کتب خانہLibrary

← چین سرمایہ داری میں مستضعفین

چین سرمایہ داری میں مستضعفین.docxڈاؤن لوڈ

چین سرمایہ داری میں مستضعفین کی زبوں حالی

چین میں سرمایہ دارانہ نظام کی داغ بیل انیسویں صدی میں کِنگ سلطنت(Qing dynasty ) کے دوران رکھی گئی اور چین  میں سرمایہ داری کو فروغ دینے کی جدوجہد اس وقت سے آج تک زور وشور سے جاری ہے ۔ڈاکٹر(Sun Yat-sen), (Deng Xiaoping) اور Xi jinping کی حکومتوں نے تسلسل سے چینی سرمایہ داری کو فروغ دیا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ عدل کو قائم رکھنے سے قاصررہتی ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام کا ایک بنیادی عقیدہ مساوات ہے لیکن عملاً ایک مساویانہ نظم معیشت او رسماج قائم کرنا سرمایہ کی فعالیت (functionality ) سے لازماً متصادم ہے ۔جیسے جیسے سرمایہ دارانہ طرز زندگی معاشرہ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہے ویسے ویسے تقسیم وسائل میں نامساویت فروغ پاتی ہے ۔

لہذا ہر سرمایہ دارانہ ملک امریکہ ،سویڈن ،چین ،ہندوستان میں سرمایہ دارانہ ترقی کا لازمی نتیجہ مستضعفین کے ایک ایسے اقلیتی گروہ کی پیداوار  ہوتی ہے جن کو بتدریج وسائل اور اقتدار سے تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital)  کی کارفرمائی کے ذریعہ محروم کیا جاتا رہتا ہے ۔

پچھلی دودہائیوں سے مستضعفین  کو کچلنے کی حکمت عملی  چینی پالیسی کا ایک جزو بنتی جارہی ہے اور اب یہ چینی قومی ماحولیاتی تزویراتی (environmental protection stretegy) کا ایک لازمی جزو بن گئی ہے ۔

چین کو شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے ۔یو این یونیورسٹی (UN university) کی ۲۰۱۴ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق اگر ماحولیاتی ابتری (environmental depletion ) کا تخمیہ لگا کرچین کی عمومی قومی دولت (value ) کو شمار کیا جائے تو ۱۹۹۰ سے ۲۰۱۰ کے دورانیہ میں اس کی پیداواری رفتار نمو (GDP growth rate) دس گنا گم شمار کی جائیگی   جدول ایک (table 1)چینی ماحولیاتی ابتری کی ایک نامکمل تصویر پیش کرتا ہے ۔ جدول ایک

چینی ماحولیاتی وزارت کے ماہرین کے مطابق پانی ،ہوا ورخاک میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو کے روک تھام کے لئے آئندہ چند سالوں میں تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کرنا پڑینگے -ماحولیاتی بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے مستضعفین کی رہائشی بے دخلی اور وسائل سے محرومی کی حکومتی پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے ۔۲۰۱۷ میں بیجنگ  کے جنوبی علاقہ سے تقریباً ۲۰لاکھ مستضعفین بے دخل کئے گئے تاکہ وہاں اسی نوعیت کا تعمیراتی کام کیاجاسکے جیسے کراچی کی جگہوں کے علاقہ میں جاری ہے ۔پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں اس عمل کو (gentrification ) کہتے ہیں اور اس کے مستضعفین سے زمین چھین کر سرمایہ کاروں اور لینڈ مافیا کے کاروبار کو فروغ دیکر  بڑے شہروں کو (global capital hib) عالمی سرمایہ دارانہ مرکز بنانا ہے ۔

اس ہی سال شمالی چین کے کئی علاقوں میں  کوئلے کے رہائشی ایندھن کے طور پراستعمال پر مکمل پابندی لگاد ی گئی جس کے نتیجہ میں ہزاروں لاکھوں مستضعفین ٹھٹر کے مرگئے اور سردی سے مختلف بیماریوں (بلخصوص دمہ اور گھٹیا) کا شکار ہوگئے ۔اس کا جواز ہوا کی آلودگی کو کم کرنا بتایا گیا لیکن اصل مقصد گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا تھا۔

پاکستانی شہری کچی آبادیوں کی طرح بیجنگ میں بھی پھیلتی ہوئی کچی آبادیاں موجود ہیں جہاں لاکھوں مستضعفین بے چارگی اور افلاس کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ان میں مردہ خوروں کی تعداد حکومتی تخمینہ کے مطابق ۲۰۱۷ میں۲۰ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور یہ گزربسر کچرے کے ڈھیروں سے کھانے کی چیزیں اور قابل فروخت اشیاء نکال کر کرتے ہیں۔

حکومتی اندازہ کے کے مطابق پورےچین میں ان مردہ خوروں (scavengers) کی تعداد ۴۰لاکھ کے لگ بھگ ہے اور جیسے جیسے چین کے بڑے شہروں پر لینڈ مافیا کا قبضہ ہورہا ہے ویسے ویسے ان مردہ خوروں کی بستیاں اجاڑی جارہی ہیں اور انہیں ذریعہ معاش سے محروم کیا جارہاہے۔

مردہ خوروں (scavengers) کئی متعدی امراض  کا شکار ہیں ۔بلخصوص پھیپھڑوں کا کینسر- چین میں پھیپڑوں کے کینسر کی شرع ۱۹۷۰تا۲۰۱۳ کے دورانیہ میں آٹھ سو فیصد بڑھی ہے یہ اعداد وشمار ثابت کرتے ہیں کہ چین کا متعدی نظام صحت ہمہ گیر نہیں اور شہری اور دیہی  مستضعفین کی بہت بڑی تعداد سرکاری صحت کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے ۔

دیہی مستضعفین پر ظلم ان قومی منصوبوں کے ذریعہ کیا ہے جو ۱۹۹۰ کی دہائی سے زور پکڑ گئی ہیں اور جن کا ہدف دریاؤں کا رخ شہروں کی طرف موڑنا ہے ۔قدرتی ترسیل آب کے نظام کو تبدیل کرکے چین اپنی زراعت اور دیہی معیشت کو بتدریج تباہ کررہاہے ۔مستضعفین کو آبی وسائل اور ان کے قدیم رہائشی اماجگاہوں سے محروم کررہا ہے اور تمام تر کوشش اس بات کے شہروں میں رہائش پزیر سرمایہ دارانہ مقتدرہ کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں ۔

۱۹۹۲ سے (yangtze) دریا جو (Three gorges reservoir ) تعمیر کیا گیا ہے اس کے نتیجہ میں صوبہ میں ایک ہولناک زلزلہ ۲۰۰۸ میں آیا  جس سے لاکھوں مستضعفین  متاثر ہوئے ۔پانی کی قلت چین میں بڑھتی جارہی ہے اور آبی آلودگی بھی - چین میں فی کس آبی وسائل عالمی اوسط کے مقابلہ میں ۲۰۱۸ میں صرف ۲۵ فیصد ہے ۔حکومتی تخمینہ  کے مطابق چین کے سات بڑے دریاؤں کے پانی کا ۴۰فیصد پانی پینے کے قابل نہیں۔۱۳۶ چینی شہرپانی کی شدید قلت کا شکار ہیں بیجنگ کو پانی  فراہم کرنے والے ساتوں دریا تقریباً خشک  ہوگئے ہیں اور تین سوملین چینی آبادی کا تقریباً ۲۵ فیصد صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہیں پانی کی آلودگی کو کم  کرنے کے لئے جوپالیسیاں  بنائی جارہی ہیں انہوں نے بھی غریبوں کو نشانہ پر لیا ہے  اور اس مقصد کے لئے کچھ عرصہ قبل shandong صوبے میں ۷۰ کاغذ بنانے والے کارخانہ بند کردیئے گئے ۔حالیہ جاری جنوب سے شمال کی طرف دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبہ ( water diversion project south to north ) کا مقصد دہی آبادیوں کو آبی وسائل سے محروم کرکے بڑے شہروں میں آبی اور توانائی کی فراہمی میں اضافہ ہے- چینی سرمایہ داری بھی اپنی مقتدرہ کو وسائل  پر قبضہ جمانے کا ہر موقع ماحول کے خلاف مسلسل جنگ جاری رکھ کر کررہی ہے ۔آبی پالیسی چینی سامراجی منصوبہ بندی کا بھی ایک اہم حصہ ہے ۔یانگ زی دریا کے پانی کا رخ مشرقی ترکستان کی طرف موڑا جارہا ہے تاکہ وہاں سے مسلمانوں کو بے دخل کرکے چینیوں کی آباد کاری کی جاسکے ۔تخمینہ لگایا گیا ہے کہ آبی منصوبہ پر (three gorges damn ) کے منصوبہ کے بالمقابل ۱۰گنا زیادہ خرچ کرنا پڑے گا لیکن ہندوستان کی طرح جو  کشمیر میں مسلم آبادی کو اقلیت بنانا چاہتا ہے چین بھی مشرقی ترکستان میں مسلم آبادی کو اقلیت بنانے کے لئے ہر قیمت ادا کرنے پر تیار ہے

South to north water diversion project کے ذریعہ بہت سے ایسے دریاؤں پر سے گزرنا ہوگا (تقریبا۷۰۰۰) جو مغرب سے مشرق کی جانب بہتے ہیں ، اس دخل اندازی سے سیلابوں  کا خطرہ بڑھنے کا امکان ہے ۔لاکھوں مستضعفین بستیاں اجاڑ دی جائیں گی اور ماہرین کے مطابق دریاؤں کے پانی کو ملانے سے آبی آلودگی میں اضافہ ناگزیر ہے

جدول ایک - چینی ماحولیاتی ابتری ۲۰۱۰بمقابلہ۱۹۹۷

قدرتی دولت میں کمی

۶۴فیصد

ان قدرتی وسائل میں کمی جنہیں کا بدل موجود ہے

۱۶ فیصد

ختم ہوجانے والے قدرتی وسائل

۳۹فیصد

جنگلات کی اراضی میں کمی

۳۴فیصد

تیل اور کوئلے کے ذخائر میں کمی

۳۹ فیصد

دھاتوں کے ذخائر میں کمی

۴۰ فیصد

چینی مستضعفین  ان منصوبوں کے ہوشربا منفی نتائج برداشت کرنے پر مجبور ہیں ۔

چین کا ماحولیاتی بحران طویل المدت ہے صرف آبی آلودگی کو کم کرنے کے لئے کم از کم ۴۰ سال لگیں گے اور اس پر 320$ ارب خرچ آئیگا ۔چین کی وزارت ماحولیات کے مطابق آبی ،فضائی اور ارضی آلودگی سے نبردآزما  ہونے کے لئے چینی  وزارت  ماحولیات کے مطابق تقریباً 1000$ ارب  کا خرچہ برداشت کرنا پڑیگا ۔جیسی  سرمایہ دارانہ ترقی کے نتیجہ میں ملکی نامساویت (material inequality ) ہوشربا انداز سے بڑھی ہے ۔ماحولیاتی بحران شدید سے شدید ہوتا جارہاہے اور روایتی چینی معاشرت اور ثقافت تقریباً بالکل تباہ ہوگئی ہے ۔

اس ہمہ گیر تباہی  کا ماؤ زے تنگ بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا ڈنگ اور موجودہ حکمران ، ژی ۔یہ سب اشتراکی سرمایہ دار ہیں اور اشتراکیت ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے اور لبرل سرمایہ داری کی طرح اشتراکی سرمایہ داری بھی سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ نہیں دے سکتی ۔اشتراکی سرمایہ داری کا سییٹزن  بھی اپنے نفس امارہ  کا غلام بن جاتا ہے وہ ہرقیمت پر تعیشات کے حصول کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا  خواہاں ہوتا ہے ۔وہ پیسہ کی پرستش کرتا ہے اور جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام جڑ پکڑتا ویسے ویسے سرمایہ دارانہ ظلم بھی ترقی کرتا ہے ایک عام سیٹیزن کے لئے اس ظلم کو برداشت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کیونکہ  سرمایہ دارانہ ظلم کا پھیلاؤ سرمایہ دارانہ ترقی کے لئے لازم ہے ۔

ایک عام چینی نے سرمایہ دارانہ طرز زندگی اپنا لی ہے اور کیمونسٹ  پارٹی کو مقبولیت عامہ حاصل ہے ۔مستضعفین کے لئے یہ طرز زندگی اپنانا ممکن نہیں لیکن سب کی طرح وہ بھی حصول ترقی اور آزادی کو زندگی کے مقصد کے طورپر قبول کئے ہوئے ہیں گاہ گاہ رونما ہونے والی مستضعفین کی مزاحمتی تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیتی رہتی ہیں اس کو کمزور نہیں کرتیں ۔

چین نے اپنی تاریخی تہذیبی شناخت کھو دی ہے خاندانی ڈھانچہ مسمار کیا جارہاہے ۔عریانی اور فحاشی ایک وباء کی طرح پھیل رہی ہے ۔وہی عزت ماب خواتین جو گھر سے نکلنے کو معیوب سمجھتی تھی آج نائٹ کلبوں میں برہنہ رقص کررہی ہیں ۔چینی معبد(لاؤ زی laozi فقیروں کے آستانے) اور مساجد بند کی جارہی ہیں ہر گلی کوچہ میں شراب خانے ،جوئے اور فحاشی کے اڈے پھل پھول رہے ہیں ۔سود اور سٹہ کا کاروبار اپنے عروج پر ہے یہ سب اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام کو اپنانے کا شجر خبیثہ ہے

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات

چین پر پاکستان کا معاشی اور معاشرتی انحصار بڑھتا جارہاہے اس سے تین بڑے خطرہ  پیدا ہورہے ہیں۔

جاوید اکبر انصاری