جمہوریت، تحکم قانون اور اسلامی انقلابی جدوجہد
سرمایہ دارانہ جمہوری سیاسی نظام میں قانونی تحکم (rule of law) ترتیب و تنفیذ اقتدار کا ایک اہم (لیکن واحد نہیں) ذریعہ ہے۔ اسلامی انقلابیوں کے لیے سرمایہ دارانہ قانونی نظام کی کارفرمائی کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ نظام انقلابی عمل کی تحدید کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
عدلیہ سرمایہ دارانہ ریاست کا ایک کلیدی ادارہ ہے۔ وہ مقننہ، کارپوریشنوں، انتظامیہ (سول اور فوجی) اور میڈیا کی کارفرمائی کی احاطہ بندی کو جوازبھی فراہم کرتی ہے اور ان دوسرے ریاستی اداروں کی معاونت بھی کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی نظروں میں عدلیہ کی اہمیت مختلف النوع ہوتی ہے۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ اقتداری نظام میں عدلیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ جمہوری عمل استبدادی ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی نظام کی درجہ بندیاں غیر لچک دار اور سخت ہو رہی ہیں۔
پاکستانی ریاست میں ایک سرمایہ دارانہ استبدادی جمہوریت بنتی جا رہی ہے جس میں انتظامیہ اور عدلیہ کا دائرہ اختیار مقننہ سے کہیں زیادہ ہے اور یہ استبدادی ریاستی نظام سامراج کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔ تحکم قانون معاشرت پر سرمایہ اور سامراج کی گرفت کو مضبوط کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تمام دہریہ جماعتیں تقدس تحکیم قانون کی مستقل دہائی دیتی رہتی ہیں۔
عوامی حلقوں میں بھی تحکم قانون ایک مقبول مطالبہ ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس سے امن و امان قائم ہوتا ہے، کرپشن کم ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور سرمایہ دارانہ ظلم کی تحدید ہوتی ہے۔عموماً جب کسی ملک میں معاشی اور سیاسی بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو عدلیہ کے اقتدار میں توسیع پیدا ہوتی ہے۔ سیاسی عمل میں عدلیہ کا عمل دخل بڑھ جاتا ہے۔ قانونی فیصلے سیاسی و پارلیمانی فیصلوں پر مقدم ہو جاتے ہیں۔ اور یوں ریاستی عمل کی عوامی بنیادی کمزور پڑ جاتی ہیں۔
jurisprudence کی اصطلاح میں اس عمل کو "law fare" کہتے ہیں۔"Law fare" سے مراد ہے ”اپنے مخالف سے مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی نہیں قانونی ذرائع کا استعمال“۔ دوسرے لفظوں میں ووٹ بے عزت ہو جاتا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تحکم قانون اصل میں تحفظ قانون سرمایہ ہے۔ یعنی قانونی نظام کا وجودی مقصد سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ ہے۔ اس کا کوئی اور مقصد نہیں۔ سرمایہ دارانہ قانون کسی معنوں میں بھی غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ وہ ہر جسم، ہر رائے اور ہر ملکیت کو بڑھوتری سرمایہ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتا ہے اور ہر عمل کو اسی پیمانہ پر جانچتا ہے کہ اس کے وقوع پذیر ہونے پر بڑھوتری سرمایہ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ کیا اثر مرتب ہو گا۔قانونی نظام کی جوازیت لازماً نظریاتی ہوتی ہے۔ مثلاً پاکستانی عدلیہ کی جوازیت ہمارا سرمایہ دارانہ دستور فراہم کرتا ہے جو ہیومن رائٹس کی تقدیس کو تسلیم کرتا ہے اور مغرب کے غیر تحریری دستوری نظام کا چربہ ہے۔ قانون معاشرہ کو انہی نظریات کی بنیاد پر استوار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس سے ماخوذ نہیں لیکن پاکستانی قانونی نظام پاکستان کو ایک لبرل معاشرہ بنانے کا ذریعہ ہے یہاں تک کہ دستور کی اسلامی شقوں کی قانون تشریح لبرل پیرائے میں کی جاتی ہے۔ قانون کی نظر میں بدامنی یہ ہے کہ لبرل اداروں اور رویوں کو زک نہ پہنچنے دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سود اور سٹہ کے مارکیٹوں اور ج کاری کے عمل کو آج قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ان معنوں میں رائج شدہ قانونی نظام غیر جانب دار نہیں بلکہ اسلام کا سیاسی حریف ہے۔
