
Sermaya Darana Aqaid – سرمایہ دارانہ عقائد… حصہ دوم
سرمایہ دارانہ عقائد (حصہ دوم) مساوات(Equality) اس سلسلہ کے پچھلے مضمون میں عرض کیا تھا کہ سرمایہ داری
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو

سرمایہ دارانہ عقائد (حصہ دوم) مساوات(Equality) اس سلسلہ کے پچھلے مضمون میں عرض کیا تھا کہ سرمایہ داری

مغرب اور اسلام کا تصور خیر اور حق ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری- اس باب میں اختصار کے ساتھ مغربی
سرمایہ دارانہ معاشرت کو سول سوسائٹی (Civil Society) کہتے ہیں۔ یہ مذہبی معاشرت کی ان معنوں میں رَد ہے کہ اعمال کی اقدار کا تعین (Determination) مذہبی نصوص اور احکام کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ بڑھوتری میں کتنا اضافہ کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں قدر (Value) کی غالب کی شکل قیمت (Price) کی ہوتی ہے۔
انسانیت پرستی کیاہے؟
انسانیت پرستی کی فکر اور اس کے ماتحت علوم انسانی (معاشرتی ومعاشی علوم) کا تانابانا یونانی فکر سے نکلتا ہے جیسا کہ پانچویں صدی قبل مسیح کا یونانی مفکر ’’پروتاغور‘‘ کہتا ہے:
’’انسان کائنات کی تمام اشیاء کا پیمانہ ہے۔‘‘
روشن خیال اعتدال پسندی (Enlightenment moderation) ایک بہت معنی خیز اصطلاح ہے جس کا خصوصاً آج کل حکومتی حلقوں

کسی بھی تہذیب کا انحصار اس کے اقداری نظام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی تہذیب کی ماہیت کو سمجھنے کے