محترم ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ January 19,2022
آپ کے مضامین اور مقالات کمپوز کرتے ہوئے تحریکاتِ اسلامی میں نظریاتی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کا تتمہ ہونے کا موقف اور خواہش بار بار پڑھنے کو ملتی ہے۔ آپ کا مخلصانہ موقف ہے کہ آپ کی انقلابی جماعت تحریکاتِ اسلامی کی حلیف ہے اور تمام تحریکاتِ اسلامی کے کاموں میں تطبیق و تلفیق کی جدوجہد کررہی ہے۔ یا یہ کہ انقلابی جماعت ریاستی سطح پر تنفیذ کے لیے سرگرم ہے اور دوسری تحریکیں اپنے اپنے دائرے میں کام کر رہی ہیں اور ان سب کاموں کو آپس میں مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔
میرا موقف یہ ہے کہ یہ ایک تطبیقی خوش فہمی ہے۔ تحریکاتِ اسلامی جن الگ الگ دائروں میں سرگرم عمل ہیں ان میں تطبیق کی گنجائش نہایت ہی محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے مختلف سطحوں کی جماعتوں اور تحریکوں میں نظاماتی فہم و شعور اور نوعیت مختلف ہے۔ یعنی دعوت و تبلیغ یا تحفظ دین کی جماعتیں، سماجی و معاشرتی فلاحی بہبود میں مصروفِ عمل جماعتیں، شرکتِ اقتدار کے لیے موجود دینی سیاسی جماعتیں اور نظام کے انہدام کے لیے کام کرنے والی محدود جماعت الگ الگ قسم کے کام کر رہے ہیں۔ ان کے کام ایک دوسرے کے لیے تکمیلی نہیں ہیں۔ یہ الگ الگ دنیاؤں اور دو الگ الگ نظاموں کے باسیوں کے کام ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کی خبر ہے اور ایک دوسرے کے لیے خیر بھی ہو سکتی ہے لیکن فرد سے ریاست تک یعنی انفرادی تربیت سے انہدام نظام تک کے عمل کے لیے یہ ایک زنجیر کی کڑیاں نہیں بن سکتیں۔
اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ یہی ہے کہ دعوت و تبلیغ، سماجی بہبود اور سیاست کے کاموں میں مصروف جماعتیں اور تحریکیں اپنے اپنے مقام میں کُل ہیں، ایک دوسرے کا جزو نہیں۔ ان کا اساسی نقطہ نظر اور تصور جہاں یعنی ورلڈ ویو بہت مختلف بلکہ کسی حد تک مخاصمانہ اور متضادانہ ہے۔ ہماری دعوت و تبلیغ کی جماعتیں اخلاقی انسان پیدا کرنے میں ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے ہاں اخلاق کا روایتی جامع فہم موجود نہیں۔ ان جماعتوں کا تمام زور عبادات پر ہے اور عبادات کا تصور بھی وہ جس میں معاملات اور عبادات کی علیحدگی تصور کی جاتی ہے۔ جہاں کہیں اخلاقی تربیت کی کوشش کی جاتی ہے وہاں تمام محنت سرمایہ دارانہ نظام سے سہوِ نظر کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔ اخلاقی اوصاف یا اوصافِ حمیدہ کی تاکید و ترغیب تو دی جاتی ہے لیکن یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ یہ اوصاف سرمایہ داری کی خدمت میں صرف تو نہیں ہو رہے۔ مثال کے طور پر منبر و محراب سے عوام کو کسب حلال کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ بات گول کر دی جاتی ہے کہ کون کون سے شعبہ ہائے زندگی میں ”حلال“ موجود ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی پیش امام یہ کہہ دے گا کہ بینک، پولیس، پٹوار اور وکالت وغیرہ میں ملازمت حرام ہے، کرپشن، رشوت، جھوٹ اور سود کے بغیر یہ پیشے نہیں چل سکتے۔ دیگر تمام شعبے گویا ان مبینہ حرام شعبوں سے الگ تھلگ تصور کیے جاتے ہیں۔ مثلاً دیانت داری، محنت، باقاعدگی، وقت کی پابندی، افسر کی اطاعت، ادارے کی ساکھ کے لیے قربانیاں دینے کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں اور ان خوفِ خدا رکھنے والے افراد کو بے خدا نظام کی خدمت میں جھونک دیا جاتا ہے۔ ایک استاد روایتی اخلاقی قدروں کی پاسداری کرتے ہوئے جب تدریس و تربیت کرے گا ، ریاستی تعلیم کے اہداف پورے کرے گا اور ریاست کو مطلوب شخصیت و ذات کی آبیاری کرے گا تو اس میں انقلابی عنصر کہاں تلاش کیا جائے۔ اب اس بات سے کسی کو مفر نہیں کہ مروجہ نظام تعلیم سسٹم کے لیے مطلوب و مقصود افراد تیار کرتا ہے۔ تو اس سسٹم کے ملازم بن کر جب تمام کام صداقت و دیانت سے کیے جائیں گے تو یہ سسٹم کی مفت خدمت کے مترادف ہے۔ اسی طرح دیگر تمام شعبوں کا حال ہے۔ عدلیہ، فوج، میڈیا، بیوروکریسی وغیرہ میں ایمان دار اور متقی افسر بھرتی کروانے سے سسٹم کا نقصان ہوتا ہے یا فائدہ؟ اب یہ چاروں شعبے مقدس سمجھے جاتے ہیں تو جی جان سے ان میں زندگی کھپانے سے انقلابی جدوجہد کو کچھ نہیں ملنے والا۔ الٹا یہ ہوتا ہے کہ انقلابیوں کو پسپا کرنے اور پیسنے والے اپنے تئیں خدا کے مقبول بندے سمجھے جاتے ہیں۔ سسٹم کے زیر اثر ہونا الگ بات ہے اور سسٹم میں شامل ہونا دوسری بات ہے۔
خرابی یہ ہے کہ اخلاقی تربیت کرنے والی جماعتیں افراد کو سسٹم سے باہر کے لیے نہیں بلکہ سسٹم کے اندر کے لیے تیار کرتی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک سسٹم کہیں ہے ہی نہیں بس فحاشی و عریانی اور رشوت و بدعنوانی وغیرہ ہے۔ حرص و ہوس سے بچنے کی تلقین کر کے جب یہ جماعتیں افراد کو سرمایہ دارانہ ملازمتی شعبوں میں بھیجتی ہیں یا پہلے سے بھرتی لوگوں کی اخلاقی تربیت کرتی ہیں تو یہ لوگ سرمائے کے نہایت اچھے لیکن ذاتی طور پر مفلس خادم بن جاتے ہیں۔ کسی پیغمبر کو شہید کرنے کے ارادے سے آنے والے کو پیغمبر کی جائے سکونت سچ سچ بتا دینا نہایت مہلک ہے بلکہ ایسے شخص سے جھوٹ بولنا ہی باعث ثواب ہو گا۔ اسی طرح دین کی تباہی کے لیے چڑھے آتے سسٹم کی دیانت دارانہ خدمت اس کی سہولت کاری اور دین دشمنی ہے۔ سسٹم اپنے اداروں کی مضبوطی کی وجہ سے بھی قائم ہے۔ ان اداروں کو کمزور کرنے کے لیے متقی لوگوں کی نہیں بدعنوانوں کی ضرورت ہے۔ کیا یہ مضحکہ خیزی نہیں کہ دعوت و تبلیغ کی جماعتیں لوگوں کو کال کرنے اور موبائل فون استعمال کرنے کے آداب اور ٹیلی وژن دیکھنے اور بینک میں داخل ہونے کی دعائیں سکھائیں۔ائمہ مساجد حکمرانوں کی ہدایت کے لیے تو دعا کریں لیکن خلافت کا ذکر بھولے سے بھی نہ کریں تو پھر ایسے مزکین اور قائدین کے کام کو انقلابی عمل سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دینا بھی فکری غلطی ہے۔
یہی حال سماجی اور سیاسی تحریکوں کا ہے۔ کیا ان میں سے کسی تحریک میں یہ فہم تو کیا تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ان کی جدوجہد اس نظام کے انہدام کے لیے ہے؟ میرے علم میں تو ایسی کوئی جماعت یا تحریک نہیں۔ اس صورت حال میں جاوید انصاری صاحب اور آپ کے رفقا کی انہدامِ نظام کے لیے فکر اور اس میں دیگر جماعتوں سے امید بے فائدہ ہے۔ اس کا نتیجہ سوائے اجنبیت کے اور کچھ نہیں نکل رہا۔ انفرادی اور سماجی سطح پر کام کرنے والی جماعتیں انہدام کی راہ پر چل ہی نہیں رہیں۔ وہ تو اس نظام کی اصلاح اور اس میں اپنی شراکت کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ایسے میں انہدام کی بات کرنے والے انہیں اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی جوڑ نہیں بلکہ نظریاتی دنگل ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر سطح پر سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام سے نفرت لوگوں کے دلوں میں پیدا کی جائے۔ یہ کام تبھی ہو سکتا ہے جب ان میں کام کرنے والے عوام کو نظام کا شعور دیں گے اور انہیں سمجھائیں گے۔ ان کے سامنے کوئی دشمن ہی نہیں ہے تو نفرت وہ کس سے کریں اور اس نفرت میں وہ کس کے حلیف بنیں۔ فرد بیک وقت سماج اور سسٹم سے جڑا ہوا ہے اور ان کے اندر ہے تو پھر ان تینوں سطحوں پر بیک وقت ایک ہی فرد کی ہمہ جہت تربیت لازمی ہے۔ اصل مقصود انہدام سرمایہ داری ہو اور اس مقصد پر راضی ہونے والا ہر فرد ذاتی طور پر سماج میں اپنے معاملات اور اپنی نجی زندگی اپنے طریقے سے اس مقصد کے لیے ترتیب دے لے۔ جب تک انہدام سرمایہ داری کا مقصد تمام تحریکات میں مشترک اساس نہیں ہے تب تک تطبیق اور ہم آہنگی ممکن ہی نہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی باپ بیٹے کی پٹائی کرنے لگے اور ماں آکر اس کی ڈھال بن جائے۔ اب تک ہم یہی کام کر رہے ہیں۔ سسٹم ایسا چہیتا بن گیا ہے جو انقلابیوں کے آنکھ دکھانے پر فوراً دیگر تحریکات کو شکایت لگاتا ہے اور وہ اس کا مداوا کرنے لگتی ہیں اور انقلابی سوچ رکھنے والوں کو اجنبی سمجھتی ہیں۔ ہمیں ان تحریکوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ چہیتا اصل میں مارِ آستین ہے۔
نفرت ابھی تک کوئی قابل تعزیر جرم نہیں اور اس کے لیے کسی ہتھیار بندی کی ضرورت بھی نہیں۔ کسی محاذ آرائی کی ضرورت نہیں۔ جو جہاں ہے جیسا ہے اس کے دل سے سسٹم کی محبت نکال کر اس کے لیے نفرت بھر دی جائے۔ یہی تطہیر قلب ہے، یہی تزکیہ نفس اور یہ ماہیت قلب ہے۔ اسی کام کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے۔ پیداوار اور روزگار کے ایسے روایتی طریقے وضع کیے جائیں جس میں مارکیٹ کی شمولیت اور دخل اندازی محدود سے محدود تر ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ اگرآپ اپنی زندگی کا صرف ایک دن بھی بغیر کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس ادا کیے گزار لیں تو آپ کا وہ دن انقلابی ہے ورنہ خرابی ہی خرابی ہے۔سسٹم کا انہدام کہاں مشکل ہے اگرعوام اس سسٹم کے بغیر جینے کی تمنا کرتے ہیں۔
لہٰذا تحریکاتِ اسلامی کے کاموں میں تطبیق کے لیے لازمی ہے کہ پہلے ان تحریکات کا تحول عمل میں لایا جائے۔ ایسی تحریک ہو جو نیچے سے اوپر تک اور دائیں سے بائیں ہر جہت میں ایک ہی مقصد کے لیے رواں دواں ہو۔ ہر شاخ میں ایک ہی نظریہ سرایت کیے ہوئے ہو۔ یہ سسٹم ہمہ جہت اور مربوط ہے تو پھر اس کی مزاحمت بھی ہمہ جہت اور مربوط ہونی لازمی ہے۔ یہ سوچا جائے کہ کن کن طریقوں سے مزاحمت ہو سکتی ہے اور کس کس طرح محکومی کے بغیر چند سانسیں لی جا سکتی ہیں۔
یہ کچھ منتشر خیالات ہیں۔ عوام کی اخلاقی حالت ایسی ناگفتہ بہ ہے کہ الاماں۔ اسی حالت پر غور و فکر کرتے اور کڑھتے ہوئے آپ کا مضمون نظر سے گزرا تو سوچا آپ تک یہ خیالات پہنچا دینا شاید مفید ہو۔
کوئی بے باکی اور گستاخی یا غلط بات ہو گئی ہو تو معاف فرمائیے گا۔
آپ کی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو
صابر علی