شاہ نواز فاروقی کی ہندومت سے مرعوبیت

  شاہ نواز فاروقی کی ہندومت سے مرعوبیت 

 

شاہنواز فاروقی کا جسارت بروز اتوار فروری 26 کو چھپنے والا مضمون اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ شاہنواز فاروقی ایک ادیب محض ہیں جو کسی بھی موضوع پر جب قلم اٹھا رہے ہوں تو ان کے پیش نظر محض اسلام اور اس سے متعلق کردار نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی بھی دیس دھرم سماج بلکہ  کسی بھی شعبہ زندگی کے کرداروں کو رول ماڈل بنا کر پیش کر رہے ہیں 26 فروری کے اس مضمون میں اچھے انسان کے روپ میں ہندو دیو مالایی قصے کہانیوں سے اپنی مرعوبئیت ایک مرتبہ پھر ظاہر کی ہے وہ ایسا تسلسل سے کر رہے ہیں ۔

یہاں تو انھوں نے ہندو مت کا اچھا خاصہ پرچار کر ڈالا ہے اور ایک جگہ لکھا کہ” والمیسکی سنسکرت کے  عظیم شاعروں میں سے ایک ہے اس نے رام کی سیرت کو رامائین میں منظوم کیا ہے اس عظیم نظم میں 24 ہزار اشعار ہیں والمیسکی رام کا ایک عظیم عطیہ تھا”

پھر اسی مضمون میں ایک اداکارہ وجنتی مالا کو ہیرو بنا کر پیش کیا ہے کہ اس نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوے گجرات کے واقعات کے بعد مخالفین کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر مسلمانوں کی امداد کی

وجنتی مالا  سے پہلے وہ سائرہ بانو کو خواتین کا بہترین رول ماڈل ثابت کر چکے ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں