کسی بھی تہذیب کا انحصار اس کے اقداری نظام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی تہذیب کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے اس کی بنیادی اقدار کا سمجھنا اور جاننا لازمی ہے۔ یہ زمانہ جس میں ہم رہ رہے ہیں مغربی تہذیب کے غلبہ کا زمانہ ہے۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ان اقدار کو سمجھا جائے جس پر مغربی تہذیب قائم ہے تاکہ وہ سامان کیا جاسکے جس کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے اور تہذیب کو مغربی تہذیب سے بچانے کی کوشش کرسکیں اور ان اقدار کو فروغ حاصل ہو جو ہماری تہذیب کا جزو ہیں۔اس کی پہلی قدر آزادی ہے۔
آزادی کے تصورات
مغربی مفکرین نے آزادی کے دو تصورات ان کی ہیں۔
(1) آزادی کا منفی تصور (Negative Freedom )
(2) آزادی کا مثبت تصور (Postive Freedom)
منفی آزادی
آزادی کا منفی تصور یہ ہے کہ معاشرہ جو ناگزیر پابندیاں لگاتا ہے اس کے باوجود انسان کے پاس ایک ایسا علاقہ بچارہنا چاہیے جس میں وہ اپنی خدائی کا اظہار کرسکے اور اپنے متعین کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکے۔ آزادی کے منفی تصور میں اثبات سے بحث نہیں ہوتی ہے کہ انسان اس دائرہ کار میں کس قسم کی زندگی گزارنے کا (شراب پئے گا، نماز پڑھے گا، زنا کرے گا وغیرہ) بلکہ صرف منفی طور پر یہ تصور کار فرما ہوتا ہے کہ تمام ناگزیر معاشرتی جکڑ بندیوں کے درمیان ایک ایسا علاقہ ضرور ہونا چاہیے جس میں انسان جو چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے اور کسی دوسرے کے سامنے وہ اس معاملے میں جواب دہ نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس علاقہ میں چاہے کچھ بھی کرے یہی اس کا حق ہے۔ جس کے اندر کوئی دوسرا مداخلت نہیں کرسکتا۔ اس تصور کی رو سے انسان کی ذاتی زندگی میں آزادی دراصل اس کی نفسیاتی خواہشات پر ہر قسم کی قدغن سے آزادی ہے۔ انفرادی حقوق کا معاملہ اس مقدس آزادی کا تحفظ ہے جس میں آزادی فکر ونظر، حق ملکیت، اظہار رائے وغیرہ کا حق شامل ہے۔ عیسائی برلن کے الفاظ ہیں:
”ان معنوں میں آزاد ہونے کا مطلب دوسروں کی کسی قسم کی مداخلت سے آزادی ہے۔ دوسروں کی مداخلت سے آزادی کا یہ علاقہ جتنا وسیع ہوگااس قدر میں زیادہ آزاد ہوں گا۔”
”یہ بہت ضروری ہے کہ کم از کم ایک ایسا علاقہ ضرور ہو جس میں کسی کو کسی بھی حالت میں مداخلت کا حق نہ ہو۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا ہے وہ اچھائی اور برائی کے پیمانوں کا خالق ہے۔ لبرلزم کے تما دھڑے اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی اختیار کا کوئی نہ کوئی دائرہ معاشرتی جکڑبندیوں سے آزاد ہو جہاں وہ اپنی خدائی کو روبہ عمل لاسکے۔ ریاست ومعاشرے کا فرض ہے کہ وہ اس دائرے کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں۔
برلن کے الفاظ میں:
اکیلی آزادی جو آزادی کہلانے کی مستحق ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنے طریقے کے مطابق اپنے اہداف حاصل کرنے کا اختیار ہو۔”
وہ مزید کہتا ہے کہ:
”آزادی کا یہ تصور اس منفی ہدف پر مشتمل ہے کہ انسان کے مخصوص دائرہ اختیار میں ہر قسم کی مداخلت کا قلع قمع کیا جاسکے۔”آزادی کے اس تصور کے نتیجہ میں پبلک اور پرائیویٹ لائف کا فرق پیدا ہوتا ہے۔ آزادی کے منفی پہلو سے مراد یہ ہے کہ انسان کی نجی زندگی میں کسی کو بھی مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ انسان کی آزادی زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک وسیع ہوتی چلی جائے گی تاکہ وہ اس کی خدائی میں اضافہ ہوسکے۔
