فریڈمین ہائیک اور نازک

فریڈمین ہائیک اور نازک

                ١٨٨٠ء سے لیکر  ١٩٣٠ء کی دہائی کے وسط تک نیو کلاسکی فکر غالب رہی اور برطانیہ اور امریکہ میں پا لیسی سازی عموماً اس ہی مکتب فکر کی تعلیمات کے مطابق ہوتی رہی(یہ بات جرمنی ،جاپان اورروس کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی ان تینوں ممالک میں قوم پرست سرمایہ دارانہ پالیسیاں اختیارکی گئیں اورامریکہ میں بھی کسی حد تک قوم پرستانہ فکرکی بنیادپرپالیسی سازی کی جاتی رہی ۔١٩١٧ء میں روس  میں سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب برپاہوگیا۔)۔١٩٢٩ء کی عظیم کساد بازاری (Great Depression)نے نیو کلاسیکی فکر کو بڑا دھچکا لگایا۔ بیشترسٹے کے بازارشدیدبحران کاشکارہوگئے اوریورپ اورامریکہ میں کروڑوں لوگ بے روزگارہوگئے ۔روزویلٹ (Franklin Rozevelt)کے امریکہ کے صدربننے کے بعدقومی پالیسی سازی کینز کی فکرپرمرتب ہونے لگی ١٩٣٧ء سے ١٩٧٩ء کادورKeynesianفکرکے غلبے کادورہے ۔Keynesian فکرسوشل ڈیموکریٹ (Social Democrat )پالیسی سازی کی بنیادفراہم کرتی ہے۔

                ١٩٧٠ء کی دہائی میں نیوکلاسیکل فکر کااحیاء عمل میں آیااورپہلے تھیچر(Thatcher)نے برطانیہ میں اورپھرریگن(Reagan)نے امریکہ میں نیوکلاسیکل نظریات کی بنیادپرپالیسی سازی مرتب کرناشروع کی ۔اس کے بعدجرمنی اورفرانس اوراٹلی کی سوشل ڈیموکریٹ(social democratic)حکومت تک نے نیوکلاسیکل فکرکوہی اپنی پالیسی سازی کی بنیادبنالیااوراقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ آئی ایم ایف ڈبلیوٹی او(جس کوپہلے GATTکہتے تھے )،ورلڈبینک ،اسلامی ڈیویلپمنٹ بینک وغیرہ، نیوکلاسیکی پالیسیوں کوپوری دنیاپرمسلط کرنے لگے اس دورمیں کئی مالیاتی بحران آئے اورسب سے شدیدبحران ٢٠٠٧ء میں امریکہ میں آیاجس نے بہت سے بینکوں اورکئی یورپی ممالک کودیوالیہ کرکے رکھ دیا(مثلاًیونان،آئرلینڈ،پرتگال،ہنگری اور اسپین   وغیرہ )اورحکومتوں کوکھربوں ڈالربینکوں کوبچانے (Bail out)کے لئے خرچ کرناپڑے لیکن ان بحرانوں کے باوجودنیوکلاسیکل فکرکاکوئی متبادل نظریاتیparadigmeقائم نہ ہوسکااورآج بھی دنیابھرمیں پالیسی سازی نیوکلاسیکل بنیادپرہوتی ہے (یہ استثناء چین اورچھوٹے لاطینی افریقی ممالک)۔نیوکلاسیکی احیائی فکرمیں جن تین اہم مفکرین نام آتے ہیں وہ  ہائیک(Hayek)،فریڈمین(Fried man)اورنازک(Nozick) ہیں ۔تھیچر (Thatcher) اورریگن(Reagan)دونوں Hayek کے مریدہونے کااقرارکرتے تھے )،فریڈمین اکنامسٹ،اورنازک پولیٹیکل سائینٹسٹ (Political scientist)ہے۔

                ریاستی سرمایہ کاری کی تنقید :

                کینزینز(Keynesians)کی رائے میں بے روزگاری کوختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ان شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری(public investment) کرے جہاں شرح منافع نجی سرمایہ کاری کوکھینچ کرلانے کے لئے ناکافی ہے ۔Hayekکی رائے میں سرکاری سرمایہ کاری آزاد معیشت کوتباہ کردیتی ہے اورایک سوشل ڈیموکریٹ اورایک سوشلسٹ معیشت میں انفرادی آزادی برقرار نہیں رہ سکتی ۔ہائیک ،Mengerاور  Boh Baverck  کا پیرو تھا اوراس نے ١٩٣٠ء کی دہائی سے کینزن افکارکی تنقید شروع کردی تھی (لیکن ہائیک کے خیالات کی سیاسی پذیرائی ١٩٨٠ء کی دہائی میں نصیب ہوئی )ہائیک کہتاہے کہ ایک آزادمعیشت میں استحکام اورترقی خودبخود(automaticaly)رونماہوتی ہے اورحکومت کی معیشت پراثراندازی اورمارکیٹ کوregulateکرنے کی تمام کوششیں لازماًناکام ہوتی ہیں معیشت کے استحکام اورترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ مزدورسوداکارانجمنوں (Trade unions)کاکردارہے سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں ان Trade unionکی اعانت سے ہی قائم ہوتی ہیں اورلیبرمارکیٹ میں یہ ٹریڈیونینوں کوقانونی حمایت اوردیگرمراعات فراہم کرتی ہیں ۔یونینیں ہڑتالوں کی دھمکی دے کر اپنی سوداکاری کے نتیجے میں اجرت کواس کے متوازن سطح سے بہت بلندکردیتی ہیں آجریہ اجرتی بوجھ برداشت نہیں کرسکتے اوربے روزگاری میں اضافے کی بنیادی وجہ یہی ہے لہٰذاہائیک کی رائے میں یونینوں کے حقوق کوتوسیع کرنے کے لئے سوشل ڈیموکریٹ حکومت جوقانون سازی کرتی ہے وہ سرمایہ دارانہ معیشت کے استحکام اورترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے حکومتوں کویونین کی سوداکاری کی قوت کومنہدم کردیناچاہئےThatcherاورReaganنے ہائیک کی تجویزپرپوری تندہی سے عمل کیا۔لیکن ہائیک نیوکلاسیکی اکنامسٹ کے تصورتوازن (Equilibrium)کوردکرتاہے ۔مارکیٹ کبھی قرار(Static)کی حالت میں نہیں رہتاتوازنEquilibrumہمیشہ بگڑتارہتاہے اورمسابقت (Competition)ایسے نتائج پیداکرتی رہتی ہے جوتوقعات سے مختلف ہوتے ہیں ۔مارکیٹ توازن نہیں بلکہ   نظم     Order پیداکرتاہے اوریہ نظام ان معنوں میں بہترین (Optimal)ہوتاہے کہ یہ آزادی (Liberties)  زیادہ سے زیادہ  Maximise   کرتاہے ،ہائیک کے مطابق مارکیٹ جوناہمواری پیداکرتی ہے وہ سرمایہ دارانہ عدل قائم نہیں کرتی یعنی عوامل پیداوار(Fector of production)کوان کی marginal productivityکے مطابق معاوضے نہیں دیئے جاتے ۔ہائیک کہتاہے کہ مارکیٹ میں تقسیم وسائل عادلانہ نہیں ہوسکتی کیونکہ کوئی فردیاادارہ تقسیم نہیں کرتابلکہ یہ تقسیم خودبخود(spontaneously)لین دین کے عمل کے نتیجے میں مستقل تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہتی ہے ۔ہائیک سرمایہ دارانہ عدل کے نیوکلاسیکل تصورکرردنہیں کرتانہ اس کے علاوہ کوئی دوسراتصورعدل پیش کرتاہے اس کاخیال ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل کا نیوکلاسیکی تصوردرست ہے لیکن ناقابل حصول ہے یہ رویہ کے سرمایہ دارانہ تصور،عقائداورنظریات کودرست بھی اورناقابل حصول بھی بیک وقت تسلیم کیاجائے گاPost modernismکہلاتاہے اورہم آئندہ ابواب میں کئی Post modernestسرمایہ دارانہ نقیبوں کی فکرکاتجزیہ پیش کریں گے کچھ لوگوں نے  ہائیک کی فکرکی Post modernistتشریح پیش کی ہے ۔

                ہائیک کی فکرکی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظم کی کارفرمائی (operation) میں سرمایہ دارانہ زرجوکرداراداکرتاہے اس کے بارے میں میں مبہم اورمتضاد(Contradictory)آراء اپنی تحریروں میں پیش کرتاہے سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارنہ زرہی تقابل قدرExchange value))کے ناپنے کاپیمانہ ہے اورسرمایہ دارانہ زراپنی مارکیٹوں (Money market and capital market)کے ذریعے ہی سرمایہ دارانہ نظام زندگی پرحکومت کرتاہے ۔سرمایہ دارانہ زرکے کرداراورحیثیت کوسمجھے بغیرسرمایہ دارانہ نظم (Order)کی تفہیم کی جاچکی ہے اس کی تفصیل فریڈمینFreidmanکی فکرکے تجزئے میں اس ہی باب میں بیان کی گئی ہے ۔

                ہائیک کے مطابق لچک داراجرتی نظام(Flexible wage system)کاوجودہی بے روزگاری کوختم کرنے کے لئے ضروری ہے لیکن وہ اوراس کے پیرواس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فطری سطح بے روزگاری(National rate of unemployment)ہوتی ہے ۔اجرتوں کی متوازن سطح Equlibrium wage levelوہ ہے جواجرت کولیبرکی اختتامی پیداواری صلاحیت(Marginal productivity)کے برابرکردے جیسے جیسے سرمایہ دارانہ معیشت ترقی کرتی ہے مشینری(Physical capital)لیبرکوپیداواری عمل سے بے دخل کرتی چلی جاتی ہے مثلاًکمپیوٹرکے عام استعمال سے ہزاروں لاکھوں کلرک اورسیکرٹری وغیرہ بے روزگارہوتے ہیں اورایسے افراد جن کی کمپیوٹراستعمال کرنے کی صلاحیت مارکیٹ ضروریات کے برابرہوامریکہ اوریورپ کے ممالک تک میں نہایت محدودہے لہذاہرسال بے روزگاری کی شرح میں اضافے کی توقع سرمایہ دارانہ پیداواری اورکاروباری عمل کی خودکاری (automation)اور technicalisasion کی وجہ سے بڑھتی جاتی ہے اوراس معاشی عمل کی  technicalisasionکے نتیجے میں بڑھنے والی بے روزگاری کوnatural rate of employmentکہاجاتاہے ۔

                ہائیک اس بات کابھی اقرارکرتاہے کہ جیسے جیسے ٹیکنیکل پروگریس) (Technal progress وقوع پذیرہوگی ویسے ویسے آمدنی اجرت کی تقسیمی نامساویت asset and income distributional inequalitiesمیں اضافہ ہوگا۔منیجرز،حصص کنندگان اورساہوکاروں کی آمدنی اوردولت میں ہوشربااضافہ ہوگااورعوام مقابلتاًمحروم ہوتے چلے جائیں گے جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام ترقی کرتاہے تقابلی افلاس (realitive poverty)میں اضافہ ہوتاچلاجاتاہے گوکہ حقیقی افلاس (absolute poverty)کم ہوتی چلی جاتی ہے مثلاً١٩٧٠ء کے بعدسے اب تک ایک عام امریکی کامعیارزندگی مستقل بڑھ رہاہے ۔اس بات کے باوجود کہ امریکہ میں اوسط آمدنی (median income)اپنی قوت خرید(Perchasing power)کے لحاظ سے ١٩٧٠ء سے لے کر٢٠١٣  ء تک منجمدرہی ہے اورStandard of livingمیں اضافہ آمدنی کے ذریعے نہیں بلکہ بینکوں سے قرضہ لے کرممکن ہوسکاآمدنی (قوت خرید کے لحاظ سے )منجمدہے لیکن اخراجات کے مستقل اضافے کے نتیجہ میں امریکہ میں    ٢٠٠٧ء میں بینکاری کاجوبحران رونما ہوااس پرابھی تک پوری طورپرقابونہ پایاجاسکا۔ایک عام امریکی کے اخراجات میں مستقل اضافہ اس وجہ سے ہورہاہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اس کی حرص وحسدکومستقل بڑھاتاہے سرمایہ دارانہ نظام کی یہ خصوصیت ہے کہ خواہشات ہمیشہ وسائل سے زیادہ تیز رفتاری سے بڑھتی ہیں ہرہیومن بینگ اپنی آزادی (تعیشات )میں اضافے کاہمیشہ خواہش مندرہتاہے اس کی آمدنی اوردولت کتنی بھی بڑھ جائے وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتا٢٠٠٩  ء سے امریکہ میں "Occupy wall street” کی جوتحریک جاری ہے وہ اس بات کی غمازہے کہ نامساویانہ تقسیم دولت اورآمدنی نے اس ایک فیصد(One percent)آبادی کے خلاف جس کے پاس قومی دولت کابڑاحصہ ہے عوام نفرت وحسدکوابھاراعوام بھوکوں نہیں مررہے عوام کی سطح زندگی Standard of livingمیں مستقل اضافہ ہورہاہے لیکن ایک فیصداشرافیہ کے طرزبودوباش عوام کی نظروں میں بھی ہے (میڈیااورصنعت اشتہارات Advertisingکی وجہ سے )اوران کی دسترس سے باہربھی ہوتاچلاجارہاہے دولت اورآمدنی کی مساویانہ تقسیم میں مستقل اضافہ عوام میں بے چینی ،دہشت گردی اورعدم تحفظ کااحساس پیداکررہی ہے ہائیک کواس با ت کااحساس ہے کہ بڑھتی ہوئی تقسیمی ناہمواریاں (distributional inequlities)سرمایہ دارانہ پروگریسProgressکے لئے ناگزیربھی ہیں اورپرخطربھی ۔لیکن اس خطرے کوٹالنے کے لئے سرمایہ دارانہ ریاست کے سوشل امدادی پروگرام کوئی منضبط کردارادانہیں کرسکے سرمایہ دارانہ ریاست کوتقسیم دولت اورآمدنی کے عمل میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے  اس رائے کی سب سے واضح (rigorous)تشریح ہائیک کے امریکی شاگردبالخصوص LucasاورSargentنے١٩٨٠ ء کی دہائی میں پیش کی اس مکتب فکرکوNew classical school(جدیدکلاسیکل مکتب فکر)کہاجاتاہے ۔

