تبصرہ ڈاکٹر محمد امین پاکستان کی دینی قوتیں غیر موثر کیوں ہیں
اس کتاب میں دینی جماعتوں کے غیر موثر ہونے کے اسباب اور نتائج کا تجزیہ کیا گیا ہے اور ان کو موثر بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔ میں صرف لائحہ عمل کے ضمن میں چند گزارشات پیش کروں گا۔
ڈاکٹر صاحب کی رائے میں ایک نئی اصلاحی تحریک برپا کیے جانے کی ضرورت ہےجس کے دو بنیادی مقاصد ہوں گے۔
موجودہ دینی تحریکوں کو احساس دلانا کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں۔
ملک کی حالیہ اشرافیہ کو دلائل سے قائل کرنا کہ اصلاح کے لیے نئے خطوط پر کام کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی رائے میں اصل کام اصلاح ہے ۔ انقلاب نہیں ہے۔ اصلاح سے بنیادی طور پر وہ ”تلقین“ مراد لیتے ہیں۔ اصلاح کا یہ عمل تمام افکار اور اعمال پر محیط ہو گا۔ اصلاح کا بنیادی ذریعہ تعلیم ہی ہو گا۔ تحریک کا بنیادی مخاطب فرد ہو گا اور فرد کی اصلاح سے یہ توقع کی جائے گی کہ اس کی اصلاح کے لازمی نتیجہ کے طور پر معاشرہ اور ریاست کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔ معاشرہ اور ریاست کی اصلاح کا ایک محدود تصور پیش کیا گیا ہے جس میں معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی کے لیے (مسجد کے علاوہ) گنجائش نہیں۔
فرد کی اصلاح کے لیے دروس وغیرہ سے کام لیا جائے گا ۔ تعلیمی نظام کی اصلاح اس طرح کی جائے گی کہ دینی اور دنیاوی یکساں تعلیمی نظام مرتب کیا جائے گا۔ دنیاوی تعلیم میں معاشیات، ابلاغیات، سیاسیات، بزنس، انجینئرنگ اور میڈیسن شامل ہیں۔ دینی اور دنیاوی تعلیم کو مدغم کرنے کے لیے تحریک تلقین بھی کرے گی اور ماڈل اسکول (ماڈل مدرسہ نہیں) اور ماڈل یونیورسٹیاں بھی بنائے گی۔ سائنس اور سوشل سائنس کا علوم جاہلیت ہونے کا کوئی تصور اس تصور تعلیم میں موجود نہیں لیکن اس کے مدنظر دینی علوم کو عصر حاضر کے مسائل مرتب کرنے کا ذریعہ بنانے کا تصور موجود ہے (غالباً اس تصور میں یہ نتیجہ دینی اور دنیاوی علوم کی تزویراتی پیوندکاری سے حاصل ہونے کی توقع کی گئی ہے، واللہ اعلم)۔ میڈیا کو اسلامی اصول و اقدار فروغ دینے کا ذریعہ بنانے کی جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔ (اس منصوبہ بندی کی اجمالی نشان دہی نہیں کی گئی)۔
تزکیہ نفس کے ضمن میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر زور دیا جائے گا۔ یہ کام ماڈل اسکول بنا کر اور ماڈل اسکول بنانے کی پرائیویٹ سیکٹر کو ترغیب دلا کر کیا جائے گا۔ بڑوں کے تزکیہ نفس کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ اور صحابہ کرام اور اسلاف کی سوانح کا مطالعہ کافی ہیں کسی سلسلہ سے وابستگی کی کوئی ضرورت نہیں لیکن بچے کھچے آدمیوں کی مدد سے تصوف کے ادارہ کی تشکیل نو کی جائے گی۔ اور یہ جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ اس تشکیل کی بنیاد بھی تعلیم ہی ہو گی۔
تحریک شادی بیاہ، پیدائش اور وفات سے متعلق رسموں کی اصلاح کرے گی۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق ان میں ہندوانہ اثر موجود ہے جس کو ختم کیا جائے گا۔ یہ نہیں واضح کیا گیا کہ کیسے۔ برے اخلاق کے خلاف جدوجہد کا طریقہ واضح نہیں کیا گیا تحریک خدمت خلق کا کام بھی کرے گی اور اس کا طریقہ کار بھی واضح نہیں کیاگیا۔ تزکیہ نفس کے جاری کام کو ڈاکٹر صاحب غلط اور ناقص کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تصوف کرپٹ ہو گیا ہے۔ لیکن تصوف کی اصلاح کا طریقہ کار بھی واضح نہیں کیا گیا۔