منفی آزادی کے نتائج:
منفی آزادی سے جو وسیع نتائج اخلاق، معاشرت اور ریاست کے حوالے سے پیدا ہوتے ہیں ان میں سے چند نکات یہ ہیں
-
- یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزادی درحقیقت کچھ نہیں ہے۔ یہ صرف ایک خالی علاقہ ہے جہاں انسان جو کچھ چاہے وہ کرگزرے۔ خود آزادی کچھ نہیں ہے۔ اس کا کوئی Content نہیں ہے بلکہ اس کا Contentنفسانیت سے پر ہوتا ہے۔
-
- آزادی اقدار کی نفی ہے۔ کیونکہ جب آپ کہیں گے کہ آزادی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں آپ جو چاہیں کر گزریں اور جو آپ کریں وہی حق ہے تو اقدار کی بحث بے معنی ہوجاتی ہے۔ ہر شخص قدر خود متعین کرتاہے حالانکہ قدر کی تعریف ہی یہ ہے کہ جس کا پیمانہ انسان کی ذات نہیں بلکہ خارجی اور معروضی ہو۔ اگر ہر شے اور خواہش کی قدر یکساں ہے تو فی الحقیقت کسی شے کی کوئی قدر نہیں۔
-
- آزادی کے منفی تصور سے متصل تصور اقدار کے تعدد یعنی Plurality of Values کا ہے۔ یعنی میری متعین کردہ قدر اور آپ کی متعین کردہ قدر برابر ہے۔
اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ ترتیب اقدار ناممکن ہے کیونکہ ہر شخص کی متعین کردہ اقدار یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ اقدار کی فوقیت صرف ارتکاز قوت (کثرت رائے یا کثرت مال) سے قائم کی جاسکتی ہے اور اس فوقیت کا کوئی نظری جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔
آزادی کا مثبت پہلو:
لبرلزم کے پاس آزادی کا کوئی مثبت معاشرتی تصور موجود نہیں ہے بلکہ وہ منفی آزادیوں کے مجموعہ ہی کو معاشرتی اور مثبت تصور گردانتے ہیں اور ان کے خیال میں معاشرہ کا فرض ہی یہ ہے کہ منفی آزادی کے مجموعہ کی زیادہ سے زیادہ بڑھوتری کے لیے تگ ودو کرے۔
لبرلزم کے برعکس کمیونیزین آزادی کا ایک مثبت تصور پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں عقل ہمیں بتا سکتی ہے کہ آزاد ہونے کا کیا طریقہ ہے۔ اس سلسلہ میں روسو، ہیگل اور مارکس نے مثبت آزادی کے مختلف تصورات بیان کیے ہیں۔ (دیکھئے مضمون روس اور انقلاب روس) لیکن چونکہ ہم بنیادی طو رپر لبرل سوچ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے ہم تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ کمیونیزیزم مثبت آزادی (Positive Freedom) سے وہ معاشرتی نظام مراد لیتے ہیں جس کے قیام کے نتیجہ میں انسانیت بحیثیت نوع کے خدا بن سکے۔ روسو کے مطابق خدا بن جانے کا یہ عمل (Contract Nucienl) کے ذریعہ ایک انقلابی معاشرہ کے قیام کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے اور مارکس کے خیال میں انسانیت طبقاتی کشمکش کے ذریعہ بحیثیت نوع خدا بن سکتی ہے۔ خدا بننے کی آرزو تمام خواہشات کی تکمیل کے سو ا کچھ نہیں چنانچہ کمیونیزیزم جس کو بنیاد بناکر Positive Freedom کو متشکل کرنے کا دعویٰ دار ہے وہ بھی خواہشات کی غلام ہے۔ وہ بھی Rationality bounded disire ہے اور اقدار کی آفاقی اور مستقل ترتیب کرنے سے قاصر ہے لینن نے اس بات کا اقرار کئی جگہ کیا ہے وہ کہتا ہے کہ سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے جن اخلاقیات کو اپنا نا چاہیے وہ ان اخلاقیات سے بالکل مختلف ہیں جو اشتراکی معاشرہ کی تعمیر کے دور میں مستحسن قرار دی جانے چاہیں یعنی کوئی مستقل اقدار موجود نہیں۔ لبرل مفکرین آزادی کے مثبت تصور کو رد کرتے ہیں اور آزادی کے حصول کا صحیح طریقہ منفی آزادی کے فروغ کو ہی گردانتے ہیں۔ ان کے نزدیک مثبت آزادی کی جستجو لاحاصل بلکہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے فاشزم کے لیے راہ ہموار ہوتی ہے۔