                ان جدیدکلاسیکل اکنامسٹ (New classical economist)نے ١٩٧٠ء میں رونماہونے والے  تورم (Inflation)  کاذمہ دارسرمایہ دارانہ حکومتوں کی ان میکرواکنامک(Macro economic)پالیسیوں کوٹھہرایاجس کے ذریعے ان حکومتوں نے تعین قیمت کے عمل میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی تھی جدیدکلاسیکل اکنامسٹ کے مطابق کینز(Keynes)کے پیروکاریہ بات فراموش کرگئے کہ سرمایہ دارانہ میکرواکنامکس (Macroeconomics)کوسرمایہ دارانہ انفرادیت کی بنیادوں پرقائم کیاجاناچاہئے ۔ہرسرمایہ دارانہ صارف ساہوکاراوربیوپاری سرمایہ دارانہ عقلیت کاحامل ہوتاہے اس کی توقعات سرمایہ دارانہ معقولیت کااظہارکرتی ہیں اس چیزکوrational expectationکہتے ہیں ہرسرمایہ دارانہ فرد(خواہ وہ صارف ہو،ساہوکارہویابیوپاری ہو)اپنے انفرادی یوٹیلیٹی کوMaximiseکرنے کی جستجوکرناچاہئے لہٰذاسرمایہ دارانہ مارکیٹ اصولاًہمیشہ بہترین(optimal)نتائج  برآمدکرتے ہیں اسمتھ کادست غیب(Invisible hand)مارکیٹوں کے ذریعے وسائل کی بہترین تقسیم (optimum distribution)عمل میں لاتے ہیں ۔اگرمارکیٹوں میں ریاستی مداخلت ختم کردی جائے تووہ خودبخود(sponteneously)کسادبازاری کوختم کردیں گے۔بقول جدیدکلاسیکی اکنامسٹس کسادبازاری (recession)خودبخوددفع آجروں (entrepreners)کے عمل کے نتیجے میں ہوتی ہے حکومت کااصل کام یہ ہے کہ وہ مارکیٹوں کو زیادہ سے زیادہ خودکاری کے مواقع فراہم کرے متعین قیمتوں کے عمل سے مطلق سروکارنہ رکھے اورپیداواری استطاعت کوفروغ دینے کے لئے آجروں پرٹیکس کابوجھ کم سے کم کردے اس مکتبہ فکر کوsupply side economics بھی کہاجاتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ (Keynes)اوراس کے پیروکاروں کے برعکس supply sidersسرمایہ دارانہ حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طلب(Demand) کومتاثرکرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ رسدSupplyکوبڑھانے کے لئے آجروں اورساہوکاروں کومراعات (Incentives)فراہم کریں ۔PrescottاورLafferنے دعویٰ کیاکہ ٹیکسوں میں کمی کرکے مجموعی حکومتی آمدنی میں اضافہ ممکن ہوسکتاہے کیونکہ ٹیکس کے بوجھ کی کمی تیزی سے پیداوارکی بڑھوتری میں اضافے کاباعث بنے گی ان جدید کلاسیکی اکنامس نے حکومتی اخراجات کی کمی پربھی زوردیااورسرمایہ دارانہ حکومتوں کی زرکی تشکیلیت کے عمل کومحدودکرنے پربھی زوردیا(جدید کلاسیکی اکنامسٹس کی زرعی پولیسی(Monetory policy)کی تفصیل اگلے سیکشن میں بیان کی گئی ہے )جدیدکلاسیکی نجکاری  privatisationاورمارکیٹ کی تحکیم کی کمی (deregulation)کے پرزورحامی ہیں ہائیک کے وہ آسٹرین (Austrian)پیروجوSchumpterکی فکرسے بھی متاثرہیں مارکیٹ کہ خودبخودتوازن اورعمومی تطبیق General equiliberium(General equiliberiumکاتصوروالرا (Walras)نے پیش کیاوالرس کاکہناتھاکہ اشیاء کی مارکیٹ (Goods market)لیبرمارکیٹ اوراثاثے کی مارکیٹ (Asset or financial market)میں ایساربط موجودہے کہ جب ایک مارکیٹ میں توازن قائم کرنے والی قوتیں متحرک ہوتی ہیں تو وہ دوسری مارکیٹوں میں ہم آہنگ قوتوں کو متحرک کرکے وہاں بھی توازن (equiliberium)پیداکردیتی ہیں اگرکپڑے کی قیمت کااضافہ ہوگاتوکپڑابنانے والے مزدوروں کی اجرت اورکپڑے کے کارخانہ داروں کے منافع اوران کوقرضہ دینے والیے ساہوکاروں کے سود میں بھی اضافہ ہوگاتمام سرمایہ دارانہ مارکیٹ مربوط ہیں اوران میں آہنگ تغیرات اس طرح پیداہوتے ہیں کہ ہرشے اورہرعامل پیداوار(factor of production)کی رسدوطلب برابرہوجاتی ہیں یہ General equiliberiumہے اوراس بنیادپرجوقیمتیں اشیاء اورذرائع پیداوارکے مارکیٹوں میں قائم ہوتی ہیں وہ عادلانہ (Equitable)اوربہترین (Efficent)قیمتیں ہوتی ہیں )پیدانہیں کرتاان مارکیٹوں میں مستقل ناہمواریاں پیداہوتی رہتی ہیں اوراس کے نتیجے میں مسابقت کومحدودکرنے والی اجارہ داریاں (Monopoly)وجودمیں آتی رہتی ہیں اوران ہی اجارہ داریوں کومستحکم کرنے اوران سے بھرپورفائدہ اٹھانے کے لئے آجرنئی نئی ایجادات مارکیٹ میں لاتے ہیں لہٰذامارکیٹ میں عدم توازن کی وجہ سے جوبحران (Crises)پیداہوتے ہیں وہ خودبخودختم ہوجاتے ہیں اورایجادات کے ابھرنے اورایجادات کے ذریعے مسخرہونے کے تسلسل کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام مستقل ترقی کرتارہتاہے اسمتھ ،ریکارڈو،مارکس ،کینزسب نے اس رائے کااظہارکیاتھاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شرح منافع (Rate of profit)میں کمی آتی چلی جائے گی۔ Schumpterاس بات سے انکارکرتاہے اورسرمایہ دارانہ نظم معیشت کے انہدام کے کسی امکان کاقائل نہیں Schumpter،ہائیک کی فکرسے متاثرلیکن اس کوہائیک کاپیرو نہیں کہا جا سکتا ۔ Schumpterطوائفوں کے سرپرست کے طورپرمشہورتھااور١٩٣٠ء کی دہائی میں طوائفوں کی سیاسی اعانت کی وجہ سے مختصرعرصہ کے لئے آسڑیا میں وزیرثقافت اورمالیات رہا۔آسڑیاپرہٹلرکے قبضے کے بعدوہ امریکہ فرارہوگیااورامریکہ میں ہی مرا)Schumpterکے مطابق سرمایہ دارانہ نظام مستقل تخریبی تعمیر(creative distruction)کے عمل سے گزرتارہتاہے اوراس تخریبی تعمیر(جوبحرانوں کی شکل اختیارکرتی ہیں )سے مستقل پروگریس ہوتی رہتی ہے حکومت کواس تخریبی تعمیر(creative distruction)کے عمل کی اپنی پالیسیوں کے ذریعے اعانت کرنی چاہئے اس عمل سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔

                بحیثیت مجموعی ہائیک اوراس کی امریکی اور آسٹرین پیروکارسرمایہ دارانہ حکومت کوسرمایہ دارانہ مارکیٹ کے تابع کرناچاہتے ہیں ایک لبرل سرمایہ دارانہ حکومت کے پاس بنیادی طورپردوپالیسی اقدامات کے مواقع ہوتے ہیں زری پالیسی(monetary policy)کے ذریعے وہ سرمایہ دارانہ زراورشرح سودکومتاثرکرسکتی ہے اورمالی پالیسی (Fiscal policy) کے ذریعے مجموعی صرف (Consumption)اورسرمایہ کاری (Investment)پراثرانداز کیا جاسکتا ہے ان دونوں پالیسیوں کامقصدسرمایہ دارانہ اجتماعی عدل کاقیام اوراستحکام ہے ۔ہائیک کے مطابق اجتماعی عدل (Social justice)ایک لغوتصورہے عدل صرف افرادکے ساتھ ان کے انفرادی حیثیت میں تنفیذقانون ( Rule of Law )کے ذریعے کیاجاسکتاہے ۔ریاست یہ فرض ہیومن رائٹس کی حفاظت اورفروغ کے ذریعے کرتی ہے اورمارکیٹ میں مسابقتی عمل (Competition)بھی انفرادی عدل کوفروغ دیتاہے گوکہ اجارہ داریوں کافروغ اوردیگرپیداواری اورتقسیمی ناہمواریاں مارکیٹ میں حادثات  کے ذریعے ناانصافیاں بھی پیدا کرتی ہیں ہائیک کی رائے میں سرمایہ دارانہ حکومت کوان ناانصافیوں کورفع کرنے کے لئے مالی(Fiscal)اورزری Monatoryپالیسی کواستعمال نہیں کرناچاہئے۔فریڈمین(Freid man)اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتافریڈمین کے خیالات کاتجزیہ پیش کرنے سے قبل یہ سمجھاناضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ زرکیاہے ۔

                سرمایہ دارانہ زر:

                جیساکہ پہلے عرض کیا گیا کہ سرمایہ دارانہ زر وہ زر ہے جو اپنی مقدار میں اضافے کے لئے معاشرے میں مستقل گردش کرتا رہتا ہے۔سرمایہ دارانہ زر سرمایہ کی تجسیم (Concrete form)ہے  سرمایہ کی اصلیت، یعنی اس کی روح حرث اور حسد ہے، زر اور سرمایہ دارانہ زر کے فرق کو سمجھنے کے لئے ایک مثالیہ پیش خدمت ہے

                ادریس بازار میں کپڑافرخت کرنے کے لئے لاتا ہے، اس کپڑ ے کو وہ زر میں تبدیل کرتا ہے اور اس زر کو اپنے بچوں کے لئے کھاتاخریدنے کے لئے استعمال کرتا ہے یعنی      

                                                                                 C  -> M – C1

                اس اشاریہ میں   C سے مراد کپڑا ہے ، M سے مراد زر ہے اور C سے مراد کھانا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے

                ٠  ادریس کے خرید و فرخت ، صنعت کاری اور صرف (Exchange, production and Consumption) کا مقصد اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہے

                ٠  زر  (M) وہ زریعہ ہے جس سے کپڑے (C) کو کھانے ((C1  میں تبدیل کیا جاتا ہے۔   

                ٠  C اور C1 مختلف اشیاء ہیں ۔ ان میں فرق مقداری (Quantitative)نہیں خاصیاتی  (Qualitative)ہے۔  اسلامی اقتصادی نظام میں زر یہی کردار ادا کرتا ہے ، زر وہ زریعہ ہو تا ہے جو ضروریات پورے کرنے کا وسیلہ بنایا جاتاہے۔تمام غیر سر مایہ دارانہ نظاموں میں زر کا یہ فطری فعل ہے۔

                اب اس اشاریہ کو دیکھئے            

                                                                                  M                 M1……M11…..M111…………M          

 

                اس اشاریہ کے مطابق میکسویل(Maxwell)زر(M)لے کرمشینری(Mc)خریدتاہے اورمزدوروں (L)کوملازم رکھتاہے تاکہ کپڑا(C)بنائے اس کپڑے سے حاصل شدہ رقم (M1)مزیدزر(M11,M11,………..Mکمانے کے لئے لگاتارہتاہے اس سے واضح ہوتاہے کہ 

                ٠             Maxwellکی خریدوفروخت ،صنعت کاری اورصرف کامقصداپنے قبضہ میں زرکی مقدارکومستقل بڑھاتے رہناہے ۔

                ٠               Maxwellکے پیداواری اورتقسیمی عمل میں شرکت کامقصداپنی ضروریات کوپوراکرنانہیں بحیثیت ایک کامیاب سرمایہ دارکے Robert Maxwellہرمنٹ تقریباً3.6لاکھ                              ڈالرکماتاہے اپنی ضروریات کوپوراکرنے کے لئے اس رقم اعشاریہ1فیصدبھی خرچ نہیں کیاجاسکتا۔ 

                ٠             Maxwellکی کمائی کا99.99فیصدحصہ مزیدسرمایہ کاری میں (یہ سرمایہ دارانہ حکومت کو ٹیکس دینے( میں لازماًصرف ہوتارہتاہے ۔

                سرمایہ دارانہ زر(M-M1-M11……..M?)ہے سرمایہ دارانہ زرکی بڑھوتری کی کوئی انتہاء نہیں یہی بات ?  (Infinity)کاہندسہ ظاہرکرتاہے سرمایہ دارانہ زرحرص وحسدکی تجسیم ہے اورحرص اورحسدکی کوئی انتہاء نہیں (نفوس میں شہوت اورغضب میں لامتناہی اضافہ ہوتارہناممکن ہے )لہٰذاسرمایہ دارانہ زرہندسوں کی شکل اختیارکرتاہے کیونکہ ہندسوں کی بھی کوئی انتہاء نہیں ۔جیساکہ ہم پچھلے باب میں عرض کرچکے ہیں یہودی سٹہ بازڈیوڈریکارڈوکواس بات کااحساس تھاکہ سرمایہ دارانہ زرکاتعلق ہرمرئی شے مثلاًسونا،چاندی سے منقطع کیاجاسکتاہے اورسرمایہ دارانہ مارکیٹ اورسرمایہ دارانہ حکومت اپنے منشاء اورمقاصد کے مطابق سرمایہ دارانہ زرکی مقدارکوخودمتعین کرسکتی ہے اوراس مجبوری سے نجات پاسکتی ہے کہ کسی دھات کی (لازماًمحدود)رسدزرکی مقدارکی بڑھوتری کو مقید (constrain) کرے۔  سرمایہ دارانہ زر نے کئی شکلیں اختیارکی ہیں اوراس کی تاریخ بیان کرنے سے اس وقت فائدہ نہ ہوگاریکارڈوکے وقت تک سرمایہ دارانہ زرکی معروف شکل بینک نوٹ (Bank note)تھی اورجیساکہ باب ٤میں بیان کیاگیاہے ریکارڈونے اس کے اجراء کے ایسے اصول بیان کئے تھے کہ اس کی قدرکاانحصارسونے چاندی پہ کم ہوتاچلاجائے اب سرمایہ دارانہ زرکی اہم ترین شکل کمپیوٹرمیموری     (Computer memory)میں اندراجات ہیں اورہرسرمایہ دارانہ حکومت کاجاری کردہ زران معنوں میں سرمایہ دارانہ زرمیں تبدیل ہوگیاہے کہ 

                ٠             اس کی قدرکاکوئی تعلق کسی مرئی شے (سونا،چاندی وغیرہ)سے نہیں وہ inconvertable(غیرمتبدل )ہے۔ 

                ٠             اس کااجراء اورتقسیم بینکاری نظام کی ذمہ داری ہے۔ 

                ٠             اس کی اجراء اورتقسیم کاواحدمقصدسرمایہ کی مقداری بڑھوتری کی رفتارکوتیزکرناہے ۔

                اب ہم یہ دیکھیں گے کہ سرمایہ دارانہ زرکاپیداواری عمل کیسے منظم ہوتاہے اس عمل کے دوشریک ہیں :

                 1)           مرکزی بینک (مثلاًاسٹیٹ بینک آف پاکستان یاامریکہ کافیڈرل ریزروسسٹم)

                2)            نجی بینک (مثلاًحبیب بینک یابینک آف امریکہ )

                سرمایہ دارانہ زر(سرمایہ دارنہ معاشرے میں غیرسرمایہ دارانہ زرعموماًکرنسی (Currency)کی شکل میں ہوتاہے یہ وہ زرہے جواپنی بڑھوتری کی تلاش میں گردش میں نہیں کرتابلکہ کسی اورمقصدکے لئے استعمال ہوتاہے )کی پیداوارکی عمل ذیل میں دیئے گئے مثالیہ سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

                 1)           سرمایہ دارانہ نظام میں ہربینک عام لوگوں سے ڈپوزٹ(Deposit)کی صورت میں مستقل رقوم حاصل کرتارہتاہے

                2)            ان رقوم کودوحصوں میں تقسیم کرتاہے ۔:

                                ٠٠           ایک حصہ ریزرورکھاجاتاہے اسٹیٹ بینک وہ شرح متعین کرتاہے جس میں ریزرورکھے جاتے ہیں (مثلاًاگراسٹیٹ بینک نے دس فیصدریزروشرح (Reserve ratio)متعین کی توہرسوروپے ڈپوزٹ میں دس روپے ریزرورکھے جائیں گے۔

                                ٠٠           دوسراحصہ بینک  وہ ہے جس کوقرضہ دے کرسودکماتاہے ریزروپرسودنہیں کمایاجاسکتایہ ریزرواسٹیٹ بینک کی تحویل میں ہوتے ہیں ۔ 

                3)            اسٹیٹ بینک سرمایہ دارانہ زرکے پیداواری عمل کی ابتداء اپنی تمسکات (Securities)کسی بینک سے خرید کرکرتاہے ۔

                4)            فرض کیجئے کہ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک سے اپنی ایک لاکھ روپے کی تمسکات خریدی اس کی نتیجے میں ریزرومیں ایک لاکھ کااضافہ ہوگیا۔

                5)            اگرریزروشرح(Reserve ratio)دس فیصدہے توان ایک لاکھ میں سے صرف دس فیصدیعنی دس ہزارروپے ریزرومنجمدکردیئے جائیں گے باقی نوے ہزارروپے نیشنل بینک                         سودکمانے کے لئے قرضے پردے گا۔

                6)            فرض کیجئے نیشنل بینک یہ قرضہ رام داس کودیتاہے جوان نوے ہزارروپوں کو یونائیٹڈبینک کوجمع کرا دیتا ہے۔

                7)            یونائیٹڈان نوے ہزارمیں سے نوہزارروپے (ریزروریشوجودس فیصد ہے اس کے برابر)ریزرومیں رکھ کراکیاسی ہزارروپے ہنومان داس کوقرضہ دے دیتاہے ۔

                8)            ہنومان داس ان اکیاسی ہزارروپوں کوحبیب بینک میں ڈپوزٹ کی حیثیت سے رکھتاہے اورحبیب بینک ان میں سے دس فیصدریزرورکھ کربہترہزارنوسوروپے چھمنی بائی کوقرض دے دیتاہے جووہ الائیڈبینک میں رکھتی ہے لہٰذاصورت حال کچھ یوں بنتی ہے :

                                نیشنل بینک کے ڈیپوزٹ میں اضافہ                        Rs.100,000

                                نیشنل بینک کے ڈیپوزٹ میں اضافہ                        Rs.90,000

                                یونائیٹڈ بینک کے ڈیپوزٹ میں اضافہ                     Rs.81000

                                الائیڈ بینک کے ڈیپوزٹ میں اضافہ                         Rs.72,800

اورسرمایہ دارانہ زرمیں اضافہ اس فامولے کے مطابق ہوتاہے  

                                                                                    ?CM=1/d(?TD)جہاں ?CMسے مرادسرمایہ دارانہ زراضافہ CDسے مراد ریزروریشواورTRسے مرادمجموعی ریزورہیں ہمارے مثالیہ میں d=0.1(دس فیصد)اورمجموعی ریزروRs.100,000(TR)ہیں لہٰذامجموعی سرمایہ دارانہ زرمیں اضافہ

                                                                                    Rs.100,000   Rs.100,0000=1/0.1xہوگا

                ٠             اسٹیٹ بینک کے Rs.100,000کے تمسکات خریدنے کے نتیجے میں مجموعی سرمایہ دارانہ زرمیں اضافہ Rs.100,0000کاہوا۔ان Rs.100,0000روپوں میں Rs.900,000کمرشل بینکوں نے قرضہ دے کراورایک لاکھ کے تمسکات بیچ کرپیداکئے یعنی سرمایہ دارانہ زرمیں نوے فیصد اضافہ کمرشل بینکوں نے کیامرکزی بینک کے جاری کردہ Reserve moneyپرMo اورمجموعی زرکوBroad money,،M2یاM3کہتے ہیں انگلستان اورامریکہ میں Reserve moneyاورBroad moneyکاعموما2یا3فیصدہوتاہے اوریعنی 98,97فیصدزرڈیپوزٹ لینے والے نجی بینک پیداکرتے ہیں ۔(پاکستان میں 2013ء میں غیرسرمایہ دارانہ زر(یعنی کرنسی)کاBroad monyمیں تناسب ٢٠فیصدہے Reserve monyکاتناسب Broad monyمیں تقریباً٦٧فیصدہے جیسے جیسے پروگریس رونماہوتی ہے ریزورمنی اورکرنسی M3کاتناسب گرتاجاتاہے۔)