انتظامی اور قانونی کارفرمائی کا انضمام قومی تحفظ اور سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ یوں اقتداری اداروں میں تقسیم کار مجروح ہو جاتا ہے اور عدلیہ اور انتظامیہ مقننہ کو لاچار بنا دیتی ہیں۔ عدلیہ کے سربراہ سیاست دانوں کے مقابلہ میں بااثر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ عموماً نہایت امیر و کبیر اشخاص ہوتے ہیں جن کے سرمایہ دارانہ اشرافیہ سے گہرے روابط ہوتے ہیں۔ وہ منتخب نہیں ہوتے اور ریاستی نظام میں زیادہ خودمختار ہوتے ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ مخالف مزاحمت کو شدید ناپسند کرتے ہیں۔ وہ کسی دوسرے ریاستی ادارے کو جواب دہ نہیں ہیں۔
عدلیہ سرمایہ دارانہ ظلم کو بالخصوص کرپشن کی شکل میں ختم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور یہی اس کی عوامی مقبولیت کی اصل وجہ ہے۔ وہ مخالف سیاست دانوں پر احتساب کی تلوار ہمیشہ لٹکائے رکھتی ہے لیکن کارپوریشنوں اور خود اپنی کرپشن سے سہو نظر کرتی ہے اور فوج اور پولیس اور میڈیا میں رائج کرپشن کو بھی نظرانداز کیا جاتا ہے۔
سیاسی عدلیہ (law fare) کسی مخصوص حالات میں معاشرتی حلیف بھی ہوتے ہیں۔ عموماً اس رجحان کی حمایت ملک کا تحفظاتی نظام یعنی فوج اور پولیس کرتی ہے جو دستور سے ماخوذ قوانین کے علاوہ آرڈینینسز اور تنظیمی قوانین کی بھرمار کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ نوکر شاہی بھی سیاسی عدلیہ سازی (law fare) کو پسند کرتی ہے۔ سامراج بھی اسی رجحان کا فطری حلیف ہے اور law fare کی تنفیذ سے سرمایہ دارانہ کارپوریشنوں کے لیے بھی مفید ہوتی ہے۔ یہ law fare فوج کے لیے درپردہ حکومت کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
استبدادی جمہوریت میں مقننہ کی اکثریت عدلیہ اور انتظامیہ کی آلہ کار بن جاتی ہے۔ عدلیہ اور انتظامیہ سرمایہ دارانہ نظم و ضبط معاشرہ پر مسلط کرنے کے لیے مفت میں قائم حکومت کی نگرانی کرتی ہیں کہ ملک میں کوئی غیر سرمایہ دارانہ سیاسی تحرک نہ ابھرے۔ تحکم قانون سرمایہ داری کے منتخب گروہوں کو جمہوری اقتدار دلانے کا ایک ذریعہ ہے۔ استبدادی جمہوری نظام کو قائم رکھنے کے لیے تحکم قانون کی تنفیذ ضروری ہے لیکن کافی نہیں۔ ہر استبدادی جمہوریت میں غیر دستوری قوانین دستور سے ماخوذ قوانین کے ساتھ نافذ ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال 2009 میں فاٹا میں کیا جانے والے فوجی آپریشن ہیں۔ عمران خان کی دہریہ حکومت بھی آرڈینینسز اور SEOs وغیرہ کا کثرت سے استعمال کر رہی ہے۔
تحکم قانونِ سرمایہ اور اسلامی انقلابی جدوجہد
پاکستان کے معروضی حالات میں اسلامی انقلابی تحکم قانونِ سرمایہ کو رد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہم اس قانونی نظام کے اندر ہی سے اپنی جدوجہد جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ لیکن ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ تحکم قانون کی عمل داری سے تحفظ دین اور غلبہ دین کی امید میں رابطہ کریں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے کسی ایک شعبہ میں اصلاح سرمایہ دارانہ نظاماتی کلیت کی ماہیت کو متاثر نہیں کرتی۔ سرمایہ دارانہ ظلم کی تخفیف سے شرع مطہرہ کی تنفیذ کی راہ ہموار نہیں ہوتی بلکہ ایسی کوششوں سے اسلامی قوتیں سرمایہ دارانہ نظاماتی تحکم کی اسلامی جوازیت فراہم کرتی ہیں۔
