ہے۔ رائے دہندگان میں 2018ء میں مخلصین دین کا تناسب تقریباً دس فیصد تھا۔
مخلصین دین وہ لوگ ہیں جن کی دینی عصبیت ان کی دیگر عصبیتوں پر غالب ہے۔ سیاسی عمل میں ان کی شرکت کا مقصد ان کی دینی وابستگی عموماً ان کی موالیاتی نظاماتی شرکت پر غالب ہے۔ مخلصین دین کے تحرک اور تنظیم کے ذریعہ موالیاتی نظام میں دراڑیں ڈالی جا سکتی ہیں۔
مشرف کے دور سے لے کر آج تک سامراجی گھس بیٹھیے ہمارے تعلیمی اور ثقافتی نظام کو دہریانے یعنی سیکولرائز کرنے کے درپے ہیں۔ عمران خان نے بھی اس سامراجی مہم کو آگے بڑھایا ہے۔ اس نے ایک دہریہ کو اسلامی نظریاتی کونسل کا سربراہ بنایا۔ قومی نصاب تعلیم سے اسلامی مواد کا اخراج کیا۔ مدارس پر ریاستی جبر مسلط کیا۔ عورتوں کے حقوق کے فروغ کے لیے قانون سازی کی وغیرہ۔ 2022ء کے انتخابات میں ہماری شرکت کا بنیادی مقصد معاشرتی دہریت کی اس مہم کو ناکام بنانا ہونا چاہیے۔
حکمت عملی
اس مقصد کے حصول کے لیے سب سے اہم ضرورت اسلامی جماعتوں میں انتخابی اتحاد کی ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو تقریباً 53 لاکھ ووٹ ملے تھے۔ تحریک لبیک سرفہرست تھی۔ اس کےبعد جمعیت علمائے اسلام اور اس کے بعد جماعت اسلامی اگر ان تینوں جماعتوں میں موثر انتخابی اتحاد ہو جائے تو ہمیں بلاشبہ 2022ء میں ایک کروڑ سے زیادہ ووٹ مل سکتے ہیں۔ پنجاب میں بالخصوص جمعیت علما اور تحریک لبیک کا اتحاد نہایت موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ اتحاد بین المسلمین کی ایک بہترین پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں دیوبندی، بریلوی اتحاد کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے جو تحفظ دین کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ اتحاد قائم نہ ہوا تو ہمارا ووٹ بینک منتشر رہے گا اور آیندہ اسمبلی میں دفاع دین کا فریضہ انجام نہ دے سکیں گے۔
اسلامی انتخابی اتحاد تحفظ دین کے لیے لڑے۔ اس کا منشور خالصتاً اسلامی ہو۔ ان تمام حکومتی اقدامات کی بھرپور مذمت کی جائے جو معاشرتی دہریت کو فروغ دینے کے لیے ماضی میں اپنائے جاتے رہے ہیں۔ ہماری انتخابی مہم خالصتاً جذباتی فضا میں لڑی جائے اور ہمارا بنیادی نعرہ تحفظ ناموس رسالت ہو۔ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری ہمارا بنیادی انتخابی مطالبہ ہو۔ اپنے حلقہ اثر میں (جو تقریباً دو کروڑ مخلصین دین پر مشتمل ہے) یہ رائے عام کرنے کی ضرورت ہے کہ سامراجی ثقافتی یلغار کے سبب پاکستان میں اسلامی معاشرت شدید خطرے میں ہے۔
اس بات کی بھرپور کوشش کی جائے کہ غیر سیاسی جماعتیں مثلاً تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی وغیرہ انتخابی عمل سے غیر متعلق نہ رہیں۔ زیادہ سے زیادہ انتخابی دفاتر مدارس اور مساجد میں قائم کیے جائیں۔
اتحاد کو امیدوار صرف ان حلقوں میں نامزد کرنے چاہئیں جہاں کامیابی کی امید کم از کم پچاس فیصد ہو۔ اس قسم کے حلقوں کی نشان دہی پیشہ ورانہ پولنگ ایجنٹس کی مدد لے کر کی جائے۔
دہریہ جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ کی جائے۔ اس میں اسلام دشمن دہریہ جماعتیں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور سندھ کی قوم پرست جماعتیں شامل ہیں۔ دیگر جماعتوں مسلم لیگ (ق، ن)، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ف) قومی وطن پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جا سکتی ہے۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے مقاصد اسلام دشمن جماعتوں کو ناکام بنانا اور اپنے امیدواروں کو کامیاب بنانا ہونا چاہیے۔
2018ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی میں ہمیں 15 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ اگر تحریک لبیک اور جمعیت علما میں موثر اتحاد قائم ہو اور ہم ایک جذباتی انتخابی مہم چلانے میں کامیاب ہو گئے تو انشاء اللہ ہمیں 2022ء کے انتخابات میں 30 سے 40 نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں اور اس کا بھی امکان موجود ہے کہ ہم پختونخوا اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگر جمعیت علما اور تحریک لبیک میں اتحاد قائم نہ ہو سکا تو ہماری کارکردگی 2018ء سے بہتر نہ ہو گی اور ہم پاکستانی سیاسی نظام میں اپنی وہ ساکھ قائم نہ رکھ سکیں گے جو مولانا فضل الرحمان کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں پی ڈی ایم کی مزاحمت کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوئی ہے اور معاشرتی سیکولرائزیشن کا عمل کمزور پڑے گا۔
جاوید اکبر انصاری