کتب خانہLibrary

← حرام خور دہشت گردی

حرام خور دہشت گردی04032021.docxڈاؤن لوڈ

حرام خور دہشت گردی

فنانس اور تمویل

ہم فنانس کو حرام خوری کہتے ہیں۔ فنانس سرمایہ داری کی ایجاد اور اس کی روح رواں ہے۔ فنانس تمویل کی ضد ہے۔ تمویلی عمل کا مقصد حصولِ رضائے الٰہی اور انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ فنانس کا مقصد مال کوسرمایہ کے شکنجے میں کس کے مال کی گردش کو سرمایہ کی مستقل لامتناہی بڑھوتری کا ذریعہ بنانا ہوتا ہے۔ یہ عمل سرمایہ کے مارکیٹوں (سود اور سٹہ کی مارکیٹوں) کے نظاماتی تسلط کو مستحکم کرتا ہے اور یہ عمل تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital) کی تنفیذ کا بنیادی ذریعہ ہے۔

سود اور سٹہ ہر فنانشل مارکیٹ کے قوت محرکہ ہیں۔ فنانشل عمل مال کو سود اور سٹہ میں لتھڑ دینے کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کے بیش تر مذاہب نے سود اور سٹہ کو حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا فنانشل عمل حرام خوری ہے اور ہر فنانسر (financer) حرام خور ہے۔

عالمی حرام خوری

عالمی حرام خوری کا یہ نظام سترھویں صدی سے قائم ہونا شروع ہوا اور آج دنیا کی ہر قومی معیشت اس کے زیر نگیں ہے ماسوائے ایران(جزوی طور پر)، افغانستان اور مجاہدین اسلام کے مفتوحہ علاقے۔ عالمی حرام خور نظام کی مرکزی منتظم قوت امریکا ہے اور امریکا ہی دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت بھی ہے۔ سترھویں صدی سے لے کر آج تک حرام خور کاروبار کے عالمی پھیلاؤ کے لیے سامراج کا سہارا لینا ناگزیر رہا ہے۔

امریکی حرام خور نظاماتی تسلط کی ابتدا دوسری جنگ عظیم کے اختتامی دور (1944) سے شروع ہوئی جب ڈالر کوعالمی تحفظاتی زر (international reserve currency) کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ آج امریکی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ جتنے ڈالر چاہے چھاپے کیوں کہ ڈالر کا اجر ا امریکا کے سونے کے ذخائر یا کسی اور شے سے منسلک نہیں۔ پوری دنیا کے ممالک کے ساٹھ فیصد تحفظات (global foreign exchange reserves)ڈالروں میں رکھے ہوئے ہیں اور چین نے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے اثاثے (بیش تر امریکی حکومتی تمسکات کی شکل میں) خرید رکھے ہیں۔ 2019ء میں تقریباً 65 فیصد بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری ڈالروں میں کی گئی۔

امریکی حرام خور نظاماتی تسلط کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جن اصولوں پر یہ نظام کارفرما ہے وہ امریکا نے وضع کیے ہیں۔ امریکا اس نظاماتی ہیئت کو rule based instrumentalization کہتا ہے اور تمام بین الاقوامی حرام خور ادارے WTO, IMF, FATF وغیرہ اس سے منسلک اور عملاً امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو سسٹم) اور امریکی Treasury کے ماتحت ہیں۔ لہٰذا ہر وہ ملک جو ڈالر میں تحفظات (ریزرو) رکھتا ہے یا ڈالر میں بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کرتا ہے امریکی حرام خور قانونی نظام کی گرفت میں ہے۔ ایسے ہر ملک کا ہر بینک اور ہر حرام خور ادارہ امریکی وضع کردہ قوانین اور اصولوں کی پابندی کے لیے امریکی مرکزی بینک (FRB)اور ٹریژری کے سامنے جواب دہ ہے اور امریکی ٹریژری اور مرکزی بینک دنیا کے ہر بینک کی کڑی جانچ پڑتال کرتا رہتا ہے۔

حرام خور دہشت گردی

ویسے تو حرام خور دہشت گردی کی ابتدا امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے (1947) روس کے خلاف شروع کر دی تھی لیکن اس عمل کی قانونی ضابطہ بندی 2004 سے شروع ہوئی جب امریکی ٹریژری میں دو نئے ذیلی ادارے قائم کیے گئے۔ ایک Office of Terrorism and Financial Intelligence اور دوسرا Office of Intelligene and Analysis۔ ان دونوں ذیلی اداروں کا مقصد حرام خور دہشت گردی کو منظم کرنا ہے۔ یہ ادارے حرام خور دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی منظم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

فنانشل دہشت گردی کا اصل ہتھیار

سینکشن اور امریکا میں رکھے ہوئے غیر ممالک کے تحفظات (reserves)اور اثاثوں پر قبضے سے امریکی ٹریژری کا یہ حق ہے کہ وہ جس ملک جس ادارے اور جس فرد کو چاہے ”دہشت گرد“ قرار دے کر اس کے اثاثے چھین لے اور اس کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو قانوناً ممنوع قرار دے دے۔ یو ایس پیٹریاٹ ایکٹ کا سیکشن 311 سن 2016 میں منظور کیا گیا ۔ یہ قانون امریکی حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ جس شخص، ادارے یا ملک کو چاہے اس پر ہیومن رائٹس (شیطانی حقوق) کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر اس کے اثاثے غصب کرے اور اس پر سینکشنز نافذ کر دے۔

امریکی ٹریژری نے Society for Worldwide Interbank Financial Transactions in US Dollars (سوئفٹ) کے نظام (database) پر قبضہ جما لیا ہے۔ اور 2021 کے آخر تک تقریباً سو احکامات سینکشنز کے نفاذ کے لیے جاری کیے ہیں۔ دوسرے سامراجی ممالک (برطانیہ، ولندیز، جرمنی، فرانس) بھی سینکشنز غریب ملکوں پر نافذ کرتے ہیں لیکن امریکی سینکشنز کی تعداد ان سب سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکا کی سینکشن پروگرام لسٹ(Senction programme and country information list) میں جنوری 2022 میں چالیس ممالک شامل ہیں اور امریکی ٹریژری کی لسٹ(US Treasury’s Specially Designated National List) میں تقریباً 7500 افراد اور اداروں کے نام شامل ہیں۔

دنیا کا ہر بینک اور حرام خور ادارہ اس بات پر مجبور ہے کہ امریکی ٹریژری کے احکامات کی پابندی کرے ورنہ وہ بھی دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا اور اس پر منی لانڈرنگ کا الزام لگا دیا جائے گا۔ دنیا کا ہر بینک اور حرام خور ادارہ امریکی ٹریژری کے لیے اپنے کھاتہ داروں کی کڑی نگرانی کا فریضہ مستقل انجام دیتا رہتا ہے۔ لہٰذا ہر بینک اور ہر حرام خور ادارہ امریکی حرام خور دہشت گردی کا آلہ کار بن گیا ہے۔

Juan Zarate امریکی ٹریژری کے Office of Terrorism and Financial Intelligence کے لیے اپنی کتاب The Unleashing of a New Era of Financial Warfare میں فنانشل دہشت گرد جنگ کی سیاسی حکمت عملی واضح کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ جنگ اقوام متحدہ کے توسط سے لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ کےحالیہ امریکی شکاروں میں افغانستان، ایران، شمالی کوریا، وینزویلا اور کیوبا سرفہرست ہیں۔ حرام خور دہشت گرد جنگ کا مقصد شکا ر ملکوں میں فاقہ کشی کو عام کر کے وہاں سیاسی تبدیلی لانا ہوتا ہے۔

افغانستان سے جوتے کھا کر فرار ہونے کے بعد امریکی سامراج اب حرام خور دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے ۔ امریکی حرام خور جوبائیڈن نے افغانستان کے 9 بلین ڈالر لوٹ لیے ہیں۔ امریکی سرکار نے افغانستان میں فاقہ کشی کو فروغ دینے کے لیے سخت ترین پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی کارندے افغانستان کے بینکوں پر قبضہ جمانے کے لیے شیطانی امداد(humanitarian aid) فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ایران کی بین الاقوامی تجارت پر امریکی ناکہ بندی مدت دراز سے نافذ ہے۔ ایران کے مرکزی بینک اور دیگر بینکوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے نکال باہر کرنے کے لیے امریکی ٹریژری کے احکام کے ذریعے اکسایا جا رہا ہے۔ بیش تر ایرانی بینکوں کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود ایرانی معیشت ترقی کر رہی ہے اورایران کا نیوکلیئر پروگرام نئی منازل طے کر رہا ہے۔