لبرل مفکرین کے نزدیک آزاد معاشرے میں:
-
- ّقوت مطلق نہیں ہوتی بلکہ حقوق مطلق ہوتے ہیں۔
-
- فرد کی زندگی کے اردگرد ایسی غیرمصنوعی سرحدیں ہیں جو مقدس ہیں اور جنہیں کسی قیمت پر پامال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
یعنی اصل مقصود ”منفی آزادی” ہے اور مثبت یا معاشرتی آزادی اس کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور لبرل مفکرین کے یہاں مثبت سیاسی حقوق، سیاسی عمل میں شرکت، وغیرہ کا واحد مقصد ”منفی آزادی” کا تحفظ ہوت اہے ان مفکرین کے نزدیک انسانیت کی مجموعی آزادی کا تصور لغو اور صرف تخیل کی کرشمہ سازی ہے۔
مساوات:
لبرل ازم کا تصور مساوات اس کے تصور آزادی کا ساختہ پر داختہ ہے۔ ہر انسان کے متعین کردہ اہداف دوسرے انسان کے متعین کردہ اہداف کے برابر قدر وقیمت رکھتے ہیں۔
اس تصور کے مطابق ترتیب اقدار ناممکن ہوجاتی ہے۔ معاشرتی قدر وقیمت انسان کے اعمال اور اخلاص سے متعین نہیں ہوتی بلکہ مادی ترقی معاشرتی قدر وقیمت کا واحد معیار رہ جاتی ہے۔
رالس (Rawls) نے اس سلسلہ میں ایک عمدہ مثال دی ہے وہ کہتا ہے کہ ایک شخص اگر متعین زمین میں ہیروئن کو ختم کرنے کا ہدف طے کرتا اور دوسرا شخص اسی رقبہ میں گھاس کی پتیوں کو گننے کا ہدف مقرر کرتا ہے تو لبرلزم کے نزدیک یہ دونوں اہداف یکساں معاشرتی اہمیت اور قدر وقیمت رکھتے ہیں۔
معاشرہ کو دو طرح سے معاشرتی ادارتی حیثیت دی جاتی ہے۔ (1) قانونی طو رپر (2) سیاسی طور پر۔
سیاسی طو رپر ہر شخص کا ووٹ برابر ہے ۔چاہے وہ نمازی ہے یا زانی یا شرابی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قانونی اعتبار سے ہر شخص کی آزادی کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس میں مداخلت نہ کی جاسکے اور اس کی نجی حیثیت برقرار رہ سکے۔
اسلام مساوات کے اس تصور کو رد کرتا ہے۔ تمام اقدار کی یکساں اہمیت نہیں ہے بلکہ خدا کی قائم کردہ مطلق ترتیب ہے کہ جس میں ردوبدل نہیں کیا جاسکتا۔ جو شخص تقویٰ میں، محبت رسولﷺ میں بڑھا ہو اہے وہی افضل ہے۔ کوئی شرابی وزانی نہ تو نمازی کے برابر ہوسکتا ہے نہ اس کے ووٹ کی قدروقیمت نمازی کے ووٹ کے برابر ہوسکتی ہے۔
قرآن مجید سورۃ الرعد آیت ۱۹کے ضمن میں ارشاد ہے:
جو جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ کس طرح برابر ہوسکتے ہیں؟
عدل:
ایک لبرل معاشرہ میں عدل کا تصور یہ ہے۔
(1) ہر فرد کو اس کا حق ہوکہ وہ اپنی ذاتی اور معاشرتی اہداف کو آزادنہ طور پر (Autonomously)حاصل کرسکے ۔
(2) تمام اہداف کو مساویانہ معاشرتی قدر حاصل ہو ان میں کوئی ترجیحی ترتیب جائز نہیں۔
(3) لیکن چونکہ اس ترجیحی ترتیب کے بغیر زندگی کا کاروبار نہیں چلایا جاسکتا لہٰذا اہداف میں ترتیب کا حق صرف مستقل تبدیل ہوئی اکثریتی رائے کو سونپا جاسکتا ہے۔
(4) اس کے باوجود اکثریت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی فرد کا بنیادی فطری حق منسوخ کردے۔ فطری حق یہی ہے۔
