
فلسفہ جمہوریت کا محاکمہ
فلسفہ جمہوریت کا محاکمہ ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری- اس باب کا موضوع جمہوریت ہے۔ میں یہ کوشش کروں
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو

فلسفہ جمہوریت کا محاکمہ ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری- اس باب کا موضوع جمہوریت ہے۔ میں یہ کوشش کروں

History of Islamic revolutionary movements
اس دلیل کا جائزہ کہ انقلابیوں کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ کیوں موجودہ سیکولر نظام میں اسلام کو محفوظ و غالب نہیں کیا جاسکتا جس کے باعث وہ علماء کو اپنا ہمنوا بنانے میں ناکام رہے؟ ایک ایسی تحریک جو اپنے علماء کو اپنا ہم خیال نہ بنا سکے۔ اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ تمام لوگوں یا اقتدار کو اپنا ہم خیال بنا سکتی ہے عجیب بات ہے اسی لیے ابھی تک کوئی انقلابی تحریک کامیاب نہ ہوئی صرف تحریک پاکستان کامیاب ہوئی جو جمہوری و سیاسی دستوری تھی اور قوم پرستی کی تحریک تھی کیا یہ خیال درست ہے؟

Islami Nizam aur Islami Inqilab
اسلامی انقلاب وہی لوگ لاسکتے ہیں جو اسلامی علمیت اور علوم کا گہرا شعور وادراک رکھتے ہوں اور وہ اسلامی علمیت کی برتری کے قائل ہوں۔ ایسے لوگ ظاہر علمائے کرام کی صفوں میں موجود ہیں۔ جنہوںنے اسلامی علمیت کو سبقاً سبقاً پڑھا اور یہی قال اللہ قال الرسول کو سب سے بہتر جانتے ہیں۔ یہی اس بنیاد پر فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ اللہ کی مرضی کیا ہے۔ سرکار ددعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء ہی کو اپنا وارث قرار دیا ہے اور وہی امامت کے لائق ہیں۔ اسلامی انقلاب پڑھے لکھے باعمل مسلمان نہیں لاسکتے وہ انقلاب میں مدد دے سکتے ہیں۔ لیکن اسلامی انقلاب کے لیے فیصلہ کن حیثیت علمائے کرام ہی کی ہوگی۔ جب باطل نظام سے قوت ٹرانسفر ہوگی تو وہ ظاہر ہے کہ خلاف میں تو بڑا ٹرانسفر نہیں ہوسکتی وہ قوت فطری اسلامی اداروں میں ہی مشتمل ہوگی یعنی مسجد اور مدرسہ ہی پبلک یونٹ اور بنیادی گورننگ یونٹ بن سکتے ہیں۔ اور یہاں صف بندی علماء نے ہی ممکن بنا رکھی ہے۔ اس لیے بھی لامحالہ قیادت مذہب علماء کرام ہی کے حصے میں آئے گا۔

اسلام کا درد رکھنے والوں کیلے سرمایہ دارانہ نظام سے واقفیت کیوں ضروری ہے؟ موجودہ دور کی امتیازی خصوصیت یہ ہے

فریڈمین ہائیک اور نازک ١٨٨٠ء سے لیکر ١٩٣٠ء کی دہائی کے وسط تک نیو کلاسکی فکر غالب رہی اور

آدم اسمتھ (Adam smith)ان اہم غداروںاورملک فروشوںمیںسے تھاجنہوںنے اپنے ملک اسکاٹ لینڈ(Scotland)پرانگریزوں کے تسلط کومستحکم کرنے میںاہم کرداراداکیاانگلستان نے اسکاٹ لینڈ(Scotland)پرقبضہ ١٧٠٧ء میںایک طویل جنگ (جوچودہویںسے اٹھارویںصدی تک وقتاًفوقتاًبھڑکتی رہی )اوروحشیانہ مظالم ڈھانے کے بعدحاصل کیا۔ اسکاٹ لینڈ(Scotland)کوغضب کرنے کے لئے انگریزوںنے جوحکمت عملی اپنائی اس کااہم جزوجنوبی اورمشرقی اسکاٹ لینڈ(Scotland)میںایک غدارقوم فروش اشرافیہ کافروغ تھاجوپہاڑیوں(Highland)کے سرفروش حریت پسندوںکی مخالفت ومخبری کریںاس اشرافیہ کے دواہم ارکان ڈیوڈہیوم(David Hume)اورآدم اسمتھ تھے ۔

کانٹ کے نظریہ کے مطابق فطرت انسانی آزادی اور اٹانومی(Autonomy) کانٹ کے نظریہ کے مطابق فطرت انسانی آزادی اور اٹانومی(Autonomy)کی متقاضی ہے ،جب کہ قوانین فطرت انسان پرجبراًمسلط کرتے ہیںلہٰذافطرت انسانی اورکائناتی نظام (Physical nature)میںتضادہے ، ظاہری اشیاء کوکانٹ فنومینا(Phenomenon)کہتاہے اوراس کے خیال میںان ظاہری اشیاء اور کیفیات کوہم سائنس(Science)کے ذریعے جان سکتے ہیں،اس کے برعکس اشیاء کی حقیقت کووہ نومینون (Neomenon) کہتاہے اوران کوتیقن کے ساتھ لیکن مورالٹی (Morality)ان نومینونNeomenon))کاکچھ نہ کچھ شعورحاصل کرنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔عقل (Reason)کے ذریعے نومینون (Neomenon)کی لا علمی کے با وجود انسان آزادی حاصل کرتاہے اور آزادی تسخیرکائنات کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی ہے

John Locke
جان لاک (John Locke) 1632-1704)) لبرل سر مایہ داری کے موثر تریں فلسفیوں میں شمار کیا جا تا ہے۔ اس کے اشارات سرمایہ دارانہ علمیات (Epistemology) پر بھی اتنے گہرے ہیں جتنے سرمایہ دارانہ سیاسیات پر لاک کی علمیات اور اسکے سیاسی فلسفہ میں گہرا تعلق ہے(اس خیال کو لاک کے فرانسیسی پیرئوں نے اصرار کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس ہی بنیاد پر وہ اور لاک کے امریکی پیرئو سیاسیات کو ایک سائنس (Politacal Science) گر دانتے ہیں۔

عیسائیت کی شکست اور جدید یورپ کی ابتداء بنی اسرائیل کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت سے

تنویری عقلیت (Enlightenment Epistemology) کی سرمایہ دارانہ تنقید پوسٹ ماڈرن ازم (Post-Modernism) ہے