                اس سے واضح ہے کہ اسٹیٹ بینک نہیں بلکہ کمرشل بینک سرمایہ دارانہ زرکے اصلی تخلیق کارہیں اسٹیٹ بینک کواس کااختیارنہیں کہ وہ کمرشل بینکوں کی منشاء کی الگ رقم زرکی مقدارمتعین کرے کمرشل بینک قرضہ دے کرسرمایہ دارانہ زرپیداکرتے ہیں وہ قرضہ اپنے منافع کوMaximiseکرنے کے لئے دیتے ہیں (بینکوں کامنافع زیادہ تردوشرح سودمیں فرق پرمنحصرہوتاہے rd-rI،rIوہ سودہے جواپنے قرض داروں سے لیتے ہیں اورrdوہ سودہے جوبینک اپنے ڈیپوزیٹرزکودیتے ہیں )

                کمرشل بینک زرکی پیداواراس کی مانگ کے مطابق بڑھانے پرکسی حدتک مجبوربھی ہوتے ہیں کیونکہ جوقرضہ انہوں نے پہلے دیئے ہوئے ہوتے ہیں وہ جب وقت پرنہیں ملتے توان کوRolloorکرکے نئے قرضوں کی شکل میں ڈھالناپڑتاہے اسی طرح قرض کی طے شدہ حدسے زیادہ               (اس کوOverdraft faciltorکہتے ہیں )کی اجازت بیشترمعاہدوں کاحصہ ہوتی ہے جیسے جیسے کمرشل بینک کے قرضے بڑھتے ہیں ان کی ریزروزرکی مانگ بھی بڑھتی ہے کمرشل بینکوں کی سیالیت (Liquidity)کے تحفظ کے لئے ان کے ریزرومیں اضافہ لازمی ہے لہٰذااگراسٹیٹ بینک مطلوبہ مقدارمیں ریزورنہ بڑھائے توبینک ملک بینکاری کے بحران میں مبتلاہوسکتاہے جیساکہ امریکہ اورکئی یورپی ممالک میں 2007ء کے بعد ہوااوران ممالک کے سینٹرل بینکوں کوکئی سوکھرب ڈالرکی مالیت کاReserve moneyجاری کرکے کمرشل بینکوں کودیوالیہ ہونے سے بچاناپڑا۔ان حالات میں امریکی مرکزی بینک )جسے Federal reserve systemکہتے ہیں )کے کئی صدورنے بارباراعتراف کیاہے کہ مرکزی بینک زرکی مقدار(Money supply)متعین کرنے کی استعدادکھوچکاہے اورجیسے جیسے ایک سرمایہ دارانہ نظام پروگریس(Progress)کمرشل بینکوں کی گرفت اس کے زری نظام (Moneitory system)پرمضبوط ہوتی چلی جاتی ہے جیسے جیسے سرمایہ دارانہ فائینینشل نظام وسعت پذیرہوتاہے نئے نئے فائینینشل ادارے سرمایہ دارانہ زرکی نئی نئی قسمیں متعارف کرتے ہیں ۔ان ایجادات کوNear moneyکہاجاتاہے اوریہ مختلف قسم کی Derivativeکی شکل اختیارکرتے ہیں جونیم تمسکات (Recurities)اورنیم زرہوتے ہیں ان کی رسدپرسینٹرل بینک کاکنٹرول نہ ہونے کے برابرہوتاہے اوران Derivativeپرسینٹرل بینکوں کاعدم کنٹرول 2007ء کے بعدآنے والے عالمی فائینینشل بحران کااہم سبب بنا۔ایک ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ نظام میں سینٹرل بینک کی یہ شرح سودآزادانہ طورپرمتعین کرسکتاہے اورنہ زرکی مقداراس کوشرح سود کاوہ StructureاوررسدReserveزرکی وہ سطح متعین کرنی پڑتی ہے جوکمرشل بینکوں اوردیگرفائینینشل کارپوریشنوں کوبحران سے محفوظ رکھنے کے لئے ناگزیرہوتی ہیں 1973ء کے بعدبین الاقوامی ترسیل زرپرتقریباتمام پابندیاں بتدریج ختم کی جاتی رہی ہیں آج کوئی ملکی زرکسی مرئی شے (سونا،چاندی)میں متبدل ہیں اورہرقومی زرکی تقابلی قدر(Exchange value)سرمایہ دارانہ بازاروں میں متعین ہوتی ہے اورکسی سیٹرل بینک کی نہ اس کی اجازت ہے کہ ملکی زرکی بین الاقوامی ترسیل پرپابندی عائد کرے نہ وہ اس کامجازہے کہ اپنے ملکی زرکی بین الاقوامی تقابلی قدر(Exchange rate)متعین کرے ہرقومی زرکی قدراورتعدادسودخوروں ،سٹے بازوں اورساہوکاروں کی ترجیحات اورضروریات نفع خوری کی ضروریات کے مطابق باہمی رسہ کشی اورمارکیٹ مسابقت (Market compition)کی بنیادپرمتعین کی جاتی ہیں ۔     Green   جواس وقت امریکی سینٹرل بینک کاچیئرمین تھا نے 1993ء میں کہہ دیاتھاکہ اب زرکی مقداراوراس کی تقابلی قدر(خواہ شرح سود کی شکل میں ہویاExchange rateکی شکل میں )کوقومی معاشی پالیسی کے اہداف کے حصول کے لئے استعمال کرناناممکن ہوگیا۔

مانٹرزم

 اب ہم ملٹن فریڈمین(Milton freidman)کے خیالات کے تجزئے کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔فریڈمین بنیادی طورپر کینز (Keynes)کاناقدہے( لیکن کچھ جدیدکلاسیکی اکنامسٹ فریڈمین کوکینزین ہونے کاالزام دیتے ہیں فریڈمین کے کینزپردوبنیادی اعتراضات تھے ۔

                ١۔کینزین پالیسیوں کے نفاذکے نتیجے میں قیمتوں میں مستقل اضافے کارجحان پیداہوتاہے ۔

                ٢۔اوراس کے باوجود بے روزگاری بھی فروغ پاتی ہے ۔

                فریڈمین نے قیمتوں اوربے روزگاری کے ساتھ ساتھ بڑھنے کے رجحان کوStagflationکانام دیاکینزکادعویٰ تھاکہ اگرریاستی سرمایہ کاری کے ذریعے بے روزگاری کوختم کیاگیاتواس کے نتیجے میں قیمتوں کی سطح میں بہت معمولی اضافہ ہوگا۔1970ء کی دہائی میں یورپ اورامریکہ میں قیمتیں تیزی سے بڑھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔فریڈمین نے اس دوہرے عدم توازن کاسبب کینزین مالیاتی اورزری پالیسیوں کی تفویض کوگردانا۔فریڈ مین نے دعویٰ کیاکہ مجموعی طلب آمدنی Aggregate nomenial incomeکااعتبارزرکی مقداراوراس تناسب پرہوتاہے جس کے مطابق لوگ آمدنی کوزرکی شکل میں رکھناچاہتے ہیں چونکہ یہ تناسب بقول فریڈمین مستحکم ہے اوروقت کے ساتھ ساتھ تبدیل نہیں ہوتالہٰذاعملامجموعی طلب صرف مقدارزرکی تبدیلی پرمنحصرہوتی ہے کینزین پالیسیوں نے معیشت میں مقدارزرکوتیزی سے بڑھاسودکوکم کرکے اورقومی اخراجات میں اضافہ کرکے لیکن اس کے نتیجے میں صرف مجموعی طلب میں اضافہ ہوامجموعی رسد میں نہیں لہٰذامقدارزراضافہ کرکے حکومت صرف قیمتیں بڑھاسکتی ہے اورجب قیمتیں بڑھیں گی تواجرتیں بھی بڑھیں گی اورچونکہ مجموعی پیداوارنہیں بڑھی لہٰذااجرتوں کے بڑھنے کے نتیجے میں شرح منافع کم ہوااورمنافع کی کمی کے نتیجے میں روزگارکی فراہمی میں کمی ہوئی ۔یہی Stagnationکی وہ کیفیت ہے جس میں قیمتیں اوربے روزگاری ساتھ ساتھ بڑھتی ہے اوربقول فریڈ مین اورمیٹزلرMetzlerکے کینزین مالی اورزری Fiscal and monetry) ( پالیسیاں Stagflationaryحالات کی ذمہ دارہیں جب زرکی مقدارمیں اضافہ ہوتاہے توشرح سودگرتی ہے (کیونکہ قرضہ سرمایہ دارانہ زرہی میں دئیے جاتے اورسودسرمایہ دارانہ زرمیں قرضہ لینے کی صورت ہے اورجب قرضوں کی مقداربڑھتی ہے توقانون طلب اوررسد(Law of demand and supply)کے مطابق اس کی قیمت

 (شرح سود) میں کمی ہوتی ہے )لیکن فریڈمین اوردیگرMonetoristsکے خیال میں اس سے لوگوں کی آمدنی کوسرمایہ دارانہ زرکی شکل میں رکھنے کے تناسب میں فرق نہیں پڑتااورمجموعی طلب کاواحد(یاسب سے اہم )متعین کنندہ (Determinant)مجموعی مقدارزر(Quantity of money)یہی ہے ۔

                فریڈمین کی اصل دلچسپی Inflationکوکم کرنے کی تھی وہ کہتاہے کہ چونکہ

                                                PQ              change P    =  change O/   change

یعنی قیمتوں میں تغیر    (P  )برابرہے تغیرپیداواریاتقسیم تغیرمقدارزرلہٰذااگرتغیرزرتغیرپیداوارکے برابررکھاجائے توقیمتوں میں اضافہ ناممکن ہے قیمتوں میں اضافہ(Inflation)کوختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مقدارزرمیں اضافے کوحقیقی پیداواری اضافے (change in real GDP)کے برابررکھاجائے                                                                                       If  change O =change M than change  P = O

اورسرمایہ دارانہ حکومت کے لئے مقدارزرمیں اضافہ اورسرمایہ دارانہ حکومت کے لئے مقدارزرمیں اضافہ تو                              حقیقی پیداوار(Real GDP)٢٥۔کے برابررکھناممکن ہے کیونکہ وہ ریزورزرکی واحدبنانے والی ایجنسی ہے اوروہ یہ بھی معلوم کرسکتی ہے کہ ایک خاص مقدار(مثلاًدس فیصد)ریزروزرمیں اضافے کے لئے نتیجے میں کس قدراضافہ مجموعی مقدارزر(M2,M3)میں ہوگا۔

                فریڈمین اوراس کے پیروسمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ حکومت کوبراہ راست بے روزگاری کی سطح کوکم کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کرناچاہئے ۔روزگارپیداکرنے کے لئے حکومت جواخراجات برداشت کرے اس سے محض بجٹ کاخسارہ بڑھتاہے اوربجٹ خسارے میں اضافہ مقدارزرمیں اضافے کااہم ترین جزوہے بجٹ خسارہ بڑھاکرحکومت صرف Inflationکوفروغ دیتی ہے اوراس کے نتیجے میں صرف قیمتیں بڑھتی ہیں مجموعی پیداوارمجموعی روزگارمستقل بنیادوں پرنہیں بڑھ سکتا۔

                تھیچر(Thatcher)اورریگن(Reagen)کی حکومتوں میں 1980ء کی دہائی میں فریڈمین کے نظریات پرعمل کرنے کی کوشش کی اورBank of EnglandاورFedral Reserve Systemکے ذریعے اس چیز کی کوشش کی کہ ملکی ریزروزر(reaserve mony)میں اضافہ اس تناسب سے ہوکہ حقیقی پیداواری اضافہ (growth in real GDP)اورمجموعی رسدزر M3) یا(M2میں اضافہ برابررہے لیکن دونوں حکومتیں یہ کرنے میں بالکل ناکام نہیں اورچندسالوں کے اندراندراس حکمت عملی(جسے Mony supply targettingکہتے ہیں )کوخیربادکہناپڑااس کی وجہ جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں یہ ہے کہ انگلستان اورامریکہ میں ریزروزر(M0)مجموعی رسدزرکاصرف دوتین فیصدہوتاہے مجموعی رسدزرکی 98فیصدمقدارتوکمرشل بینک اوردوسرے فائینینشل ادارے پیداکرتے ہیں سرمایہ دارمعیشت میں مرکزی بینک حکومت کاآلہ کارہوتاہے یہی نہیں بلکہ یہ توملکی اورعالمی سودخوروں ،سٹے بازوں اورساہوکاروں کے تابع ہوتاہے اورریزروزر(M0)کواس خاص حدتک پیداکرناہرسرمایہ دارانہ مرکزی بینک کی مارکیٹ مجبوری (Markite obligation)ہے چونکہ مرکزی بینک خودایک سودخورساہوکارہوتاہے جس کااولین مقصدوجودسرمایہ دارانہ زری مارکیٹوں میں استحکام قائم رکھناہے ۔

                جدیدکلاسیکی اکنامسٹ (New classical economist)٢٧۔نے فریڈمین کوکینزکاگورباچوف (Gorbachev)کہاہے یعنی ہوکینزکی تعلیمات کی ایک ایسی نئی تعبیر٢٨۔(revise version)پیش کرتاہے جس کے نتیجے میں حکومت کامارکیٹ پرتسلط قائم رہے جدیدکلاسیکی اکنامسٹ مارکیٹ پرحکومت کے تسلط کومطلقاًختم کرناچاہتے ہیں جدیدکلاسکی اکنامسٹ کے مطابق ہیومن بینگ اپنی توقعات عقلی بنیادوں پرمتعین کرتے ہیں اس چیزکوReational expectationکہتے ہیں ۔٢٩۔حکومت کی پالیساں لوگوں کودھوکہ نہیں دے سکتیں ۔اگرحکومت مقدارزربڑھادیتی ہے تولوگ فوراپہچان جاتے ہیں کہ اس سے حقیقی معنوں میں نہ اجرت بڑھے گی نہ منافع محض قیمتیں بڑھیں گی لہٰذاپیداوارمیں اضافہ ہوتاہے نہ روزگارمیں حقیقی سرمایہ کاری(real investment)میں ۔محض قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اورزری پالیسی لازماًبالکل ناکام ہوجاتی ہے ۔

 فٹ نوٹ نمبر٢٥۔حقیقی پیداوار(real GDP)سے مرادGDPکی وہ قدرہے جوکسی بنیادی سال (Base year)کی قیمتوں کی بنیادپرموجودGDPشمارکی جائے مثلاًحکومت پاکستان اپنے سالانہ GNPکے تخمینے 2000-2001ء کی قیمتوں کی بنیادپرCalculateکرتی ہے ۔

فٹ نوٹ نمبر٢٦

فٹ نوٹ نمبر٢٧جن میں سب سے مشہورامریکی اکنامسٹ ZucosاورSargeantہیں

فٹ نوٹ نمبر٢٨    اس عمل کوRevisionismکہتے ہیں

فٹ نوٹ نمبر٢٩     کینزکے خیال میں توقعات (expectation)تجرباتی (adaptive)ہوتی ہیں Rationalنہیں ہوتی ۔

جدید کلاسیکی اکنامکس کی ایک شاخ Real Business Cycle Theoryکہلاتی ہے اس نوعیت کے اکنامسٹ اس بات پرزوردیتے ہیں کہ مرکزی بینک مقدارزرمتعین کرنے میں کوئی موثرکردارادانہیں کرسکتاسرمایہ دارانہ زرکی توازنی مقدار(Equlibrium quantity)اس کی مانگ متعین کرتی ہے ۔کمرشل بینک اتنازرتخلیق کرتے ہیں جتناان کے منافع کوMaximiseکرنے کے لئے کسی خاص سطح پرمانگ کے لئے ضروری ہوتاہے ۔

                ہردوسری سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی طرح زرکی مارکیٹ میں بہترین (efficient)اورمنصفانہ (equtable)قیمت (یعنی سود)رسداورطلب میں توازن خودبخود(spontaneously)قائم ہوجاتاہے اورمرکزی بین کواس مارکیٹ میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے اورایک ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معیشت میں مرکزی بینک اس مارکیٹ میں موثردخل اندازی کے قابل بھی نہیں رہتاکیونکہ ریزروزر(M0)اورکرنسی مجموعی زر(M2)کے نتیجے میں فیصدزیادہ نہیں ہوتی ؟؟؟؟؟

                ظاہرہے کہ اکنامکس کے دیگرنظریاتی مکاتب کی طرح یہ اکنامسٹ بھی سرمایہ دارانہ idealisticتصویرپیش کررہے ہیں ۔٣٠۔اوران کابنیادی پیغام یہ ہے کہ عام حالات میں سرمایہ دارانہ مارکیٹ اپنے آپ کوخودregulateکرلیتی ہے اورحکومتی دخل اندازی کی ضرورت کم سے کم رہ جاتی ہے۔٣١اس مکتبہ فکرکی سیاسی اورفلسفیانہ وضاحت Robert nozickنے پیش کی ۔

                سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق

                رابرٹ نازک کی شہرت کی دووجوہات ہیں وہ ٣٢۔John Rawlsکی فکرکاسب سے اہم ناقدہے اوراپنے دورکاہارڈورڈیونیورسٹی کاسب سے باکمال شرابی ماناجاتاہے ۔٣٣۔

                نازک ،لاک (Locke)اورہائیک (Hayek)کاپیروہے وہ اپنے آپ کوLibertarianکہتاہے یعنی ایسالبرل جوانارکسٹوں کے خلاف ریاست کے وجود کی ضرورت کاتوقائل ہے لیکن ریاست کے وجود کوایک ناگزیرشر(neccesary evil)گردانتاہے اورریاست کی معاشرتی مداخلت کوکم ترین(minimise)کرناچاہتاہے ۔جس قسم کے ریاست کے وجودکی ناگزیریت کانازک قائل ہے اس کوminimalistریاست کہتاہے ۔ہائیک اورلاک کی طرح نازک بھی ایک Idealistہے وہ یہ بتاناچاہتاہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کوکیساہوناچاہئے وہ یہ نہیں بتاتاکہ سرمایہ دارانہ لبرل ریاست واقعتا کیسی ہوتی ہے ۔

                لاک کی طرح نازک بھی اسٹیٹ کے وجودکی توجیہ (justification)اپنی بحث کے آغاز کے طورپرلیتاہے ریاست ایک ایسے معاشرے سے خوبخودابھری جہاں نجی سیکورٹی ایجنسیاں فیس لے کرلوگوں کو تحفظ فراہم کرتی تھیں نازک لاک بے برخلاف کسی       معاہدے Social contractکاقائل نہیں یہ خودبخودابھرنے والی ریاست ایک minimalist stateہوتی ہے جس کادائرہ کاراپنے سٹیزن کی جان مال اوررائے کے تحفظ فراہم کرنے تک محدودہوتاہے اس minimalistریاست کودولت کی مارکیٹ میں متعین شدہ تقسیم میں تبدیلی کرنے کاحق نہیں ہوتا۔سرمایہ دارانہ عدل کاقیام مارکیٹ کی ذمہ داری ہے اورسرمایہ دارانہ ریاست مارکیٹ کوتحفظ فراہم کرتی ہے براہ راست عدل کے قیام کے لئے اقدام نہیں کرتی ۔

               

فٹ نوٹ نمبر٣٠     ان اکنامسٹ کی توقعات کے برعکس سرمایہ دارانہ زری بحران عام ہیں اورجیساکہ 2007ء میں آنے والے بحران نے ثابت کردیاان بحرانوں کے دورانیے میں مرکزی بینک کاکردارنہایت اہم ہوجاتاہے کیونکہ وہ ریزروزر(M0)جاری کرکے کمرشل بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچاتاہے ۔

فٹ نوٹ نمبر٣١     لیکن حالات بہت کم ہی Normalرہتے ہیں real busniss cycleنظریات رکھنے والے اکنامسٹ اس بات سے انکارنہیں کرتے کہ ان کے مطابق بحرانوں کاتعلق ایسے بیرونی دھچکوں سے ہوتاہے جس کاreational expectationکی بنیادپراحاطہ نہیں کیاجاسکتایہ دھچکے منفی بھی ہوسکتے ہیں مثلاًافغانستان کی جنگ میں امریکی شکست اورمثبت بھی مثلاInfomation technology کاوسیع استعمال ۔ان دھچکوں کوسہارنے) (absorbمیں سرمایہ دارانہ مارکیٹ وقت لیتی ہے ۔

فٹ نوٹ نمبر٣٢     بیسویں صدی کاسب سے اہم سرمایہ دارانہ سیاسی فلسفی

فٹ نوٹ نمبر٣٣     اپنے پروفیسربننے کی تقریب Nizichنے اٹھارہ بوتلیں شراب (Champaign)کی پی کراساتذہ اورطلباء کے سامنے بہترین رقص (Stripteare)پیش کیایہ واقع Hardvard کی تاریخ میں سنہرنے حروف سے رقم کیاجاتاہے ۔

نازک سرمایہ دارانہ عدل کاایک مخصوص تصورپیش کرتاہے لاک کی طرح نازک بھی عدل کابنیادی تقاضاسرمایہ دارانہ پراپرٹی کے تحفظ کوگردانتاہے ٣٦یہ رالس کے تصور سرمایہ دارانہ ملکیت اوریوٹیلیٹیرین تصورسرمایہ دارانہ ملکیت سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ نازک کے مطابق ریاست کویہ حق نہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ ملکیت میں ایک مختلف تقسیم آمدنی اوروسائل قائم کرنے کے لئے تصرف کرے (رالس اوریوٹیلیٹیرین مفکراس نوعیت کے تصرف کاجوازپیش کرکے اس کی تحدیدکے اصول بیان کرتے ہیں )نازک مطابق لوگوں کابنیادی حق ،حق ملکیت ہی ہے ایک فردجووسائل کرمارکیٹ میں داخل ہوتاہے ان وسائل پرکسی اورکاکوئی حق نہیں اورسرمایہ دارانہ ریاست کسی جوازکوپیش کرکے وسائل سے اس فردکومحروم نہیں کرسکتی ۔فردکے پاس یہ وسائل کہاں سے آئے اورکیاتقسیم ذرائع کہ جس وافر(State of resource distribution)پرمارکیٹ وجود میں آئی وہ عادلانہ ہے ؟یہ سوال نازک نہیں اٹھاتا(اوراس ہی وجہ سے اس کے ناقدین کہتے ہیں کہ نازک کاتصورسرمایہ دارانہ ملکیت اخلاص یعنی Moralنہیں محض قانونی Legalہے )

                سرمایہ دارانہ انفرادیت پراپرٹی متعین کرتی ہے ۔پراپرٹی سرمایہ دارانہ انفرادیت کی شناخت بھی ہے اوراس کی حدود(Boundries)بھی متعین کرتی ہے ۔ریاست کویہ حق کہ انفرادیت کوان متعین کرنے والی ان (Boundries)کومنہدم کرے ۔وہ توان (Boundries)کے تحفظ اورتوسیع کے لئے وجود میں آئی ہے فردکابنیادی حق اس کے تصرف میں سرمایہ دارانہ ملکیت اورتحفظ کافروغ ہے ۔

                نازک کی Theory of entitlemonty(نظریہ حقوق)کے مطابق ہرفرداس پراپرٹی پرتصرف کاحق رکھتاہے جوا س نے مارکیٹ میں داخل ہونے سے قبل فطری تقسیم ذرائع اوردولت کے بنیادپریا مارکیٹ میں کاروبارکے ذریعے حاصل کئے ہوں ۔یہی نازک کاتصورعدل ہے یہ تصوررالس کے تصورعدل سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ رالس قبل ازمارکیٹ تقسیم وسائل کولازماًمنصفانہ تسلیم نہیں کرتا۔یوٹیلیٹیرین تصورعدل سے نازک کاتصورعدل ان معنوں میں مختلف ہے کہ یوٹیلیٹیرین مفکرین اس تقسیم عدل کومنصفانہ گردانتے نہیں جس کے نتیجے میں مجموعی حصول لذات (GNP)،Maximiseہو۔چونکہ نازک مارکیٹ کے کاروبارکے نتیجے میں حاصل شدہ حقوق ملکیت (Entitelment)کوجائز تصورکرتاہے ۔اورچونکہ آئیڈیل مارکیٹ تقسیم وسائل Margnal productivityاورMargnal costکی برابری کے اصول کے مطابق کرتاہے (یعنی ہرذرائع پیداواراوراس کے حامل کووہ اجرت /سود/کرایہ)منافع ملتاہے جواس کے بڑھوتری سرمایہ کے پیداکرنے کے مطابق ہو۔لہٰذانازک اوریوٹیلیٹیرین تصورات سرمایہ دارانہ عدل میں مماثل ہیں ۔

                نازک کی اہم ترین کتاب State and utopia,Anarchky utopiaتصوراتی جنت کوکہتے ہیں اوریورپ میں ان تصوراتی جنتوں کاتخیل اس وقت سے عام ہوا(اٹھارویں صدی کی ابتدائ)جب سے حقیقی جنت پرسے ایمان اٹھناشروع ہوا۔نازک جس خیالی جنت کاخاکہ پیش کرتاہے اس میں ہرفردکے پاس سرمایہ دارانہ ملکیت اس مقدارمیں ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات نفسانی کے مطابق اپنی ذاتی جنت (private heaven)خودتعمیرکرسکے جن لوگوں کے خیالی جنت کے تصورات ایک دوسرے سے مماثل ہوں وہ اس بات میں آزادہوں گے کہ معاشرتیں (Comunities)تعمیرکریں اوررضاکارانہ (voluntary)اپنے وسائل سے ایک دوسرے کی مددکرتی اورتمام افراداورمعاشرتیں ایک ایسی قومی ریاست (Nation state)حصہ ہوجوان کے سرمایہ دارانہ ملکیت حقوق کاتحفظ فراہم کرے گی لیکن اس کے علاوہ اورکچھ نہیں کرے گی۔

                نازک کے مطابق یہ خالی جنت سرمایہ داری کے فطری ارتقاء کے نتیجے میں خودبخود(قائم ہوجائے گی)٣٧۔اس خیالی جنت میں ہرہیومن بینگ کی اپنی پراپرٹی ہوگی وہ اس پراپرٹی کی بنیادپراپنی انفرادی جنت خودتعمیرکرے گا۔

                نازک کے خیالی جنت اورمارکس کی خیالی جنت میں بنیادی مماثلت یہ ہے کہ ان دونوں خیالی جنتوں میں ہرفردمطلقاآزادہوگااورہرفرداپنی خواہشات نفسانی کوپوراکرنے کے قابل ہوگا۔٣٨۔