تنفیذ شرع مطرہ کا کام اسلامی مصلحین اور انقلابی جماعتوں کو خود کرنا ہے۔ اس ضمن میں دہریہ حکومتوں سے مطالبات بالکل بے سود ہیں کیونکہ یہ حکومتیں سرمایہ دارانہ ہوتی ہیں اور نفاذِ شریعت کا مطلب سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام ہے۔ اس قسم کے مطالبے ایسے ہی ہیں جیسے کسی فرد کو خود کشی کی دعوت دی جائے۔
تنفیذِ شریعت کا کام مخلصینِ دین کو مسجد، محلہ اور بازار کی سطح پر منظم کرکے شروع کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی جماعتیں محلہ کی سطح پر بین المسالک مساجد کے اوقاف قائم کر سکتی ہیں اور اس بات کا انتظام کیا جا سکتا ہے کہ ہر مسجد یا جامع مسجد میں دارالقضا اور دارالافتا قائم ہوں اور ان کو علاقائی پنچایتوں، جرگوں اور برادریوں سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے۔ یوں مخلصین دین ائمہ مساجد کی قیادت میں منظم کیے جا سکتے ہیں اور معاشرتی بنیادوں پر شرع مطہرہ کی تنفیذ کا کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی پیش رفت کے دفاع کے لیے وکلا کی ایک ملک گیر تنظیم قائم کی جا سکتی ہے جو عدالتی چارہ جوئی کے ذریعہ اس نوزائیدہ نظام کی فعالیت کو کم کرنے والے اقدام کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مسجد اور جرگہ کی سطح پر قائم کردہ نظام عدالت عوامی حمایت سے محروم نہ رہے گا کیونکہ اس کی جڑیں عوامی مقامی تاریخ اور روایات میں پیوست ہوں گی (بشرطیکہ جو فیصلے کیے جائیں ان کی بتدریج تنفیذ کا بھی انتظام کیا جائے)۔ اس نظام کی عوامی مقبولیت کی ایک اہم وجہ سرکاری عدالتی عمل کی نااہلی، طویل المدتی اور مہنگی اور کرپٹ کارروائی بھی ہے۔
پھر اسلامی وکلا کی ملک گیر تنظیم علما کی مدد سے تمام دہریہ قوانین کی اسلامی تنفیذ بھی مرتب کر سکتے ہیں اور ہر مقدمہ میں جرح کرتے ہوئے دہریہ قانون کی اسلامی حیثیت واضح کر سکتے ہیں۔ یہ گنجائش اس لیے موجود ہے کہ دستور میں کہا گیا ہے کہ قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا۔ سرمایہ دارانہ ملکیت اور سود اور سٹہ سے متعلق جو مقدمات ہیں اس نوعیت کا استدلال مخالفین کو لاجواب کرنے کے لیے کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔
پھر وکلا کی ملک گیر تنظیم ان تضادات کو بھی واضح کر سکتی ہے جو دستوری قوانین اور ماورائے دستور آرڈینینسز میں پائی جاتی ہیں۔ SRO اور Ordinance وغیرہ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ ملکیت کو فروغ دیا جاتا ہے، تحفظاتی اداروں (سیکورٹی ایجنسیاں) کے دائرہ کار میں توسیع کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں جبری اغوا کی وارداتیں اور ریاستی دہشت گرد جرائم پھیل رہے ہیں۔ اس ریاستی دہشت گردی سے اسلامی جماعتیں شدید متاثر ہوئی ہیں اور تحکم قانون کا نظاماتی نفاذ اس قسم کی ریاستی دہشت گردی کو ممکن بناتا ہے۔
عرض ہے کہ اسلامی مصلحین اور انقلابیوں کی جماعتیں متوجہ ہو کر مخلصین دین کو متحرک اور منظم کرنے کا عزم کر لیں تو ہم نفاذِ شریعت کا کام ماس بیس کی سطح سے بہت جلد شروع کر سکتے ہیں اور اپنی سیاسی اور انتخابی جدوجہد سے دہریہ حکومت کو اس عمل کو برداشت کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
جاوید اکبر انصاری