کتب خانہLibrary

← حقوق کراچی مہم سے کیا حاصل ہو گا

حقوق کراچی مہم سے کیا حاصل ہو گا.docxڈاؤن لوڈ

حقوق کراچی مہم سے کیا حاصل ہو گا؟

پچھلے چند ماہ سے جماعت اسلامی کراچی حقوق کراچی کی مہم چلا رہی ہے۔ یہ ان مہمات کا تسلسل ہے جو محترم نعیم الرحمان کی قیادت میں ہم نے کے الیکٹرک کے خلاف 2019 سے جاری رکھی ہوئی ہیں۔

شہری حقوق یا عوامی حقوق کا کوئی تصور قدیم اسلامی فکر میں نہیں ملتا۔ ترمیمی علما اور مدبرین نے سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق کی اسلام کاری قوم پرستانہ مباحث کے تناظر میں انیسویں صدی سے شروع کی اور یہ نظریہ مسلم قوم پرستی کی ایک کلیدی بحث ہے۔ اس سے جو عصبیت پیدا ہوتی ہے وہ سرمایہ دارانہ عصبیت ہے۔ لوگ ان حقوق کی طلب میں حرص اور ہوس اور حسد سے مغلوب ہو جاتے ہیں اور اپنے مادی فوائد کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اسلامی شخصیاتی اوصاف عوام میں اس قسم کی مہمات سے اجاگر نہیں ہوتے۔ لوگ اسلامی شعار کی پابندی کی طرف راغب نہیں ہوتے۔

یہ ایک نہایت اہم اشاریہ ہے کہ کے الیکٹرک اور حقوق کراچی کی مہمات کے سلسلہ میں جناب نعیم الرحمان صاحب کی کسی تقریر پر بھی اسلام کا سرے سے کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ ان کی تقریریں مصطفی کمال کی تقاریر سے مشابہ ہوتی ہیں۔ ان کا تخاطب مخلصین دین سے اس حد تک بھی نہیں جو قدیم مسلم لیگی قیادت کا تحریک پاکستان کے دور میں ہوا کرتا تھا۔ نعیم الرحمان صاحب کو دہریہ ذرائع ابلاغ میں جو پذیرائی حاصل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک خالص ماڈرنسٹ، سوشل ڈیموکریٹ قائد کے روپ میں ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اور سامراج کی یہ خواہش ہے کہ جماعت کی قیادت رشید غنوشی کی تیونس کی اسلامی جماعت کی طرح ماڈرنسٹوں کے ہاتھ میں آ جائے اور اسلامی انقلاب کا تصور ملکی سیاست سے یکسر معدوم ہو جائے۔ ہم سرمایہ دارانہ دہریت سے ویسی ہی مصالحت کر لیں جیسی رشید غنوشی کی جماعت نے کر لی ہے۔

سامراج اپنی اس مہم میں کامیاب اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جماعت کو سرمایہ دارانہ نظام کا مخلص، دیانت دار خدمت گزار بننے پر آمادہ کر لے۔ اور عوام میں اس جماعت کی اس قسم کی شناخت مقبول ہو جائے۔ لیکن پاکستان کے سیاسی تناظر میں اس کے امکانات بہت کم ہیں کہ جماعت کو اس قسم کی خدمت دینے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مثلاً حقوق کراچی مہم کے دوران جناب نعیم الرحمان صاحب جو مطالبات کر رہے ہیں ان پر عمل درآمد ہونے کے قطعاً کوئی امکانات نہیں۔ نہ کے الیکٹرک کو قومیایا جا سکتا ہے نہ مردم شماری دوبارہ کی جا سکتی ہے۔ نہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ ممکن ہے وغیرہ۔پاکستان کے سیاسی نظام میں کراچی کی وہ گرفت ہے ہی نہیں جو اس قسم کے مطالبات کو قبول کروانے پر اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کر سکے۔ یہ بات ایم کیو ایم کی شکست وریخت اور اس قسم کے مطالبات کے ترک کرنے سے بالکل اظہر من الشمس ہو گئی ہے۔