تحریک غربت کے خاتمہ کی کوشش کرے گی۔ حالانکہ کئی ائمہ سیاست (امام ماوردی، امام ابن خلدون، شاہ ولی اللہ وغیرہ رحمہم اللہ علیہم اجمعین) نے غربت کے خاتمہ کو اسلامی حکومت کی ذمہ داری نہیں بیان فرمایا۔ غربت کے خاتمہ کے لیے تحریک ایک مرکزی کونسل اور ہر مسجد میں ایک رفاہی کمیٹی منظم کرے گی اور غیر سودی قرضوں اور غیر سودی کاروبار کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
مساجد میں مصالحتی کمیٹی بنا کر ملک بھر میں منظم کیا جائے گا۔ مساجد میں امن کمیٹیاں بھی بنائی جائیں گی جو نوجوانوں اور صحت مند بزرگوں پر مشتمل ہوں گی اور جو تحفظ مساجد اور اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کا کام کریں گی۔
تحریک تفریحی سرگرمیاں مثلاً لائبریری، اسلامی تقریبات اور کھیلوں کو فروغ دینے کی کوشش کرے گی۔ یہ تمام کام غیر سیاسی انداز سے کیے جائیں گے۔ غیر سیاسی سے مراد ہے بغیر نعرہ لگائے بغیر بڑھکیں مارے، بغیر الیکشن لڑے۔ یہ ریاست میں ریاست قائم کرنے کی کوشش نہیں ہو گی۔
ڈاکٹر صاحب ایک مسلم غیر صالح حکمرانوں کی چلائی گئی حکومت کو اسلامی حکومت تصور کرتے ہیں۔ ان کے بقول دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت کے ذریعہ پاکستانی ریاست نے کلمہ پڑھ لیا ہے وہ غیر صالح مسلمانوں کے اقتدار کو ختم کرنے کی جدوجہد کے قائل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان غیر صالح مسلمانوں کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ وہ امام عالی مقام اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ کے خروج کو ناکام کہتے ہیں اور ان کے خیال میں غیر صالح مسلمانوں کی چلائی گئی حکومتیں یعنی دہریہ سرمایہ دارانہ ریاستیں ویسی ہی اسلامی ریاستیں ہیں جیسی اموی، عباسی، عثمانی اور مغل سلطنتیں تھیں اور ان غیر صالح مسلمانوں کی چلائی گئی حکومتوں کے خلاف خروجی جدوجہد حرام ہے (خواہ وہ پرامن ہی کیوں نہ ہو)۔
ڈاکٹر صاحب کے مطابق اسلامی سیاسی جدوجہد ہر جگہ ناکام ہوئی ہے۔ پوری کتاب میں کہیں اسلامی جمہوریہ ایران کا تذکرہ ہے نہ ان امارتوں کا جو مجاہدین اسلام آج افغانستان، شام، لبنان، مالی، چیچنیا، صومالیہ وغیرہ میں قائم کرتے رہے ہیں۔ بقول ڈاکٹر صاحب سیاسی جدوجہد کا واحد نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی قوتوں اور غیر صالح مسلم حکمرانوں کی منافرت و مسابقت اور حریفانہ کشمکش عام ہو گئی۔
ڈاکٹر صاحب کی تحریک صالح مسلم حکمرانوں سے مسابقت ختم کر دے گی اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے گی۔ یہی درس وہ اسلامی دینی جماعتوں کو بھی دے گی۔ یہ تحریک اسلامی دینی سیاسی جماعتوں کو جمہوری عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے گی۔ وہ غیر سیاسی اسلامی جماعتوں کو بھی غیر صالح مسلم حکمرانوں کی اصلاح پر آمادہ کرے گی۔ غیرصالح مسلم حکمرانوں کی اصلاح کے لیے جو اقدام تحریک جاری کرے گی وہ حسب ذیل ہیں:
ایچی سن کالج جیسے ادارے قائم کرے گی جو ایلیٹ بچوں کی تربیت کریں گے۔
بیوروکریسی اور فوج کے تربیتی اداروں کی اصلاح کرنا ۔ (طریقہ کار واضح نہیں)
سرکاری مقابلہ کے امتحانوں میں امیدواروں کی تیاری
ارکان اسمبلی کی پروفیشنل تربیت (اس سے واضح ہوتا ہے کہ گو کہ تحریک جمہوری عمل میں شرکت سے اسلامی جماعتوں کو روکے گی وہ جمہوری عمل کے تسلسل کو جائز گردانتی ہے)
فائیو اسٹار ہوٹلوں میں مینجمنٹ اور فنانس کے لیے ورکشاپ منعقد کرے گی۔
ڈاکٹر صاحب کے مطابق حضرت مجدد الف ثانی نے یہی کیا تھا اور آپ کی مساعی جلیلہ سے جہانگیر کی اصلاح ہو گئی تو بلاول بھٹو کی کیوں نہیں ہو سکتی جب کہ مغل سلطنت اور پاکستان ایک ہی قسم کی حکومتیں ہیں۔
دینی اسلامی جماعتوں کے ارکان کو مشورہ دے گی کہ وہ دہریہ جماعتوں میں شامل ہو جائیں اور ان کی قیادت کی اصلاح کریں۔
تنظیم اسلامی، تحریک اسلامی اور ایسی سیاسی اسلامی جماعتوں کو جو انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں اکٹھا کیا جائے۔ اور ایک غیر انتخابی پریشر گروپ بنائے گی جو وقتاً فوقتاً خاص ایشوز پر احتجاج اور مطالبات کرتا رہے گا۔
اسلام کے سیاسی نظام کی اجتہادی انداز سے تشکیل نو کی جائے گی (طریقہ کار واضح نہیں)
تجزیہ
میں ایک ایسا جاہل شخص ہوں جو صرف ناظرہ قرآن مجید پڑھا ہوا ہے۔ لہٰذا اب میں جو کچھ عرض کروں گا وہ ایک ناخواندہ شخص کی خام خیالی کا اظہار ہے۔
میں جماعت اسلامی کا ایک عام کارکن ہوں اور ہم ڈاکٹر امین صاحب کو اپنے فکری قائدین میں شمار کرتے ہیں۔ آپ نے تحریک اصلاح تعلیم کے ضمن میں جو کام کیا ہے وہ دور حاضر میں عدیم المثال ہے۔ اور ہم اس سے مستقل مستفید ہوتے رہتے ہیں۔
اسلامی حکمت عملی کے ضمن میں آپ نے جو تجاویز پیش فرمائی ہیں ان میں دینی اور دنیاوی نظام تعلیم کے ضمن کی تجاویز قابل قدر ہیں اور جماعتوں سے وابستہ اسکولوں، مدرسوں اور کالجوں کو ان تجاویز کی تنفیذ کے لیے غور اور اہتمام کرنا چاہیے۔
اسی طرح مساجد کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی تجاویز بھی نہایت مفید ہیں اور اس قسم کا کام اسلامی جمہوریہ ایران میں مدت سے ہو رہا ہے جس کے مثبت معاشرتی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ ائمہ مساجد کو فطری عوامی مقامی قائد کے طور پر فائز کئے بغیر تحریک غلبہ دین مخلصین دین کو بااقتدار نہیں بنا سکتی۔
ڈاکٹر صاحب کو اس بات کااحساس ہے کہ مساجد کے معاشرتی کردار کو وسیع کرنے کے کام کی دہریہ قوتیں لازماً مخالفت کریں گی اور یہ مخالفت لازماً سیاسی ہو گی۔ پھر پریشر گروپس سے جوتوقعات ڈاکٹر صاحب قائم کرتے ہیں ان کے بروئے کار لانے کے لیے بھی سیاسی عمل ہی ضروری ہو گا۔ لہٰذا اصلاحی تحاریک سیاسی مسابقت سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں۔
اور تاریخ اسلامی اصلاحی اور انقلابی جدوجہد عموماً مربوط رہی ہے۔ اصلاح اور انقلاب complimentary عمل ہیں، متبادل (substitute)عمل نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے دور میں محض ایک مدرس اور مزکی نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ایک سیاست دان ، ایک منصف، ایک منتظم بھی تھے۔ مسلمانوں نے آپ کو اپنا حاکم اعلیٰ تسلیم کر لیا تھا اورمکہ میں قائم پارلیمنٹ (ندوہ) کا مکمل بائیکاٹ کیا تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ مکہ کی ایلیٹ کی اصلاح نہیں ہوئی۔ مکہ کو فتح کرنے کی ضرورت پڑی اور اس کے لیے ہجرت اور جہاد کے مراحل سے گزرنا پڑا اور ہجرت اور جہاد دونوں فی نفسہ سیاسی عمل ہیں۔
پھر پوری اسلامی تاریخ میں خروجی تحریکات جاری رہی ہیں۔ امام عالی مقام اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کے خروج نہایت کامیاب خروج تھے۔ ان کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں اسلامی حکومتوں میں تیرہ سو سال تک (خلافت عثمانی کے سقوط تک) ہمیشہ شرع نافذ رہی اور تمام اجتماعی فیصلے علو م اسلامی کے تناظر میں کیے جاتے رہے۔ سلاطین عموماً علما کرام کے معتقد اور صوفیا عظام کے مرید رہے اور معاشرتی، عدالتی، تنظیمی اور تعلیمی نظام پر علما کی حاکمیت مسلم رہی۔
اور جیسا کہ امام ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ نے ”مقدمہ“ میں واضح فرمایا ہے سیاسی نظام میں بگاڑ کی درستی کے لیے سلاطین کے خانوادوں سے ہمیشہ مزاحمت ہوتی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارےدرخشاں تاریخی دور میں اسلامی انقلابی سلاطین ہی تھے۔ برصغیر میں سب سے روشن مثال امام اورنگ زیب رحمہ اللہ کے داراشکوہ ملعون اور شاہجہاں کے خلاف کامیاب خروج کی ہے۔ پوری انیسویں صدی میں برصغیر میں خروج اور جہاد جاری رہا اور اکابر علما اور سلاطین سید بادشاہ، صادق پوری سید، حیدر علی، حاجی شریعت اللہ، حافظ رحمت خاں، نواب نجیب الدولہ، شیخ المشائخ حضرت امداد اللہ مکی، امام فضل اللہ خیر آبادی، مولانا محمود الحسن، جنرل بخت خاں، حاجی ترنگ زئی، پیر صبغت اللہ مجددی، فقیر اپی ، حاجی ترنگ زئی وغیرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان خروجوں کی قیادت فرمائی۔
یہ تحاریک پسپا تو ہوئیں ناکام نہیں ہوئیں۔ آج ملک میں غلبہ دین کی جدوجہد جاری ہے وہ ان ہی مہمات کا تسلسل ہے۔ یہ سب امام عالی مقام کا صدقہ جاریہ ہے اور ہماری جماعت بھی انہیں بزرگوں کی غلامی کا شرف حاصل کرنے کی جستجو کر رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ
حضور شافع محشر کہیں گے یوں شبیر
گناہ گار تو ہے پر جماعت میری ہے
پاکستان کی دینی سیاسی تحریکیں غیر موثر تو ہیں ناکام نہیں ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز حیات اور نظام زندگی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں اور یہ ایک ایسا طویل المدت اقدام ہے جو صدیوں تک جاری رہے گا۔ پاکستان کی ریاست ایک خالصتاً دہریہ، سرمایہ دارانہ، سامراجی باجگزار ریاست ہے۔ اس کے حکمران سامراج کے آلہ کار ہیں۔ وہ اپنے سامراجی آقاؤں کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی اصلاح کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں جو تجاویز ڈاکٹر صاحب نے دی ہیں ان پر کسی نہ کسی حد تک عمل کیا جارہا ہے اور کیا جاتا رہنا چاہیے۔
لیکن ان تجاویز کی تنفیذ سے نظاماتی تغیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ عملاً ان تجاویز کی تنفیذ کے نتیجہ میں ایک مدت دراز میں (جس کا تعین ڈاکٹر صاحب نے نہیں کیا) ریاستی اشرافیہ کا ایک قلیل گروہ اصلاح سے متاثر ہوگا۔ لیکن اس گروہ نے تحکیم قانون سرمایہ کو معطل کرنے کی جدوجہد کی تو اس کی سیاسی اور غالباً عسکری مخالفت سامراج اور سرکاری اشرافیہ کی بڑی اکثریت لازماً کرے گی اور لامحالہ ملک میں سیاسی کشمکش جاری رہے گی۔ سامراجی گماشتوں سے مخلصین دین کی طرف قوت کا انتقال اپنی نوع کے اعتبار سے ایک سیاسی عمل ہے جو محض تلقین سے انجام نہیں دیا جاسکتا۔
بحیثیت مجموعی یہ کتاب چشم کشا ہے اور مصلین کے کام کو آگے بڑھانے لیے نہایت مفید مواد فراہم کرتی ہے۔ اصلاح کے کام کو انقلابی عمل کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصلاح اور انقلاب ایک سکہ کے دو رخ ہیں اور اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کو مربوط کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہماری جماعت تمام مصلحین جماعتوں کی حمایتی، قدردان اور خادم جماعت ہے۔ ہم ڈاکٹر امین کو اپنے رہنماؤں میں شمار کرتے ہیں۔
جاوید اکبر انصاری