جماعت اسلامی کے بارے میں تین عام غلط فہمیاں
مخلصین دین ہمارے بارے میں تین غلط فہمیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ غلط فہمیاں یہ ہیں:
1۔ جماعت کا اپنا ایک جداگانہ دینی بیانیہ ہے جو علمائے برصغیر کے صدیوں سے مرتب شدہ تصور دین سے جدا ہے۔
2۔ جماعت محض سیاسی جدوجہد کے ذریعہ اقامت دین کو ممکن سمجھتی ہے اور تلقین اور تبلیغ کی افادیت کی قائل نہیں۔
3۔ جماعت ایک ماڈرنسٹ تحریک ہے جو دوسری Revisionist تحریکوں کی طرح سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی اسلام کاری کے درپے ہے۔
اصولاً یہ تینوں موقف درست نہیں۔ گوکہ ماضی اور حال میں ہم نے بہت سی ایسی غلطیاں کی ہیں جن سے اس قسم کی غلط فہمیاں معاشرے میں عام ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں ان غلط فہمیوں کو رفع کرنے کے لیے چند دلیلیں مرتب کر دوں گا۔
جماعت کا جداگانہ دینی بیانیہ
اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جماعت کے بانی مولانا مودودیؒ کوئی فقیہ نہیں تھے۔ وہ ایک راسخ العقیدہ متکلم اسلام تھے۔ آپ نے اپنی تفسیر قرآن میں علمائے سلف کی تعبیرات سے سرمو اختلاف نہیں کیا اور اس بات کی شہادت اکابر علما مثلاً مولانا یوسف لدھیانوی نے دی ہے۔ جماعت کا اپنا کوئی جداگانہ دینی مسلک نہیں نہ کبھی تھا نہ کبھی ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جماعت ایک بین المسلکی، بین النظریاتی اجتماعیت ہے اور ان معنوں میں فکر ولی اللہی کا تسلسل ہے۔ اس فکر کے دوسرے اہم ترین مرشد شیخ المشائخ مہاجر مکی رحمۃ اللہ ہیں جو دیوبندی اور بریلوی مکاتیب فکر کے قابل احترام رہنما ہیں۔
مسالک کو جمع کرنے اور اتحاد پیدا کرنے کی اس مقدس مہم کو جاری رکھنا جو حضرت شاہ ولی اللہ اور حضڑت شیخ المشائخ رحمہ اللہ نے شروع کی تھی جماعت کا مقصد ہے۔ اسی لیے ہماری صفوں میں دیوبندی بریلوی اہل حدیث اور شیعہ افراد کو احترام سے خوش آمدید کہا جاتا ہے اور جماعت کی پوری تاریخ میں کبھی بھی فرقہ واریت کا شائبہ تک نہیں ملتا اور کسی جماعت کے کارکن اپنے مسلکی موقف کو ترک کرنے کے لیے آمادہ نہیں کیا گیا۔ ہم اتحاد بین المسلمین کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔
جیسا کہ ہمارے امیر قاضی حسین احمد نے فرمایا ہم علما کے خادم ہیں جہاں وہ حکم دیں گے ہم پہنچ جائیں گے۔ جماعت کے نظریاتی تشخص کے بارے میں علما میں غلط فہمیاں پھیلانا دہریوں اور سامراج کی کوشش ہے کیونکہ سامراجی کاسہ لیس اتحاد اسلامی سے خائف ہیں۔ اتحاد امت کے لیے اتحاد علماء ناگزیر ہے اور جماعت وہ بین المسلکی اور بین النظریاتی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جس پر علما متحد ہو سکتے ہیں۔ جب تک علما یہ بات نہیں سمجھیں گے امت میں اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ اپنے خادموں کے بارے میں بدگمانی علما کو زیب نہیں دیتا۔
جماعت سے عالم کی یہ کیسی ان بن
سمجھے ہو کیوں پہرہ دارں کو رہ زن
سیاسی جدوجہد اور اقامت دین
ہمارے رسالہ ”تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل“ اور ہمارے دستور نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم سیاسی عمل کو اقامت دین کا واحد ذریعہ نہیں گردانتے لیکن اس میں شک نہیں کہ جماعت کی جدوجہد سیاسی ہی ہے اور ہم نے زیادہ تر توجہ ایک اسلامی ریاست کے قیام پر مرکوز کی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان تحریکاتِ جہاد کا تسلسل ہیں جو انیسویں صدی میں حضرت فضل اللہ خیرآبادی، جنرل بخت خاں، حاجی شریعت اللہ، حضرت قاسم نانوتوی اور مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہم اللہ نے برپا فرمائی تھیں۔
ان بزرگوں نے اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ مغل سلطنت کا سقوط ایک ایسا سانحہ ہے جو اسلامی نظام زندگی کے انتشار کا سبب بن سکتا ہے اور دورِ حاضر میں دہریہ ریاست کے خلاف جدوجہد غلبہ دین کے لیے ضروری ہے۔ ان اکابرین کا جمہورعلمائے ہند نے ساتھ نہ دیا اور انہوں نے دہریہ سامراجی نظام اقتدار کے ساتھ مصالحت کر لی اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ تک مسلم لیگ اور کانگریس کے ہم نوا بن گئے۔ جمہور علما اسلامی خطوط پر سیاسی جدوجہد برپا کرنے کی ضرورت سے غافل ہو گئے۔
ہم پاکستانی ریاست کو برطانوی ہند کے ریاستی نظام کا تسلسل قرار دیتے ہیں کیونکہ پاکستان کا دستور اور پاکستان کے تمام ریاستی ادارے فوج، انتظامیہ، عدلیہ، پبلک سیکٹر تنظیمیں اور کارپوریشن سب کے سب انہی خطوط پر قائم ہیں جن پر سامراجی ریاستی دارے قائم تھے اور ان کی کارفرمائی کا عمل سامراجی ریاستی اداروں کی کارفرمائی کے عمل سے مماثل ہے۔
لہٰذا انیسویں صدی کے مجاہدین کی طرح ہمارا موقف یہ ہے کہ اس ریاستی نظام کی تحلیل کے بغیر مقاصد شرعیہ کا حصول ناممکن ہے۔ ہم سیاسی عمل کی فوقیت پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ مخلصین دین اور جمہور علما کی اس طرف توجہ محدود ہے۔ بے شک ملک میں دیگر اسلامی جماعتیں بھی موجود ہیں۔ ہم ان کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ اسلامی سیاسی جدوجہد محض حکومت کی تبدیلی پر مرکوز نہ ہو بلکہ مکمل دہریہ ریاستی نظام کی تسخیر کا ذریعہ بنے۔ یہی انیسویں صدی کے مجاہدین کا مقصد تھا۔
چونکہ ہم پاکستانی ریاست کو سامراجی اقتدار کا تسلسل سمجھتے ہیں لہٰذا ہم سامراج کے فطری دائمی مخالف ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہمارے حالیہ امیر محترم سراج الحق کس جرأت مندی سے طالبان عالی شان کی حمایت، کشمیر اور فلسطین میں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور انہوں نے عزم کیا ہے کہ پاکستان میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کے خلاف جان کی بازی لگا دیں گے۔ ہم ملک کی واحد سامراج مخالف جماعت ہیں اور اپنی پوری تاریخ میں ہم نے کسی سامراجی قوت سے کوئی سودے بازی نہیں کی۔ کیا یہ سب لاحاصل ہے۔ کیا سامراج مخالفت کے بغیر اسلامی عصبیت فروغ پا سکتی ہے؟ بے شک مخلصین دین اور علمائے کرام کی جماعتیں تبلیغ اور اصلا ح کا گراں قدر کام کر رہی ہیں لیکن یہ سیاسی انقلابی جدوجہد کا نعم البدل نہیں۔ اس تمام کام کو انقلابی جدوجہد سے منسلک کیے بغیر اقامت دین کا فریضہ ادا نہیں ہو سکتا۔ ہم علمائے کرام اور مخلصین دین سے ملتمس ہیں کہ ہمارے ہاتھ مضبوط کریں، اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کو مربوط کریں تاکہ تحفظ اور غلبہ دین کا فریضہ ادا کیا جا سکے۔
انقلابی جدوجہد اور جدیدیت
یہ درست ہے کہ سلف صالحین کی تقلید ہم ایک ایسے نظاماتی تناظر میں کر رہے ہیں جو تاریخ اسلا م کے لیے بالکل اجنبی ہے۔ اس سے قبل کبھی بھی سرمایہ دارانہ تغلب عالمی نہ ہوا۔ سرمایہ دارانہ غلبہ علمیاتی بھی ہے اور روحانی بھی، معاشرتی بھی ہے، معاشی بھی اور سیاسی بھی۔ اور اس نے امت کے لیے نت نئے مسائل کھڑے کیے ہیں۔ ایسے میں تین مختلف رویے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
1۔ ان نئے مسائل سے مکمل سہو نظر کرنا اور ایک مخصوص دائرہ کار تک تنفیذ اسلام کو محدود رکھنا
2۔ سرمایہ داری کی اسلام کاری جو سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف پہلوؤں کی اسلام کاری کا جواز پیش کر کے سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں اسلامی طرز حیات کو اس طرح ضم کر دے جیسے عیسائیت، یہودیت اور ہندومت ضم ہوئی ہیں۔ اس کی سب سے اہم شکل اسلامی بینک کاری ہے۔
3۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو مہمیز دے کر اس کو بتدریج تسخیر اور تحلیل کرنے کی جدوجہد کرنا۔
ہم نے یہ تیسرا رویہ اختیار کیا ہے کیونکہ ہم نہ تو تصوراتی (آئیڈیلسٹ) ہیں اور نہ مطلب پرست۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم ایک ایسے ملک کے باشندے ہیں جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا نہایت کمزور اور چھوٹا سا حصہ ہے اور جس پر سرمایہ دارانہ اقتدار زندگی کی گرفت نہایت مضبوط ہے۔ اس گرفت کو ڈھیلا کرنا ایک طویل المدت جدوجہد کا متقاضی ہے۔
پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام تغلب یک دم تحلیل نہیں کیا جا سکتا لیکن سرمایہ دارانہ اقتدار کو کمزور کرنے کے بہت سے ذرائع موجود ہیں۔ ان میں سے ایک بہت اہم ذریعہ انتخابی اور جمہوری عمل ہے کیونکہ انتخابی جمہوری عمل مخلصین دین کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ تغلب کو de-legitimate کر دیں اور معاشرتی سطح پر غیر جمہوری خطوط پر منظم ہو کر تنفیذ احکام اسلامی کو مقامی سطح پر ممکن بنا دیں۔ یہ عمل ریاستی کارفرمائی میں دخول کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہم نے اب تک انتخابی عمل کا انقلابی استعمال نہیں کیا اور اپنی انتخابی مہمات میں ہم نے سرمایہ دارانہ عوامی حقوق کی تکرار کی ہے جس کے نتیجہ میں جماعت اور مخلصین دین میں دوریاں بڑھی ہیں اور جماعت کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچا ہے۔
ہم عزم کرتے ہیں کہ 2023ء کے انتخابات اسلامی انقلابی بنیادوں پر لڑیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ زیادہ سے زیادہ سیاسی اور غیر سیاسی اسلامی جماعتیں ایک ایسے اسلامی ایجنڈے پر مجتمع ہو جائیں جس کا مقصد مخلصین دین کو معاشرتی سطح پر مقتدر بنانا اور پاکستان پر سامراجی گرفت کو کمزور کرنا ہو۔
یہ جدوجہد پاکستان تک محدود نہیں۔ عرب دنیا میں اخوان المسلمون ایران میں علمائے کرام، افغانستان میں طالبان عالی شان، لبنان میں حزب اللہ، فلسطین میں حماس، انڈونیشیا میں سریکۃ السلام اور وسطی افریقہ کے مجاہدین اپنے اپنے علاقوں کے مخصوص حالات کے مطابق ایسی ہی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اسی مقدس خانوادہ کا حصہ ہیں اور یہ قافلہ سخت جاں دہریہ سامراجی قوتوں سے رزم گاہ حیات کے ہر مورچہ پر چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔ بھائیو ہمیں تنہا نہ چھوڑئیے۔
دیکھو کہیں اجڑے نہ ہمارا یہ باغیچہ
اس کو لہو سے اپنے شہیدوں نے سینچا
اس کو بچانا جان مصیبت میں ڈال کے
جماعت کو رکھنا میرے یارو سنبھال کے
یہ مضمون مولانا مودودی کے رسالہ ”تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل“ کا ایک حاشیہ ہے۔
جاوید اکبر انصاری