کتب خانہLibrary

← خط بنام جاوید اکبر انصاری صاحب

خط بنام جاوید اکبر انصاری صاحب (002).docxڈاؤن لوڈ

مکرمی و محترمی ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

امید ہےآپ صحت و سلامتی سے ہیں۔ میرے مضمون ”قانون و اخلاق کا بندھن“ پر آپ کا حوصلہ افزا، مدبرانہ اور بروقت تبصرہ نظر نواز ہوا۔ یہ کرم فرمائی میرے لیے متاعِ عزیز ہے۔ میں جنوبی پنجاب کے ایک دورافتادہ گاؤں میں مقیم اور ایک چھوٹی سی سماجی فلاحی تنظیم کا حصہ ہوں۔ میری ذمہ داریوں میں تعلیمی معیار میں بہتری لانا اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کا انتظام اور دیکھ بھال ہے۔ یہ کام خدمت خلق کے جذبے سے اور فی سبیل اللہ ہیں۔ سرکاری سکول میں کل وقتی تدریس کے ساتھ ٹیوشن کا سلسلہ بلامعاوضہ ہے۔ یہ مضمون اصل میں قلیل مدت میں ان سرگرمیوں پر میرے تجربات اور غور و فکر کا بیان ہے۔

میں لاہور سے یہاں ایک انقلابی مقصد کے ساتھ منتقل ہوا ہوں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مطالعہ اور اس کے جبر کے نتیجے میں کچھ عملی کام کرنے کا سوچا اور اب یہ ابتدائی نوعیت کے کام کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام مہیب و بسیط ہے اور اسی وجہ سے انقلابی عمل کے لیے اس کے اندر ہر سطح پر دراڑیں اور خلا موجود ہیں جہاں محفوظ ہو کر محاذ آرائی کے بغیر انفرادی و اجتماعی کام کیے جا سکتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ تعلیمی نظام کے اندر ہی نصاب کی تدریس اس طرح سے کی جائے کہ ریاستی مقصد فوت ہوجائے یعنی ترسیل و انتقال کے عمل میں اپنی فعلیت دکھانے کے امکانات موجود ہیں اور اس سے متعلقہ عوام یعنی والدین کا اعتبار حاصل کر کے ان پر اثر و نفوذ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف زراعت کے شعبہ میں بھی انقلابی مشن کے ساتھ کاشت کاری کا غیر سرمایہ دارانہ عملی مظاہرہ کر رہاہوں تاکہ اس شعبہ سے مارکیٹ کا عمل دخل کم سے کم ہو جائے اور اجناس کی کاشت اور خرید و فروخت کا عمل کارپوریشنوں اور سود خور آڑھتیوں کے ہاتھ سے نکل جائے۔یہاں بھی غیر محسوس انداز میں عوام کے اندر اپنی اتھارٹی پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ان کوششوں کا مقصد نوجوانوں کی ایسی جماعت تیار کرنا ہے جو انقلابی سوچ کے حامل ہوں اور جنہیں نظاماتی جبر کا شعور ہو ۔

یہ سوچ اور عمل آپ کا فیضان ہے۔نظام کے خلاف انقلابی زندگی بسر کرنے پر آمادہ کرنے میں آپ کی اردو کتابوں اور مضامین کی کمپوزنگ کا بڑا عمل دخل ہے۔ یہ کمپوزنگ مجھے بے شمار کتب کے مطالعہ سے بے نیاز کر دیتی ہے اور فکری کمک کا باعث بنتی ہے۔

آپ کی ہدایت پر مضمون سے متنازعہ اور ناپسندیدہ حصہ حذف کر دیا ہے۔ اس کی بجائے اس میں رفاہی کاموں کو تزکیہ نفس کا ذریعہ بنانے کے حوالے سے کچھ گزارشات شامل کرنے کا ارادہ ہے۔ آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے ایک کتابچہ یا پمفلٹ کی شکل میں وسیع پیمانے پر شائع کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ یہ تحریر جلد ہی آزادانہ طورپر شائع ہو گی۔

آپ نے اپنا قیمتی وقت میرے مضمون کے مطالعہ کو دیا اور پھر کمال کرم نوازی کرتے ہوئے اس پر تبصرہ بھی فرمایا جس سے مجھے بے اندازہ مسرت ہوئی اور مزید لکھنے کا حوصلہ ملا۔ امید کرتا ہوں آپ کی شفقتیں جاری رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور آپ کا وجود امت کے لیے باعث برکت و فلاح بنائے۔

آپ کا ادنیٰ فیض یافتہ

صابر علی