کیوبا پر امریکی حرام خور دہشت گردی کے نتیجہ میں وہاں کی سیاحت کی صنعت تباہ کی جا رہی ہے اور اس حرام خور دہشت گردی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ کیوبا سرنجیں درآمد نہیں کر پا رہا جس کے نتیجے میں وہاں کرونا پھیل رہا ہے۔ 2020 میں امریکا نے 223 نئے فنانشل سینکشنز کیوبا پر مسلط کیے اور 2021 میں کیوبا میں اس دہشت گردی کے سہارے بڑے پیمانے پر بلوے کرائے گئے۔ وینزویلا میں امریکی حرم خور دہشت گردی کے نتیجہ میں لاکھوں افراد مر رہے ہیں۔ آج شمالی کوریا سے کوئی عالمی بینک روابط نہیں رکھتا کیوں کہ ایسے بینکوں کو امریکا دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

منی لانڈرنگ کے الزام کی بنیاد پر امریکی ٹریژری نے جن عالمی بنکوں پر جرمانے نافذ کیے ہیں ان میں HSBC, Credit Swiss, Barclay, Standard Charted Bank, BNP شامل ہیں۔ چینی ٹیلی کام بنانے والی کمپنی ZTE پر امریکا نے ایک اعشاریہ دوبلین ڈالر سے زائد کا جرمانہ ایران سے تجارت کرنے کے جرم میں لگایا۔

ایران، لیبیا اور وینزویلا کے کھربوں ڈالر کے اثاثوں کو امریکا لوٹ چکا ہے۔ وینزویلا کے مرکزی بینک کو بھی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے اور وینزویلا کی تیل کا کاروبار کرنے والی سرکاری کمپنی کو امریکا نے غصب کر لیا ہے۔

دہشت گرد حرام خوری کی جنگ ہنوز زور پکڑ رہی ہے اور اس کے اگلے متوقع شکار سعودی عرب ، چین اور لاطینی امریکا کے ملک ہیں۔

حرام خور دہشت گردی – تحفظاتی حکمت عملی

امریکا ایک وحشی درندہ ہے اور قانونِ سرمایہ جنگل کا قانون ہے جو کمزوروں پر ظلم جاری رکھنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت امریکا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ملک کسی بھی ادارے کسی بھی فرد کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ لہٰذا اس جنگل کے قانون سے تحفظ کی حکمت عملی مرتب کرنا لازمی ہے۔ اس حکمت عملی کے مندرجہ ذیل اجزا ہو سکتے ہیں:

1۔ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر امریکا سے نکال لیے جائیں اور امریکا میں سرمایہ کاری غیر قانونی قرار دی جائے۔

2۔ ملکی بین الاقوامی تجارت ڈالروں میں نہ کی جائے اور زیادہ سے زیادہ مسلم ممالک سے زری تبادلہ کے معاہدے(currency SWAP agreement leading to currency Union) کیے جائیں۔

3۔ قومی معیشت میں بین الاقوامی تجارت اور ترسیل زر کا تناسب کم کر کے قومی معاشی خود انحصاری کو فروغ دیں۔

4۔ آئی ایم ایف، ایف ٹی اے ایف، ڈبلیو ٹی او وغیرہ کی نظاماتی تحکیم کو رد کریں۔

5۔ تمام بینکوں اور حرام خور اداروں کو قومیا کر سود اور سٹہ مارکیٹوں کو بند کریں۔

6۔ حرام خور نظام زر اور قرضہ جات سے بتدریج مراجعت اور تمویلی نظام کی بتدریج تعمیر

7۔ ایران اور افغانستان میں کرنسی یونین کا جلد از جلد قیام

8۔ شیطانی امداد (humanitarian aid) ، سامرجی قرضہ جات اور سرمایہ دارانہ بھیک (گرانٹس) سے حتی الوسع اجتناب۔ کسی نجی ادارے کو اس قسم کے قرضے یا بھیک وصول کرنے کی اجازت نہ ہو۔

جاوید اکبر انصاری