پھر سامراج نے کراچی کے حقوق کا ایک دہریہ دعوے دار بھی کھڑا کر دیا ہے۔ یہ ایم کیو ایم کا منحرف، الطاف حسین کا سیکریٹری مصطفی کمال ہے اور سامراج اس کو بے تحاشا وسائل فراہم کر رہا ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کا نور نظر بھی ہے۔ مصطفی کمال اور نعیم الرحمان کے کراچی کے حقوق کے

بیانیہ میں سرمو فرق نہیں۔ حقوق کراچی کے فروغ کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ نعیم الرحمان اور مصطفی کمال اکٹھے ہو جائیں اور جماعت کی اسلامی شناخت پورے طور پر دہریہ حقوق کی تحریک میں ضم ہو جائے۔

کیا حقوق کراچی کی مہم کے ذریعہ ہم اگلے انتخابات میں کراچی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟ اس کا ایک مبہم امکان موجود ہے (لیکن یہ کامیابی بھی مصطفی کمال دہریہ سے اشتراک عمل پر منحصر ہے ورنہ محبان کراچی کے ووٹ بٹیں گے) لیکن ان سیٹوں کا حصول نظاماتی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ کامیابی کراچی تک محدود رہے گی ملک گیر نہ ہو گی اور اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی نہایت محدود رہے گی اور کراچی سے منتخب یہ نمائندہ شہری حقوق کو فروغ دینے کے لیے لامحالہ نظاماتی مصالحت پر مجبور ہوں گے۔ ہم بتدریج ایک مقامی انفعالی گروپ بنتے چلے جائیں گے۔

حقوق کراچی کی مہم کو جاری رکھنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ ہم 2023 کے انتخابات کو روایتی انداز پر لڑنے پر مجبور ہو جائیں گے اور اس کے نتیجہ میں ہمیں ملک گیر شکست کا پھر سامنا کرنے پڑے گا۔ شکست سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ ان انتخابات کو اسلامی انقلابی بنیادوں پر لڑنے کی تیاری کی جائے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے ماس بیس کو منظم اور متحرک کرناہو گا۔ یہ ماس بیس ان کروڑوں مخلصین دین پر مشتمل ہے جو ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس ماس بیس کو متحرک اور منظم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم

۔ تمام اسلامی سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں اور گروہوں میں اشتراک عمل کو فروغ دینے کی پیہم جدوجہد کریں۔

۔ سرمایہ دارانہ مطالباتی سیاست سے حتی الامکان پرہیز کریں۔

۔ محلہ اور مسجد کی سطح پر عوام کے روزمرہ کے مسائل کے حل کرنے کی ادارتی استعداد مرتب کریں۔

۔ انتخابات کو خالص اسلامی منشور کی بنیاد پر لڑیں۔ ایک ایسا منشور جو تمام دہریہ نظریات اور آدرشوں سے پاک ہو۔

۔ ایک ایسا ملک گیر جذباتی ماحول قائم کرنے کی جدوجہد کریں جو دین کے ہر مخلص کو انتخابی مہمات میں دل و جان سے متحرک ہونے پر آمادہ کرے۔ یہ ائمہ مساجد اور صوفیائے عظام کی اعانت کے بغیر ناممکن ہے۔

حقوق کراچی کی مہم سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی جدوجہد نہیں کر رہے۔ ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کے لیے صف آرا ہیں۔ ہماری صفوں میں ماڈرنسٹ ترمیمیوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ جماعت اسلامی کا عام کارکن نہ ماڈرنسٹ ہے نہ سوشل ڈیموکریٹ، وہ سوشل ڈیموکریسی اور ماڈرن ازم پر لعنت بھیجتا ہے۔ وہ پورے شرح صدر کے ساتھ ایک اسلامی انقلابی ہے کیونکہ ہمارے مرشد مولانا مودودی نے ماڈرن ازم کو جاہلیت خالصہ قرار دیا ہے۔ جاوید اکبر انصاری