                ١٩٨٠ء کی دہائی میں امریکہ اوریورپ میں کینزین(Keynesion)پالیسیوں کے خلاف جوردعمل وقوع پذیرہوااس کونیوکنٹروویٹیزم(New controvitism)کہتے ہیں اوران کے پیروکاروں کونیوکان(New Con)کہاجاتاہے ان نیوکان حلقوں نے نازک کی تعلیمات کی بہت قدردانی کی اورنازک کوایک اہم مرشدکادرجہ دیاان نیوکان کامقصدسرمایہ دارانہ ریاست کامارکیٹ میں دخل اندازی کوختم کرناتھانازک کابنیادی پیغام یہ تھاکہ مارکیٹ جوتقسیم وسائل کرتاہے سرمایہ دارانہ ریاست

فٹ نوٹ نمبر٣٦     یادرہے  کہ لاک کے مطابق سرمایہ دارانہ پراپرٹی کے تین مظاہرہیں انسانی جان،آراء اورمال ۔

فٹ نوٹ نمبر٣٧     یہ ٹوکوولے Tocquivilleکاخیال تھاجس نے اٹھارویں صدی میں دعویٰ کیاتھاکہ امریکی سرمایہ داری اس سے ملتی جلتی جنت میں تعمیرکرنے میں ریڈانڈین کے قتل عام کے ذریعے عمل میں لارہی ہے ۔

فٹ نوٹ نمبر٣٨     ان دونوں خیالی جنتوں میں فرق یہ ہے کہ نازک سرمایہ دارانہ ملکیت کے انفرادی اورمارکس سرمایہ دارانہ ملکیت کے اجتماعی تشکیل کاقائل ہے ۔

 

کویہ حق نہیں کہ ٹیکسیشن (Taxation)کے ذریعے اس تقسیم وسائل کواس طرح تبدیل کرے کہ مجموعی قومی وسائل (GNP)میں کم آمدنی والوں کاحصہ بڑھ جائے بقول نازک ایساکرناعدل کے تقاضوں کے خلاف ہے کیونکہ یہ بنیادی ہیومن رائٹ،رائٹ آف پراپرٹی (Right of property)کی تحدیدکرتاہے ۔یورپ اورامریکہ کی نیوکان حکومتوں ٣٩۔کاپورازورٹیکسیشن کوحکومت کے غریبوں کے امدادی اخراجات کوکم کرنے پررہاہے اورنازک بتاتاہے کہ یہی سرمایہ دارانہ عدل کاتقاضہ ہے سرمایہ دارانہ ویلفئیراسٹیٹ(Walfare state)کاقیام سرمایہ دارانہ عدل کے تقاضوں کے منافی ہے اور لوگوں کے حق ملکیت کوٹیکسیشن (Taxation)کے ذریعے محدودکرناان کے انفرادی تشخص(جس کاواحداظہارذاتی پراپرٹی کے اس استعمال سے ہوتاہے جوفرداپنے مخصوص خواہشات نفسانی کوپوراکرنے کے لئے کرتاہے )کوتسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے ٤٠۔نازک منیجمنٹ سائنس(Management science)کی بانی آئن ریند(Ayn Rand)کے اس نظرئیے کی پرزورتائیدکرتاہے کہ معاشرت اورریاست کواس طرح منظم کیاجاناچاہئے کہ کچھ ہیومن بینگ ایک ریشنل(Rational)وجودکے طورپراپنی بقاء کی پیہم جدوجہدجاری رکھ سکے ۔Rationalityوہ عقلیت ہے جوخواہشات نفسانی کے تابع ہے ٤١۔لہٰذاRationalityکوفروغ دینے کے لئے ایک ایسے معاشرتی اورریاستی نظام(یعنی سرمایہ دارانہ نظام)کاوجودضروری ہے جہاں افرادکارائٹ آف پراپرٹی(یعنی ہیومن رائٹس)کومحدودنہ کیاجائے اورافراد Rationality،اپنی پراپرٹی(یعنی جان،مال اورآراء )استعمال کرتے ہوئے اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل کی جدوجہدمستقل جاری رکھ سکیں ۔

                لاک(Lack)کے برخلاف اوررینڈ(Rand)کے مماثل نازک پراپرٹی کی اہم ترین شکل املاک کوتصورکرتاہے٤٢۔لہٰذااس کے لئے یہ سوال بہت اہمیت کاحامل ہے کہ املاک کے حصول کاعادلانہ طریقہ کیاہے نازک کے مطابق حصول املاک دوطریقوں سے جائز ہے ۔

                1۔ہیومن بینگ نے وسائل فطرت  (Nature)میں اپنی محنت شامل کرکے کوئی ملکیت حاصل کی ہوبشرطیکہ اس حصول کے ذریعے دوسرے اس وسائل فطرت سے  محروم نہ کردئیے جائیں ٤٣ ۔

                2۔ملک ایک ایسے معاہدے سے حاصل کی گئی وہ ملکیت منتقل کرنے والااپنی مرضی سے کرے اوراس پر مجبورنہ کیاجائے اس کی عملی شکل مارکیٹ کاکاروبار،وراثت اورتحفوں کی فراہمی شامل ہے اس کے علاوہ املاک میں تصرف ناجائزاورظالمانہ(Unjust)ہے اورسرمایہ دارانہ ریاست کواملاک میں تحکمانہ تصرف کاکوئی حق نہیں ۔

                ان تصورات کونیوکونز(Neo Cons)نے قبول کرکے بڑے پیمانے پہ پالیسی سازی کی بالخصوص ان امریکی ریاستوں میں ری پبلکن پارٹی کے دھڑے Tea partyکواقتدارحاصل ہوا٤٤۔لیکنNozickieonفکرکودوچیلینجوں کاسامناکرناپڑاسب سے اہم چیلنج یہ کہ 2007ء سے جاری بحران نے ثابت کردیاکہ سرمایہ دارانہ ریاست ،سرمایہ دارانہ مارکیٹ ہی کہ آلہ کارہے اورسرمایہ دارانہ ریاست ہی عوام کے ٹیکسوں کواستعمال کرکے بینکوں اوردوسرے فائینینشل اداراوں کودیوالیہ ہونے سے بچاسکتی ہے اس کے نتیجے میں Neo keynesianesاورPost keynesianesکااحیاء رونماہوااوراوباماNeo keynesianesمنہج اپنی پالیسیاں وضع کرتاہے ان منہاج کاتجزیہ ہم سوشل ڈیموکریسی کے باب میں کریں گے۔

                دوسراچیلینج یہ کہ اگرنازک کے تصورسرمایہ دارانہ عدل کوتسلیم کرلیاجائے توامریکہ اوراسرائیل ٤٥۔پرقبضہ سرمایہ دارانہ عدل کے برخلاف ہے اورامریکی اورفلسطینی

فٹ نوٹ نمبر٣٩     Thatalion,Reagen,Merkel,Blair,Bushوغیرہ کی حکومتیں ۔

فٹ نوٹ نمبر٤٠     نازک یہ تسلیم کرتاہے کہ اصولاًیاعملاًیہ ممکن ہے کہ جن لوگوں کے پراپرٹی حقوق محدودکئے جارہے ہیں ان کواس کامعاوضہ (Comensation)دیاجائے لیکن یہ اس کے خیال میں عملاًممکن نہیں ۔

فٹ نوٹ نمبر٤١     دیکھئے وہ ابواب جہاں کانٹ اوراسمتھ کی فکرکاتجزیہ کیاگیاہے ۔

فٹ نوٹ نمبر٤٢     لاک پراپرٹی کااہم ترین جزوآراء یاضمیر(Concecise)کوتصورکرتاہے لاک کے مطابق ہیومن بینگ وہ ہے جس کاضمیرخواہشات نفسانی کی تابع عقلیت کی اطاعت کوحق کے طورپرقبول کرتاہے لاک کے دورمیں اکثریت عیسائیوں کی تھی ۔ریشنل (Rational)ملحدایک قلیل اقلیت تھے لوگوں کو ریشنل ملحد بنانالاک کااصل مشن تھانازک کے دورمیں امریکیوں کی عظیم اکثریت ریشنل ملحدین پرمشتمل تھی ۔

فٹ نوٹ نمبر٤٣     یہ لاک کی Labour theory of valueاورLockeon proviseہے۔

فٹ نوٹ نمبر٤٤     ان ریاستوں میں Tea partyکے کچھ حلقے اپنی ریاست کوامریکی وفاق سے علیحدہ کرنے کی جدوجہدبھی کررہے ہیں لیکن ان کوعوام کی کوئی تائیدحاصل نہیں ۔

فٹ نوٹ نمبر٤٥     اورکشمیرلیکن کشمیرپرہندوستان کے قبضے کاکوئی ذکرامریکی بحثوں میں نہیں ملتا۔

املاک کوان کے ممالک کے قدیمی باشندوں کولوٹادیناچاہئے اس چیلنج کاجواب نازک کے یہودی شاگردڈیوڈلائنز David Lyons٤٦۔نے دیااس نے ثابت کیاکہ امریکی اورفلسطینی املاک پرقبضہ سرمایہ دارانہ عدل کاتقاضہ ہی ہے اوران املاک کی واپسی ظلم عظیم ہوگی۔Lyonsکے استدلال کوہم اس باب کے ضمیمے میں پیش کرتے ہیں ۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں