کتب خانہLibrary

← جماعت اسلامی کے غیر فعال کارکنوں سے التماس

جماعت اسلامی کے غیر فعال کارکنوں سے التماس.docxڈاؤن لوڈ

جماعت اسلامی کے غیر فعال کارکنوں سے التماس

جماعت اسلامی ایک اسلامی انقلابی تحریک اور تنظیم ہے۔ ہر انقلابی تحریک کی طرح ہماری جماعت بھی اخراج توانائی(entropy) کا شکار ہے۔ اس اخراج توانائی کا اظہار کارکنوں کی غیر فعالیت سے ہوتا ہے۔ اس مضمون میں میںاس انٹراپی کی وجوہات بیان کرنے کی کوشش کروں گا اور اس عمل کو روکنے کی ممکن العمل تجاویز پیش کرنے کی کوشش بھی کروں گا۔

اخراج توانائی کا عمل

انقلابی جدوجہد اقتداری نظاماتی تغیر کی جستجو کرتی ہے۔ نظام سے مراد ہیئت (structure)ہے یعنی انقلابی جدوجہد کا مقصد کسی طرز زندگی کے مروجہ اقتداری ڈھانچہ کو ازسر نو ترتیب دینا یا مسمار کرنا ہوتا ہے۔ اسلامی انقلابی تحریکات سرمایہ دارانہ اقتدارتی ادارتی نظام کو تہس نہس کر کے اس کی جگہ اسلامی ادارتی اقتداری نظام قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

یہ جدوجہد لازماً تاریخی ہے معروضی (abstract)نہیں ہے۔ انقلابی عمل لامحالہ اپنے وقت اور مقام میں مقید ہوتا ہے اور اس جدوجہد کا جو ابتدائی نظریاتی اور تزویراتی خاکہ مرتب کیا جاتا ہے وہ لازماً اس دور کے تنظیم اقتدار کی تفہیم پر مبنی ہوتا ہے۔

مثلاً جماعت اسلامی کے قیام کے وقت برصغیر پر برطانوی ریاست کا قبضہ تھا۔ دوسری جنگ عظیم جاری تھی۔ سرمایہ دارانہ عالم گیریت کا وجود نہ تھا۔ ان تمام حقائق کے تناظر میں ہمارے مرشد نے انقلابی عمل کا ابتدائی نقشہ کھینچا۔ اس نقشہ کے دو اجزا تھے:

۱۔ اسلامی انقلابی جماعت کی ساختی ترتیب جو دستور جماعت میں درج کی گئی۔

۲۔ انقلابی عمل کی تدریجی مراحلاتی پیش رفت کی تصوراتی احاطہ بندی جو مرشد کی ۰۴۹۱ءکی تقاریر میں واضح کی گئیں۔ چونکہ انقلاب ایک تاریخی عمل ہے لہٰذ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ ابتدائی نظریاتی اور ساختی بیانیہ کا بدلتے رہنا ضروری ہے۔ اگر اس کا انتظام نہ کیا جائے تو انقلابی تحریک اپنا معاشرتی اور سیاسی اثر کھوتی جاتی ہے اور اپنی تاریخ کی قیدی بن جاتی ہے۔ اور یہی المیہ تحریک احرار کے ساتھ پیش آیا۔

لیکن انقلابی تحریکات کے لیے اپنا نظریاتی اور ساختی خاکہ میں ترمیم کرتے رہنا ایک نہایت پرخطر مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اس ترمیم سے ہمیشہ یہ خطرہ رہتا ہے کہ انقلابی جماعت اپنے اساسی موقف سے رجوع کر کے ایک عام سیاسی جماعت بن کر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں ضم نہ ہو جائے۔

مثلاً ہمارے اساسی موقف دو ہیں:

۱۔ اسلام ایک مکمل خودکفیل نظام حیات ہے۔

۲۔ مغرب جاہلیت خالصہ ہے۔

ہماری انقلابی شناخت اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کبھی بھی اور کسی حال میں بھی ان دونوں اساسی دعووں سے اصولاً اور عملاً منحرف نہ ہوں اور بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں نظریاتی اور ساختی ترمیمات اس طرح کریں کہ ان دو رہنما اساسی اصولوں پر عمل کرتے رہنا ہنوز ممکن رہے۔

