
انار کزم کیا ہے؟
انار کزم (Anarchism)ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو انیسویں صدی کے اوائل میں ظہور پذیر ہوا اور آج پھر ایک تحریک اور ایک فکر کے طور پر اہمیت اختیار کررہا ہے
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو

انار کزم (Anarchism)ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو انیسویں صدی کے اوائل میں ظہور پذیر ہوا اور آج پھر ایک تحریک اور ایک فکر کے طور پر اہمیت اختیار کررہا ہے

سوشلزم(Socialism)، لبرل ازم اور قوم پرستی کی طرح سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو جواز فراہم کرنے والا ایک نظریہ ہے۔ سوشلزم بذاتِ خود کوئی نظام زندگی نہیں، سوشلزم کے چند بنیادی تصورات کی جڑیں قدیم یونانی اور ایرانی مفکرین کے یہاں ملتی ہیں۔ اور اسی وجہ سے علامہ اقبال نے سوشلزم کو ”مزدکیت” کہا ہے۔

ہندو قوم پرستی(Hindu Nationalism) دراصل ثقافتی قوم پرستی لبرل نیشنل ازم اور رومینٹک نیشنل ازم کا ملغوبہ ہے جس میں آپ کسی حد تک مذہبی قوم پرستی کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔ یعنی ہندو قوم پرستی کے تحت ریاست ایک خاص نسل، گروہ کے حقوق اور سیاسی بقاء کے اظہار کی تاریخی طور پر فطری لحاظ سے وارث ہے

برصغیر کی قوم پرست تحریک نے ایک مسلم شناخت بھی تعمیر کی ہے۔ انیسویں صدی کے آخر تک مسلمانانِ
مساوات اس سلسلہ کے پچھلے مضمون میں عرض کیا تھا کہ سرمایہ داری کا بنیادی عقیدہ” لاالٰہ الاانسان” ہے۔ اس
ورلڈبینک(world Bank) حقیقتاً ایک امریکی تخریب کار ادارہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرکے ایک لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت کو فروغ دیتا ہے
جدیدیت پسند بتائیں گے یا سائنس دان؟ سائنس کیا ہے اورکیا نہیں؟ اس کو سمجھنے، جاننے اور جانچنے
مذہب اور سائنس کی کش مکش : ایک تاریخی جائزہ ٢٨٠ ق:م [280 BC] سے لے کر پندرھویں صدی
آئی ایم ایف کیا چاہتا ہے؟ ڈاکٹر جاویداکبرانصاری- ١٩٨٨ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت نے آئی ایم ایف کے
لبرل ازم (Liberalism)سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کو وہ نظریاتی جواز فراہم کرتا ہے جو تاریخی طور پر سب سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی یورپ میں چودہویں صدی عیسوی سے رائج ہونا شروع ہوا اور اس نظامِ زندگی کی توجیہہ ان عیسائی مفکرین نے کی جو پوپ اور کیتھولک ازم (Catholicism) کے باغی تھے