”ہر فرد کے ساتھ مساویانہ قانونی اور اخلاقی برتاؤ کیاجائے گا خواہ اس کے عقائد،کردار، شخصیت اور میلانات کچھ بھی ہوں۔”
لبرل تصور عدل سراسر ظلم ہے کیونکہ
(1) اس تصور کے مطابق فرد کو خدا کا مقام دیا جاتا ہے فرد کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی تمام نفسانی خواہشات کے حصول کے لیے جدوجہد کرے۔ خیر وشر کا بنیادی معیار نفسانی خواہشات ہیں۔
(2) چونکہ تمام نفسانی خواہشات یکساں طور پر قدر رکھتی ہے لہٰذا اصولاً ان میں کوئی ترجیحی ترتیب نہیں دی جاسکتی عملاً چونکہ یہ ترتیب ناگزیر ہے لہٰذا اس کا حق اکثریت کو دیا جاتا ہے۔ لیکن اکثریت کو یہ حق نہیں ہے کہ فرد کے خدا ہونے کے بنیادی مفروضہ کو رد کرے۔
(3) لبرلزم فطرت انسانی کے ادراک کا واحد ذریعہ ہے صرف طبعی علوم (Physical Sciences) کو گردانتا ہے۔ لبرلزم کا تصور عین جہالت ہے۔ چونکہ لبرلزم کے مطابق علم کی بنیاد ایمان نہیں بلکہ ریب (doubt) ہے۔ جیسا کہ Popper نے کہا ”صرف وہ حق ہے جس کو جھٹلایا جاسکتا ہے۔” لبرل ”علم” کے حصول کا واحد مقصد تسخیر کائنات ہے۔
(4) جیسا کہ لبرل فلسفی خود اقرار کرتے ہیں طبعی ”علوم” کسی ضابطۂ حیات یا نظام اخلاق کی نشاندہی نہیں کرتے وہ ”valueneutral” ہیں۔ لبرلزم کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ فرد کی پرستش کے باوجود وہ فرد کی داخلی زندگی اس کی داخلی کیفیات کا کوئی ادراک نہیں رکھتا۔ اس کا ”علم” صرف ہیئت (form) اور تعلقات (Structures) تک رسائی رکھتا ہے۔وہ عرفان ذات سے قاصر ہے۔ اس کی دنیا بے نور (disenchanted) ہے چونکہ لبرلزم دل کی دنیا تاریک کردیتا ہے لہٰذا وہ خدا کی موت (God is dead) کا قائل ہے۔
(5) لبرلزم فرد کی شخصیت کو مسخ کردیتا ہے۔ وہ محبت اور عبدیت کی نفی کرکے خودغرضی کو معاشرتی اور شخصی عمل کا واحد محرک تسلیم کرتا ہے۔ لبرل معاشرہ کا نمائندہ فرد خود غرض، سفاک، مفاد پرست اور متکبر ہوتا ہے۔ اس کی تمام تر دلچسپی اس دنیا کے مادی مفادا ت پر مرکوز ہوتی ہے۔ وہ تکاثر کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے اور محبت اور خیرخواہی کی بنیاد پر شخصی تعلقات استوار کرنے سے بتدریج قاصر ہوتا ہے۔
(6) لبرل معاشرہ (Trust) سے خالی ہوتا ہے وہ خیر کی کوئی مستقل تعریف کرنے سے قاصر ہے لہٰذا اشخاص کو سماجی وحدتوں میں جوڑنے کے بجائے توڑتا ہے۔ تمام بنیادی سماجی ادارے لبرل معاشرہ میں شکست ریخت کا شکار ہوتے ہیں۔ مرد اور زن کی تعلق کی بنیاد پر محبت کی بجائے شہوت قرار پاتی ہے اور ہر لبرل معاشرہ لازماً جنسی بے راہ روی کو فروغ دیتا ہے۔ اخلاقی تنزل کی بدترین مثالیں لبرل معاشرہ ہی فراہم کرتی ہے۔
ظاہر ہے اسلام لبرل اقدار، تصورات معاشرت اور نظام سیاست کی مکمل نفی کرتا ہے۔ ایک لبرل جمہوری ریاست میں اسلام کے پنپنے کے مواق بتدریج معدوم ہوجاتے ہیں خود وہ ریاست استواری ہو یا فلاحی ان دنوں قسم کی لبرل ریاستوں کے خلاف انقلابی جدوجہد ناگزیر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دستوری اور فلاحی ریاستوں کو مسمار کرنے کی ایک مربوط اور جامع اسلامی انقلابی حکمت عملی ہے مرتب کی جائے۔
آزادی اور مساوات کے تصورات کی اصل نوعیت کا ادراک عام ہو اور ان اقدار کو ”اسلامیانے اور اسلام جمہوریت اور لبرلزم کا ایک مغلویہ بنانے کی تمام کوششیں ترک کی جائیں۔”