یہ ایک نہایت مشکل کام ہے اور انقلابی جماعتیں عموماً ردعمل کے طور پر اپنے ساختی نظام اور ابتدائی نظریاتی بیانیہ کو منجمد اور غیر لچک دار کر لیتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اقدامات کی معاشرتی تاثیر محدود سے محدود تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ معاشرتی تاثیر کی اس بڑھتی ہوئی کمی کے نتیجہ میں کچھ کارکن بالخصوص وہ جو جماعت میں قیادت کے منصب پر فائز ہیں ابتدائی نظریاتی بیانیہ اور ساختی ڈھانچہ کی تبدیلی کو ایک وجودی خطرہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور ہر قیمت پر اسی کو قائم رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔

دوسری جانب معاشرتی تاثیر کی کمی کے نتیجہ میں کچھ کارکن انقلابی جماعت کی کارکردگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ ان کو صاف نظر آتا ہے کہ ابتدائی نظریاتی بیانیہ اور ساختی ڈھانچہ ان معنوں میں فرسودہ ہوتا جا رہا ہے جو اس کے وضع کرنے کا مقصد تھا۔ یعنی رائج شدہ ادارتی نظام اقتدار تہس نہس نہیں ہو رہا۔ جماعت اپنے اساسی موءقف، اسلام ایک مکمل خودکفیل نظام حیات ہے اور مغرب جاہلیت خالصہ ہے، کے عملی اظہار سے پہلو تہی کر رہی ہے۔

لہٰذا یہ مایوس کارکن انقلابی عمل کو سعی لاحاصل سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ تھک ہار کر گھر بیٹھ جاتے ہیں یا غیر انقلابی اصلاحی بیانیوں سے متاثر ہو کر اپنی کاوشیں سرمایہ دارانہ نظام کے کسی ایک شعبہ (تعلیم، تدریس، رفاہ عامہ) کی اسلام کاری پر مرکوز کر دیتے ہیں اور ان میں ایسے بھی ہیں جن کی روحانی گراوٹ اس درجہ کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ اقتدار کے آلہ کار اور دشمنان دین کے ایجنٹ بن جاتے ہیں مثلاً عارف علوی ، عشرت حسین، وقار مسعود خان، حسین حقانی وغیرہ۔

غیر فعال کارکنوں کے لئے آراءکے اظہار کے مواقع انقلابی جماعتوں میں نہایت محدود ہوتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ ابتدائی بیانیہ عقیدہ کی جگہ لے لیتا ہے، اور اس کی جو تعبیر پارٹی کے زعما ءکرتے ہیں وہ شجرممنوعہ قرار دی جاتی ہے اور عام کارکن کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جو شخص اس بیانیہ اور اس کی مخصوص تشریح پر ایمان نہیں لاتا وہ کسی نہ کسی درجہ میں گمراہ ہے اور جو وہ کہہ رہا ہے وہ لایعنی بکواس ہے اور اس پر توجہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں عام فعال کارکن احساس برتری کا شکا رہو جاتا ہے۔ وہ نظریاتی مکالمہ کو جاری رکھنے کے قابل نہیں رہتا۔

دوسری وجہ ادارتی ساختی ہے۔ بیش تر انقلابی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی کی ادارتی ساخت جمہوری مرکزیت ہے جس میں احکامات اور فیصلے اوپری سطح سے نچلی سطح پر ترسیل کیے جاتے ہیں۔ دستور کو تقدس حاصل ہے۔ ہر جمہوری جماعت کی طرح جماعت اسلامی میں بھی شورائی نظام علامتی درجہ بند ہے۔ اجتماع عام عملاً معطل ہے اور عام کارکن کا فیصلہ سازی کے عمل میں کوئی حصہ نہیں۔ ان حالات میں غیر فعال کارکنوں کی بات سننے کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں۔

رجوع الی الجماعت اسلامی

ان حالات میں غیر فعال کارکنوں کا جماعت سے وابستگی قائم کرنا بہت مشکل لیکن بہت ضروری ہے۔ بہت ضروری اس لیے ہے کہ یہی وہ کارکن ہیں جو جماعت کے ابتدائی نظریاتی بیانیہ اور ساختی تنظیم کی فرسودگی کا شعور رکھتے ہیں اور اس ساختی نظام اور ابتدائی نظریاتی بیانیہ میں ایسی ترمیمات کی تجاویز مرتب کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جو جماعت اسلامی کو اسلامی انقلابی عمل جاری رکھنے کا ذریعہ بنا دیں۔ جمہوری مرکزیت پسند پارٹی کی طرح جماعت اسلامی میں بھی اس ضرورت کا احساس بالکل معدوم ہے۔ غیر فعال کارکن جماعت کے نظریاتی اور ساختی انجماد کو ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ غیر فعال کارکن انقلابی عمل کی اس دور میں ناگزیریت کو پہچانیں۔ ہم ایک ایسے زمانہ میں تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کر رہے ہیں جب سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی تسلط ہمہ گیر اور مستحکم ہے۔

سرمایہ دارانہ اقتدار معاشرہ اور ریاست دونوں پر محیط ہے اور اس اقتداری جبر نے ہر شخص کو سرمایہ دارانہ عقلیت کا آلہ کار بنا دیا ہے۔ اس نظام اقتدار کو منتشرزندگی کے مختلف شعبوں(تعلیم، تدریس، رفاہ عامہ) میں جزوی اسلامی اصلاحات کے نفاذ کے ذریعہ نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں جاری تمام اصلاحی کوششوں کو انقلابی اسلامی جدوجہد سے مربوط اور منسلک کرنا ضروری ہے۔

سرمایہ دارانہ دور اقتدار میں اسلامی انقلابی عمل کا اظہار مولانا مودودی کے دو کلیدی اجتہادات

۱۔ اسلام ایک مکمل خودکفیل نظام ہے اور (۲) مغرب جاہلیت خالصہ ہے

کو عملی جامہ پہنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہی معنوں میں یہ دور مولانا مودودی کا دور ہے اور جماعت اسلامی مولانا مودودی کی فکر کی فطری وارث جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ اقتداری نظام کے انہدامی عمل کو ترک کر دیا جائے۔

لہٰذا غیر فعال کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ جماعت کے کاموں میں بھرپور دلچسپی لیں خواہ وہ جماعت کے نظم کے پابند ہوں یا نہ ہوں۔ اس نظم کو لچک دار بنانے اور دستور کے تقدس کے تاثر کو ختم کرنا جماعت کی انقلابیت کوفروغ دینے کے لیے اشد ضروری ہے۔ اسی طرح جماعت کی وضع کردہ ہر پالیسی کو مخلصانہ اور ہمدردانہ تنقید کا موضوع بنانا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ نظریاتی تغیر رونما ہو سکے جو جماعت کی معاشرتی اثر پذیری میں اضافہ کا باعث ہو اور انہدام اقتدار نظام سرمایہ داری کا ذریعہ بنے۔ یہ کام جماعت اسلامی سے دوری اختیار کر کے انجام نہیں دیا جا سکتا۔ غیر فعال کارکن اپنی مایوسی اور دل شکنی کے سبب دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے ہیں اور ہماری قیادت اور کارکنوں کی نیت پر شبہ کرنے لگے ہیں۔ بے شک افتاد زمانہ کے سبب ہم میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن الحمدللہ ہم ایسے نہیں

کہ مذہب پہ حملے جو ہیں ہر طرف سے

یہ دیکھ ان کو ہٹ جائیں راہِ سلف سے

یہی حال ہمارے غیر فعال کارکنوں کا بھی ہے

جماعت کی خبر سن کے کوئی مصیبت

انہیں کچھ نہ کچھ آ ہی جاتی ہے رقت

ہماری قیادت مخلص اور دین دار ہے۔ وہ غلبہ دین کے لیے جدوجہد کر رہی ہے لیکن فکری اور ساختی انجماد کی وجہ سے وہ جدیدیت کی اسیر ہو گئی ہے۔ جدیدیت کی اسی دلدل سے نکالنے کی بنیادی ذمہ داری ان سابق اور موجودہ وابستگان جماعت پر عائد ہوتی ہے جو ہمارے اصولی موءقف :اسلام ایک مکمل خود کفیل نظام ہے اور مغرب جاہلیت خالصہ ہے

پر یقین رکھتے ہیں۔ماڈرنسٹ آدرشوں کی لغویت کا ادراک رکھتے ہیں اور انہدام سرمایہ دارانہ اقتدار کی جدوجہد کو جاری رکھنے کی ضرورت کے قائل ہیں۔ جاوید اکبر انصاری