
فریڈمین ہائیک اور نازک
فریڈمین ہائیک اور نازک ١٨٨٠ء سے لیکر ١٩٣٠ء کی دہائی کے وسط تک نیو کلاسکی فکر غالب رہی اور
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو

فریڈمین ہائیک اور نازک ١٨٨٠ء سے لیکر ١٩٣٠ء کی دہائی کے وسط تک نیو کلاسکی فکر غالب رہی اور

آدم اسمتھ (Adam smith)ان اہم غداروںاورملک فروشوںمیںسے تھاجنہوںنے اپنے ملک اسکاٹ لینڈ(Scotland)پرانگریزوں کے تسلط کومستحکم کرنے میںاہم کرداراداکیاانگلستان نے اسکاٹ لینڈ(Scotland)پرقبضہ ١٧٠٧ء میںایک طویل جنگ (جوچودہویںسے اٹھارویںصدی تک وقتاًفوقتاًبھڑکتی رہی )اوروحشیانہ مظالم ڈھانے کے بعدحاصل کیا۔ اسکاٹ لینڈ(Scotland)کوغضب کرنے کے لئے انگریزوںنے جوحکمت عملی اپنائی اس کااہم جزوجنوبی اورمشرقی اسکاٹ لینڈ(Scotland)میںایک غدارقوم فروش اشرافیہ کافروغ تھاجوپہاڑیوں(Highland)کے سرفروش حریت پسندوںکی مخالفت ومخبری کریںاس اشرافیہ کے دواہم ارکان ڈیوڈہیوم(David Hume)اورآدم اسمتھ تھے ۔

کانٹ کے نظریہ کے مطابق فطرت انسانی آزادی اور اٹانومی(Autonomy) کانٹ کے نظریہ کے مطابق فطرت انسانی آزادی اور اٹانومی(Autonomy)کی متقاضی ہے ،جب کہ قوانین فطرت انسان پرجبراًمسلط کرتے ہیںلہٰذافطرت انسانی اورکائناتی نظام (Physical nature)میںتضادہے ، ظاہری اشیاء کوکانٹ فنومینا(Phenomenon)کہتاہے اوراس کے خیال میںان ظاہری اشیاء اور کیفیات کوہم سائنس(Science)کے ذریعے جان سکتے ہیں،اس کے برعکس اشیاء کی حقیقت کووہ نومینون (Neomenon) کہتاہے اوران کوتیقن کے ساتھ لیکن مورالٹی (Morality)ان نومینونNeomenon))کاکچھ نہ کچھ شعورحاصل کرنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔عقل (Reason)کے ذریعے نومینون (Neomenon)کی لا علمی کے با وجود انسان آزادی حاصل کرتاہے اور آزادی تسخیرکائنات کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی ہے

John Locke
جان لاک (John Locke) 1632-1704)) لبرل سر مایہ داری کے موثر تریں فلسفیوں میں شمار کیا جا تا ہے۔ اس کے اشارات سرمایہ دارانہ علمیات (Epistemology) پر بھی اتنے گہرے ہیں جتنے سرمایہ دارانہ سیاسیات پر لاک کی علمیات اور اسکے سیاسی فلسفہ میں گہرا تعلق ہے(اس خیال کو لاک کے فرانسیسی پیرئوں نے اصرار کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس ہی بنیاد پر وہ اور لاک کے امریکی پیرئو سیاسیات کو ایک سائنس (Politacal Science) گر دانتے ہیں۔